Tarikh Ke Jabar Ka Dilchasp Khel

Submitted by Atif Aliem on Wed, 04/23/2008 - 20:15

تاریخ کے جبر کا دلچسپ کھیل
عاطف علیم
کالم بعنوان : آہٹ روزنامہ ایکسپریس

کوئی وقت اورحالات کے جبر سے مجبور ہوکر شکوہ کناں ہوا تو روایت ہے کہ روئے مبارک پر شکنیں نمودار ہوئیں اور آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ زمانے کو برا مت کہو، زمانہ خدا ہے‘‘۔یہی ابدی سچ ہے۔طبیعا ت نے بھی اسی کی توثیق کی۔اس سر مست درویش نے کہ نام جس کا آئن سٹائن تھا زمان اور مکان کا حساب کتاب لگاتے ہوئے اسی ابدی سچائی پر صاد کیا کہ یہ وقت ہے جو مطلق ہے اور جو خدائی صفات کا حامل ہے۔ جدید شاعری کے امام ٹی ایس ایلیٹ نے وقت کو ایک مسلسل بہاؤ کا نام دیا جس کے حصے بخرے کئے جاسکتے ہیں نہ اس کے کسی جزو کو الگ سے کاٹ کر اپنی جیب میں ڈالا جاسکتا ہے۔ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم عقل سلیم کی آسانی اور انسانی فہم کے اظہار عجز سے زیادہ کچھ نہیں ۔صرف ایک لمحہ ہے جس میں ہم زندگی کرتے ہیں۔یہی حال ہے اور اس کا پھیلاؤ گذرے ہوئے اور آنے والے زمانوں پر محیط ہے۔جسے ہم ماضی کہتے ہیں وہ اسی موجود لمحے کی گہرائیوں میں ڈوب کو اس کا حصہ بن جاتا ہے اور آنے والا لمحہ بھی اسی کے بطن سے طلوع ہوا کرتا ہے۔سادہ الفاظ میں کہیں تو یوں کہ ماضی کے سائے ہمیشہ ہمارے ہم رکاب رہتے ہیں اور کل جب کٹائی کا موسم آئے گا تو ہم وہی کاٹیں گے جو آج ہم بو نے جارہے ہیں۔
زیربحث معاملہ جبر و قدر کا نہیں ہے آزادی فکر اور آزادی عمل کا ہے۔اور ضمنی بات ہے اس ڈیڈ لاک کی جو جناب آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان بہر حال موجود ہے اور آئندہ بھی کسی نہ کسی طور موجود رہے گا۔معاملات کی صورت یوں ہے کہ ہم سب وقت کی ’’نگرانی‘‘ میں ہیں۔وقت جو صیرفی کائنات ہے ہمیں پرکھتا ہے اور مہلت دیتا ہے کہ ہم اپنی ذاتی ،گروہی اور طبقاتی مجبوریوں سے بلند ہوکر دنیا کی سٹیج پر اپنے کردار کا آزادانہ تعین کرسکیں۔لیکن یہ رتبہ بلند توصرف پیغمبروں اور بہادروں کا نصیب ہے۔ہم الجھاوں میں الجھے ہوئے لوگ اس فہم اور ویژن سے یکسر نہیں تو بہت حد تک محروم ہیں جو ہمیں ذات اور گروہ کے مفادات سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ہمارے اعمال کا دفتر پیشکار کے ہاتھ میں ہے اور وقت سا عظیم ترین منصف انہی اعمال کی روشنی میں ہمارے بارے میں فیصلے صادر کرتا ہے۔ایک اور درویش کارل مارکس نے اسے تاریخ کے جبر کا نام دیا تھا یعنی وقت کے تقاضے بھلے کچھ بھی ہوں اور بھلے ہم ان تقاضوں کو سمجھتے بھی ہوں اور نیک نیتی کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے کیلئے بھی تیار ہوں لیکن یہ سب کچھ اہم نہیں ۔اہم ہماری وہ حدود ہیں جو ہم نے ذاتی کمزوریوںیا اپنے گروہ کو ساتھ لے کر چلنے کی مجبوریوں کے تحت طے کر رکھی ہیں۔سو ہم آئین کی موشگافیوں میں کیوں الجھیں، حالات کی ناسازگاری کو بہانہ کیوں بنائیں اور وقت پر دوش کیوں دھریں؟۔ صاف اقرار کیوں نہ کریں کہ ہم اٹھارہ فروری کے مینڈیٹ کی روح پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اس لئے کہ ہم ماضی کے سایوں کی گرفت میں ہیں اور تاریخ کے جبر نے ہم سے آزادی عمل چھین رکھی ہے۔رہی میثاق جمہوریت اور رہا اعلان مری تو بھئی ان سے کون کافر انکار کرتا ہے لیکن تاریخ کاجبر بھی تو کوئی چیز ہے۔
تاریخ کے جبر کی ایک اور ستم ظریفی ملاحظہ ہو۔قرارداد پاکستان ایک ایسا ترقی پسند اعلامیہ تھا جسے ہمارے بالادستوں نے اپنے حافظوں سے نوچ کر نسیان کی اسی تاریکی کے حوالے کردیا ہے جہاں کہیں بابائے قوم کاگیارہ ستمبر کو دستور ساز اسمبلی میں کیا جانے والاخطاب پڑا ہے۔اگر اس تاریخی قرار داد کے عشر عشیر کو بھی ہم نے اپنا رہنما بنایا ہوتا تو آج ہم ایک پڑھی لکھی اور کھلے دل و دماغ والی قوم ہوتے جو خوشحالی اور معقولیت میں کسی سے پیچھے نہ ہوتی ۔ تاریخ کا جبر تھا کہ ہمیں الجھاوں کی اس دلدل میںاترنا تھا جس سے رہائی کی تاحال کوئی سبیل دکھائی نہیں۔تاریخ کا یہ بھی جبر تھا کہ قیام پاکستان سے قبل یو پی کی مسلمان اشرافیہ کا پنجاب اور سندھ کی جاگیرداری کے ساتھ گٹھ جوڑ بننا تھا۔ لاریب تحریک پاکستان ایک امکانات سے بھر پور تحریک تھی۔امکانات کی ایک دنیا ان محرومیوں کے مارے ہوئے انسانوں کی آرزوؤں سے آباد تھی جو صدیوں کی قید سے رہائی چاہتے تھے۔ امکانات کی ایک اور دنیا اس مہاجر، سندھی اور پنجابی اشرافیہ کیلئے تھی جو آخری ہچکیوں پر تھی اور جسے کسی ایسے ہی شباب آور موقع کی ضرورت تھی۔بیچارے تہی دست عوام موقع سے فائدہ اٹھانا کیا جانیں، جاگیردار اشرافیہ کو وقت نے کمزور ضرور کردیا تھا لیکن وہ اتنی گئی گذری بھی نہیں تھی کہ ایک نئی نویلی ریاست کی رگوں میں اپنے دانت نہ گاڑ سکتی۔اس سے اگلے اکسٹھ سال کی تاریخ اسی واردات کی رنگینی و سنگینی پر مشتمل ہے۔اس سارے دور میں اس اشرافیہ نے ریاستی اداروں اور مذہبی اجارہ داروں کے ساتھ مل کر ملک و قوم کا جو حال کیا وہ سب پر عیاں ہے۔
اٹھارہ فروری کے انتخابات تحریک پاکستان کے بعددوسرا موقع لے کر آئے جب تبدیلی نے ہمارے دروازے پر دستک دی۔گویا وقت ہمیں مزید مہلت دینے پر آمادہ تھا ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرے کو آگے لے کر جانے والی اور عوام کے اندر سے ابھرنے والی قوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہی جاگیر دار کلاس اس نئے سفر میں بھی میر کارواں بن چکی ہے۔اب کی بار فرق یہ تھا کہ ایک طاقتور شہری اشرافیہ بھی اپنا وجود رکھتی تھی جسے ریاستی اقتدار میں حصہ دار بنائے بغیر تبدیلی ممکن نہیں تھی۔اس شہری اشرافیہ کے ریاست کے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ تضادات کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہے کہ گو استحصال اس کا بھی شیوہ ہے لیکن وقت کے اس موڑ پر یہ شہری اشرافیہ عوامی امنگوں کو ساتھ لے کر چلنے پر مجبور ہے۔سو اقتدار میں تو اس کی حصہ داری ہوگئی لیکن ترقی پسندی اور عوام دوستی کا لبادہ اوڑھنے والی دیہی اشرافیہ ریاست پر قابض قوتوںکے خلاف جائے تو کیسے جائے؟۔’’ٹکراؤ کی سیاست‘‘ اس کا مزاج ہے اور نہ یہ اس کے مفاد میں ۔وہ اتنی بھلی مانس ہے کہ اس نے انتقال اقتدار کا مطالبہ نہ ماضی میں کیا نہ آج یہ اس کا مسئلہ ہے۔وہ اپنے طاقتور بھائی بندوں کے ساتھ شراکت اقتدار پر کل بھی آمادہ تھی ، آج بھی ہے۔اس کے برعکس شہری اشرافیہ کو اپنا وجود ثابت کرنے کیلئے انتقال اقتدار چاہیے۔سو ڈیڈ لاک تو اصل میں یہ ہے کہ تمام سیاسی گروہ تاریخ کے اس جبر کا شکار ہیں جو انہیں کوئی دوسرا کردار ادا کرنے ہی نہیں دے رہا ۔بیچاری ’’سینٹر لیفٹ ‘‘جاگیر دار کلاس کو ایک مجبوری یہ بھی آن پڑی ہے کہ وہ سابق دور میں اقتدار پر قابض اپنی ’’نصف بہتر‘‘ یعنی اس دیہی اشرافیہ کو جو قاف لیگ کے نام سے پہچانی جاتی ہے، اپنے ساتھ ملانے کا رسک بھی نہیں لے سکتی جو فکری طور پر تہی دامن ہے اور اپنے کندھوں پر ماضی کے سیاہ اعمال کا بوجھ بھی اٹھائے پھرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی مذکورہ اشرافیہ ایم کیو ایم جیسے کسی سیاسی مافیا پر بھی بھروسہ کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔انہیں ساتھ ملانے کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کا ’’سینٹر لیفٹ‘‘ ہونے کا بھرم بھی جاتا رہا اور وقت کی عدالت میں آپ کا نام بھی انہی گروہوں کے ساتھ پکارا جائے گا۔
ججوں کی بحالی سے پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کا مسئلہ توکسی نہ کسی طور حل ہوہی جائے گا لیکن طبقات کے کردار کے حوالے سے تاریخ کے جبر سے پھوٹنے والا ڈیڈ لاک واقعی ایک پریشان کن صورت ہے یعنی میاں محمد بخش صاحب کے الفاظ میں ’’ روہ نوں کہو ہن روہ محمد ہن جے رویں تے مناں‘‘۔مجبوریوں کی اس رام کہانی میں ہم یہی توقع کرسکتے ہیں کہ وقت آئندہ کبھی مجبور اور مقہور عوام کیلئے بھی امکانات کے در وا کرے گا۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......