Ibn-e-Umeed

Pakistan Army, MI & ISI Need to be Over-Hauled | By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Thu, 06/23/2011 - 04:34

امریکی اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل“ لکھتا ہے کہ چند دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بننے اور اس حملے اور اس سے نمٹنے میں مشکلات نے پاکستان ملٹری کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ پاکستانی فوج عام طور پر پاکستانیوں

Globalization & Economic Disparities - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 05:44

Dr Susan George of Greenpeace says: “Acting globally has become a practical necessity in a world where we are acted upon globally, where decisions affecting our lives are taken at levels, far remote from ordinary democratic practices that no citizen has a hope of influencing them”.

Since the early 70s, major changes have taken place in the global economy. The direction of power has been moving towards regional and global supra-national institutions and out of reach of the democratic controls at the local levels. Among the threads which have come together to form an unmistakable pattern, few developments in the early 70s were the key.

Since its founding by David Rockefeller (Chairman Chase Manhattan Bank) and Zbigniew Brzezinski (Jimmy Carter’s National Security Advisor) in the early 70s, the “Trilateral Commission” has been moving quietly to establish a “borderless” world in which the transnational corporations would be free of interference from the local states, so they could compete effectively in the “new world order”.

دہشت گردی : ڈبل ایجنٹ اور ڈبل گیم - Terrorism in Pakistan - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 05:17

کے دھرے رہ جاتے ہیں جب دہشت گرد اپنے اہداف تک بآسانی پہنچ کر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں شرکت کے باعث 2002 سے 2010تک پاکستان کو 68 ارب ڈالر یا 5،848 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ھے، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا اوسط نقصان 8 ارب امریکی ڈالر سالانہ ھے۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے انسداد ِ دہشت گردی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے کی نوید آئے روز سنائی جاتی ھے اور قبائلی علاقوں میں باقاعدہ فوجی آپریشن کے دعوے کئے جاتے ہیں اور اخبارات میں آئے دن طالبان دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، لیکن ایک عام شہری ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتا اور اس سلسلے میں عمومی تصور یہی پایا جاتا ھے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ھے وہ کسی گہری سازش کا نتیجہ اور کسی بڑے عالمی استعماری کھیل کاحصہ ھے۔متعلقہ حکومتی اہلکار بشمول

پاکستان : انقلاب کابھوت او ر حکمران اشرافیہ ۔ By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 04:58

ہمارا پیارا ملک پاکستان جسے 1947ء میں گورا صاحب تو آذاد کرکے چل دئیے مگر تب سے ان کے گماشتہ بھورے صاحب (جنہیں ہم عرفِ عام میں حکمران اشرافیہ بھی کہتے ہیں) نے ہمیں غلام بنارکھا ھے جو مٹھی گرم کرنے پر کبھی تو پرائیویٹائزیشن کے نام پر قیمتی صنعتی اور معدنی اثاثے اونے پو نے داموں دورِ حاضر کی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے نام کر دیتے ہیں تو کبھی وسیع و عریض ذرخیز نہری زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کی آڑ میں غیر ملکی آقاﺅں کو انعام میں دے دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے شہریوں کو غیر ملکی زرِمبادلہ کمانے کےلئے بیچنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ حتی کہ سامراج کی جنگ میں پیسے لے کر اپنے ہی شہریوں کا قتلِ عام کر کے فرنٹ لائن سٹیٹ کہلوانے میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔

مشہور دانشور ایلن وڈذ کے بقول ہم تاریخ ِانسانی کے اس دور میں رہ رھے ہیں جب سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے معجزات کو انسان کیلئے معمول بناکے رکھ دیا ھے۔ آج ایک انسان کو چاند پر بھیجا جاسکتا ھے اور انسان کئی سیٹلائٹ خلاءمیں بھیج کر کائنات اور ارض وسماء کی ان دیکھی وسعتوں اور ان کے اسرارورموز کو اپنی مٹھی میں لاسکتے ہیں اور لا رھے ہیں نیز نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو نہایت پرآسائش بنا دیا ھے۔ لیکن اسی ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں ہم دیکھتے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں انسان انتہائی ابتدائی اور قدیم ترین سطح کے معیارزندگی کی طرف بتدریج کھنچے چلے جارھے ہیں ۔ پاکستان جیسے ملک میں حالیہ ہولناک سیلاب سے پہلے بھی یہی کیفیت تھی اور مہنگائی، بیروزگاری ، دہشت گردی اورلوڈشیڈنگ کی ماری بیچاری غریب عوام کا جینا پہلے بھی دوبھر ہوا ہوا تھا جبکہ سیلاب کے بعد کروڑوں انسان زندگی کی رمق ڈھونڈنے میں سرگرداں ہوچکے ہیں اور زندگی ھے کہ اس کا دامن ان کروڑوں محروم ومقہورانسانوں کے ہاتھوں سے چھوٹتاہی چلا جارہاھے۔

آج نفرت،بغاوت اور احساس محرومی کی آگ میں جلتا ہوا پاکستان آتش فشاں کے دھانے پرکھڑا ھے۔ اشرافیہ کا نافذ کردہ موجودہ نظام یا نوٹنکی کی اصلیت اب عوام پر واضح ہو چکی ھے کہ یہ ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کر رہا ھے لہذا عوام کی اکثر یت اس نظام سے نا لاں ھے اور اس سے نجات چا ہتی ھے لیکن مراعات یا فتہ طبقہ اس نظام کو ہر حال میں قائم و دائم رکھنا چا ہتا ھے کیونکہ یہ انکے مفادات کا ترجمان اور محافظ ھے۔ پچھلے63سالوں میں چند خاندا نو ں کے غلبے نے پاکستانی عوام کو بغاوت پر آمادہ کر دیا ھے وہی چند چہرے، وہی چند خاندان اور وہی چند نام جو اس ملک کے مقدر کے ساتھ جونکو ں کی طرح چمٹے ہو ئے ہیں اور اسکا خون چوس چوس کر اسے حالتِ نزا ع تک لے آئے ہیں لہذ ا

فلسطین،سامراجی عزائم اور مغربی میڈیا - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 04:31

ء1967 میں دیگر علاقوں کے علاوہ مشرقی یروشلم سمیت وسیع مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا وسیع منصوبہ شروع کیا ہوا ھے۔ جہاں اب تک قریباً پانچ لاکھ یہودی آبادکار ایک بہترین سویلین انفراسٹرکچر کے فوائد سے نہ صرف لطف اندوز ہو رھے ہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لئے اسرائیلی فوج کومستقل طور پر مامور رکھا گیا ھے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ ان بستیوں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے اسرائیلی معاہدوں کے ڈ رامے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ان بستیوں کے پھیلاؤ کا عمل مسلسل جاری رہا ھے۔ جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سرکاری موقف ھے کہ وہ ان بستیوں کے "بین الاقوامی قانونی جواز" کو تسلیم نہیں کرتا ۔ تاہم امریکہ اسرائیل کی اس توسیع پسندانہ پالیسی میں پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل خفیہ مدد فراہم کرتا رہا ھے۔

امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو مبینہ طور پرلکھے گئے ایک خط کی تفصیلات کا انکشاف ہوا ھے جو فلسطینیوں کے ساتھ

ایکواڈور: امریکہ کاجمہوریت کش حملہ ناکام - - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Submitted by Ibn-e-Umeed on Mon, 10/25/2010 - 04:25

ایک اور عوامی لاطینی رہنما کی منتخب حکومت کے خلاف ارادہِ قتل کی ایف آئی آر میں واشنگٹن کے واضح فنگر پرنٹس ریکارڈ کر لئے گئے ۔ 9/11 کے بعد سے اب تک واشنگٹن یا سی آئی اے نے لاطینی امریکہ میں منتخب انقلابی حکومتوں کے خلاف چار فوجی بغاوتیں کرانے کی کوشش کی ھے، جن میں سے دو کامیاب ہوئیں جبکہ دو ناکام۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کے خلاف ہونڈوراس میں اور ہیٹی میں 2004 ء میں جین برٹرینڈ کی منتخب حکومتوںپر امریکہ سپانسرڈ کامیاب جمہوریت کش حملے کئے گئے جبکہ وینزویلا میں ہیوگو شاویز کے خلاف 2002ءمیں اور ایکواڈور میں رافیل کوریا کے خلاف گزشتہ ہفتے 30 ستمبر 2010ء کو منتخب عوامی حکومتوں کے خلاف ایسے ہی حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ متذکرہ بالا چار جمہوریت کش فوجی حملوں میں سے دو صدر بش جبکہ دو صدراوباما کے دورِ حکومت میں ہوئے۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کی حکومت کے خلاف ہونڈوراس میں کامیاب فوجی بغاوت نے امریکی جنونیوں کو اپنے اگلے ہدف کے طور پرایکواڈور کو نشانہ بنانے کے لئے اُکسایا تاکہ خطے میں ہیوگو شاویزکو تنہا کیا جا سکے۔