Pakistan

پاکستان سے متعلق مضامین
Ibn-e-Umeed's picture

Making Pakistan a Progressive Welfare State - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید
http://www.ibn-e-Umeed.com/

No votes yet
Ibn-e-Umeed's picture

Why Taxing the POOR all the Time? - By: ibn-e-Umeed

At IMF's recommendations once again, reformed GST is being imposed which'll mean further inflation for the ordinary Pakistanis who are already struggling to survive.

No votes yet
Khwaja Ekram's picture

مسجد ہو،مدرسہ ہو یا کہ خانقاہ ہو

No votes yet
siaksa's picture

پاکستان کا مطلب کیا؟

پاکستان کا مطلب کیا میں بھی کھاوں تو بھی کھا، اس لیے کہ اج پاکستانیوں کو پاکستان کا مطلب سمجھانے والا کوئی نھیں رھا اور ھماری پوری تاریخ ان تین لفظوں میں سمٹ گئی ھے لوٹا، سمیٹا اور فرار، کھتے ھیں جیسا

No votes yet
Ibn-e-Umeed's picture

دہشت گردی : ڈبل ایجنٹ اور ڈبل گیم - Terrorism in Pakistan - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

کے دھرے رہ جاتے ہیں جب دہشت گرد اپنے اہداف تک بآسانی پہنچ کر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں شرکت کے باعث 2002 سے 2010تک پاکستان کو 68 ارب ڈالر یا 5،848 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا اوسط نقصان 8 ارب امریکی ڈالر سالانہ ھے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے انسداد ِ دہشت گردی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے کی نوید آئے روز سنائی جاتی ھے اور قبائلی علاقوں میں باقاعدہ فوجی آپریشن کے دعوے کئے جاتے ہیں اور اخبارات میں آئے دن طالبان دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، لیکن ایک عام شہری ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتا اور اس سلسلے میں عمومی تصور یہی پایا جاتا ھے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ھے وہ کسی گہری سازش کا نتیجہ اور کسی بڑے عالمی استعماری کھیل کاحصہ ھے۔متعلقہ حکومتی اہلکار بشمول

No votes yet
Ibn-e-Umeed's picture

پاکستان : انقلاب کابھوت او ر حکمران اشرافیہ ۔ By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

ہمارا پیارا ملک پاکستان جسے 1947ء میں گورا صاحب تو آذاد کرکے چل دئیے مگر تب سے ان کے گماشتہ بھورے صاحب (جنہیں ہم عرفِ عام میں حکمران اشرافیہ بھی کہتے ہیں) نے ہمیں غلام بنارکھا ھے جو مٹھی گرم کرنے پر کبھی تو پرائیویٹائزیشن کے نام پر قیمتی صنعتی اور معدنی اثاثے اونے پو نے داموں دورِ حاضر کی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے نام کر دیتے ہیں تو کبھی وسیع و عریض ذرخیز نہری زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کی آڑ میں غیر ملکی آقاﺅں کو انعام میں دے دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے شہریوں کو غیر ملکی زرِمبادلہ کمانے کےلئے بیچنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ حتی کہ سامراج کی جنگ میں پیسے لے کر اپنے ہی شہریوں کا قتلِ عام کر کے فرنٹ لائن سٹیٹ کہلوانے میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔

مشہور دانشور ایلن وڈذ کے بقول ہم تاریخ ِانسانی کے اس دور میں رہ رھے ہیں جب سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے معجزات کو انسان کیلئے معمول بناکے رکھ دیا ھے۔ آج ایک انسان کو چاند پر بھیجا جاسکتا ھے اور انسان کئی سیٹلائٹ خلاءمیں بھیج کر کائنات اور ارض وسماء کی ان دیکھی وسعتوں اور ان کے اسرارورموز کو اپنی مٹھی میں لاسکتے ہیں اور لا رھے ہیں نیز نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو نہایت پرآسائش بنا دیا ھے۔ لیکن اسی ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں ہم دیکھتے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں انسان انتہائی ابتدائی اور قدیم ترین سطح کے معیارزندگی کی طرف بتدریج کھنچے چلے جارھے ہیں ۔ پاکستان جیسے ملک میں حالیہ ہولناک سیلاب سے پہلے بھی یہی کیفیت تھی اور مہنگائی، بیروزگاری ، دہشت گردی اورلوڈشیڈنگ کی ماری بیچاری غریب عوام کا جینا پہلے بھی دوبھر ہوا ہوا تھا جبکہ سیلاب کے بعد کروڑوں انسان زندگی کی رمق ڈھونڈنے میں سرگرداں ہوچکے ہیں اور زندگی ھے کہ اس کا دامن ان کروڑوں محروم ومقہورانسانوں کے ہاتھوں سے چھوٹتاہی چلا جارہاھے۔

آج نفرت،بغاوت اور احساس محرومی کی آگ میں جلتا ہوا پاکستان آتش فشاں کے دھانے پرکھڑا ھے۔ اشرافیہ کا نافذ کردہ موجودہ نظام یا نوٹنکی کی اصلیت اب عوام پر واضح ہو چکی ھے کہ یہ ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کر رہا ھے لہذا عوام کی اکثر یت اس نظام سے نا لاں ھے اور اس سے نجات چا ہتی ھے لیکن مراعات یا فتہ طبقہ اس نظام کو ہر حال میں قائم و دائم رکھنا چا ہتا ھے کیونکہ یہ انکے مفادات کا ترجمان اور محافظ ھے۔ پچھلے63سالوں میں چند خاندا نو ں کے غلبے نے پاکستانی عوام کو بغاوت پر آمادہ کر دیا ھے وہی چند چہرے، وہی چند خاندان اور وہی چند نام جو اس ملک کے مقدر کے ساتھ جونکو ں کی طرح چمٹے ہو ئے ہیں اور اسکا خون چوس چوس کر اسے حالتِ نزا ع تک لے آئے ہیں لہذ ا

No votes yet
Ibn-e-Umeed's picture

ایکواڈور: امریکہ کاجمہوریت کش حملہ ناکام - - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

ایک اور عوامی لاطینی رہنما کی منتخب حکومت کے خلاف ارادہِ قتل کی ایف آئی آر میں واشنگٹن کے واضح فنگر پرنٹس ریکارڈ کر لئے گئے ۔ 9/11 کے بعد سے اب تک واشنگٹن یا سی آئی اے نے لاطینی امریکہ میں منتخب انقلابی حکومتوں کے خلاف چار فوجی بغاوتیں کرانے کی کوشش کی ھے، جن میں سے دو کامیاب ہوئیں جبکہ دو ناکام۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کے خلاف ہونڈوراس میں اور ہیٹی میں 2004 ء میں جین برٹرینڈ کی منتخب حکومتوںپر امریکہ سپانسرڈ کامیاب جمہوریت کش حملے کئے گئے جبکہ وینزویلا میں ہیوگو شاویز کے خلاف 2002ءمیں اور ایکواڈور میں رافیل کوریا کے خلاف گزشتہ ہفتے 30 ستمبر 2010ء کو منتخب عوامی حکومتوں کے خلاف ایسے ہی حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ متذکرہ بالا چار جمہوریت کش فوجی حملوں میں سے دو صدر بش جبکہ دو صدراوباما کے دورِ حکومت میں ہوئے۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کی حکومت کے خلاف ہونڈوراس میں کامیاب فوجی بغاوت نے امریکی جنونیوں کو اپنے اگلے ہدف کے طور پرایکواڈور کو نشانہ بنانے کے لئے اُکسایا تاکہ خطے میں ہیوگو شاویزکو تنہا کیا جا سکے۔

Your rating: None Average: 4 (1 vote)
Syndicate content