Other

Other Topic
Khwaja Ekram's picture

عروس البلادکراچی شہر خوں ریز بن گیا

پاکستان کی حکومت گذشتہ تین چار مہینے سے اس فکر میں ہے کہ کس طرح ہندستان کو کشمیر کے نام پر گھیرا جائے۔ کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے جہاں سے پاکستان نے یہ آواز اٹھانے کی کوشش نہی?ں کی کہ ہندستان کشمیر

No votes yet
Farrukh Noor's picture

دُنیا میں اَمن

دُنیا میں اَمن

بقول خواجہ دل محمد دل
شبنم لٹا رہی ہے پھُولوں میں بھر کے موتی۔
بِکھرے ہیں کیا چمن میں ہر سُو سحر کے موتی۔
اٹھکھیلیوں سے تیری بادِ صبا یہ ڈر ہے۔

Your rating: None Average: 3.3 (3 votes)
Ibn-e-Umeed's picture

دہشت گردی : ڈبل ایجنٹ اور ڈبل گیم - Terrorism in Pakistan - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

کے دھرے رہ جاتے ہیں جب دہشت گرد اپنے اہداف تک بآسانی پہنچ کر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں شرکت کے باعث 2002 سے 2010تک پاکستان کو 68 ارب ڈالر یا 5،848 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا اوسط نقصان 8 ارب امریکی ڈالر سالانہ ھے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے انسداد ِ دہشت گردی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے کی نوید آئے روز سنائی جاتی ھے اور قبائلی علاقوں میں باقاعدہ فوجی آپریشن کے دعوے کئے جاتے ہیں اور اخبارات میں آئے دن طالبان دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، لیکن ایک عام شہری ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتا اور اس سلسلے میں عمومی تصور یہی پایا جاتا ھے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ھے وہ کسی گہری سازش کا نتیجہ اور کسی بڑے عالمی استعماری کھیل کاحصہ ھے۔متعلقہ حکومتی اہلکار بشمول

No votes yet
Ibn-e-Umeed's picture

پاکستان : انقلاب کابھوت او ر حکمران اشرافیہ ۔ By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

ہمارا پیارا ملک پاکستان جسے 1947ء میں گورا صاحب تو آذاد کرکے چل دئیے مگر تب سے ان کے گماشتہ بھورے صاحب (جنہیں ہم عرفِ عام میں حکمران اشرافیہ بھی کہتے ہیں) نے ہمیں غلام بنارکھا ھے جو مٹھی گرم کرنے پر کبھی تو پرائیویٹائزیشن کے نام پر قیمتی صنعتی اور معدنی اثاثے اونے پو نے داموں دورِ حاضر کی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے نام کر دیتے ہیں تو کبھی وسیع و عریض ذرخیز نہری زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کی آڑ میں غیر ملکی آقاﺅں کو انعام میں دے دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے شہریوں کو غیر ملکی زرِمبادلہ کمانے کےلئے بیچنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ حتی کہ سامراج کی جنگ میں پیسے لے کر اپنے ہی شہریوں کا قتلِ عام کر کے فرنٹ لائن سٹیٹ کہلوانے میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔

مشہور دانشور ایلن وڈذ کے بقول ہم تاریخ ِانسانی کے اس دور میں رہ رھے ہیں جب سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے معجزات کو انسان کیلئے معمول بناکے رکھ دیا ھے۔ آج ایک انسان کو چاند پر بھیجا جاسکتا ھے اور انسان کئی سیٹلائٹ خلاءمیں بھیج کر کائنات اور ارض وسماء کی ان دیکھی وسعتوں اور ان کے اسرارورموز کو اپنی مٹھی میں لاسکتے ہیں اور لا رھے ہیں نیز نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو نہایت پرآسائش بنا دیا ھے۔ لیکن اسی ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں ہم دیکھتے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں انسان انتہائی ابتدائی اور قدیم ترین سطح کے معیارزندگی کی طرف بتدریج کھنچے چلے جارھے ہیں ۔ پاکستان جیسے ملک میں حالیہ ہولناک سیلاب سے پہلے بھی یہی کیفیت تھی اور مہنگائی، بیروزگاری ، دہشت گردی اورلوڈشیڈنگ کی ماری بیچاری غریب عوام کا جینا پہلے بھی دوبھر ہوا ہوا تھا جبکہ سیلاب کے بعد کروڑوں انسان زندگی کی رمق ڈھونڈنے میں سرگرداں ہوچکے ہیں اور زندگی ھے کہ اس کا دامن ان کروڑوں محروم ومقہورانسانوں کے ہاتھوں سے چھوٹتاہی چلا جارہاھے۔

آج نفرت،بغاوت اور احساس محرومی کی آگ میں جلتا ہوا پاکستان آتش فشاں کے دھانے پرکھڑا ھے۔ اشرافیہ کا نافذ کردہ موجودہ نظام یا نوٹنکی کی اصلیت اب عوام پر واضح ہو چکی ھے کہ یہ ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کر رہا ھے لہذا عوام کی اکثر یت اس نظام سے نا لاں ھے اور اس سے نجات چا ہتی ھے لیکن مراعات یا فتہ طبقہ اس نظام کو ہر حال میں قائم و دائم رکھنا چا ہتا ھے کیونکہ یہ انکے مفادات کا ترجمان اور محافظ ھے۔ پچھلے63سالوں میں چند خاندا نو ں کے غلبے نے پاکستانی عوام کو بغاوت پر آمادہ کر دیا ھے وہی چند چہرے، وہی چند خاندان اور وہی چند نام جو اس ملک کے مقدر کے ساتھ جونکو ں کی طرح چمٹے ہو ئے ہیں اور اسکا خون چوس چوس کر اسے حالتِ نزا ع تک لے آئے ہیں لہذ ا

No votes yet
Ibn-e-Umeed's picture

فلسطین،سامراجی عزائم اور مغربی میڈیا - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

ء1967 میں دیگر علاقوں کے علاوہ مشرقی یروشلم سمیت وسیع مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا وسیع منصوبہ شروع کیا ہوا ھے۔ جہاں اب تک قریباً پانچ لاکھ یہودی آبادکار ایک بہترین سویلین انفراسٹرکچر کے فوائد سے نہ صرف لطف اندوز ہو رھے ہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لئے اسرائیلی فوج کومستقل طور پر مامور رکھا گیا ھے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ ان بستیوں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اسرائیلی معاہدوں کے ڈ رامے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ان بستیوں کے پھیلاؤ کا عمل مسلسل جاری رہا ھے۔ جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سرکاری موقف ھے کہ وہ ان بستیوں کے "بین الاقوامی قانونی جواز" کو تسلیم نہیں کرتا ۔ تاہم امریکہ اسرائیل کی اس توسیع پسندانہ پالیسی میں پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل خفیہ مدد فراہم کرتا رہا ھے۔

امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مبینہ طور پرلکھے گئے ایک خط کی تفصیلات کا انکشاف ہوا ھے جو فلسطینیوں کے ساتھ

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
afzat's picture

کھانی ایک ڈاکوکی

میرا تعلق پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ھے۔ پچھلے دنوں میں اپنے گاءوں گیا ھوا تھا۔
وھاں میرے ساتھہ ایک عجیب سا واقعھ پییش آیا۔ ھمارے قصبے کے بایء پاس پر میں نے ایک نیا

No votes yet
siaksa's picture

۱۷۸۰ کا فرانس اور ۲۰۱۰ کا

اج کا پاکستان ۱۷۸۰ کے اس فرانس کا نقشہ پیش کرھا جب وھاں بے پنھاہ مسائل، ظلم و جبر ، زیادہ سے زیادہ اختیار حاصل کرنے کی حرص، مفاد پرست اور خوشامد ی سیاستدانوں کی کثرت، قانون ، ائین اور ضابطوں کی بے حرم

No votes yet
Syndicate content