Qanoon Tarashiyan

Submitted by Guest (not verified) on Sun, 12/16/2012 - 12:33

قانون تراشی

آٹھٹھارہ ویں سپارے میں قانون کا سبب ،

گزرا تھا محمّد پے جوماہِ مضطرب

بوڑھے نبی کی بیوی تھی نو خیز عایشہ

تھی خیمہ زن سفر میں وہ ہمراہِ قافلہ

حاجت رفع میں تھی کہ سبھی کوچ کر گے

تصدیق جب کیا تو وہ یکدم ٹھہر گے.

ماحول میں تناو ہوا، کھلبلی مچی

کچھ دیربعد عایشہ آتی ہوئی دکھی

تھی اونٹ پھ وہ تنہا، جوان ایک ہم نکیل

منظر وہ دیکھ کر، اُٹھے لوگوں کے دل میں کھیل

اُٹھی دبی زباں میں، بُری چھ مھ گوئیاں

الزام عایشہ پھ لگا سب کے درمیان

لوگوں کی باتیں سُن کے نبی بد گماں ہوئے

دلیل تھی بہتان کی ، وہ ھاں میں ھاں ہوئے

اُس عایشہ کو بوڑھے نے حیران کر دیا

جسکے لئے کہ اسنے سب قربان کر دیا

الله کے رسول کے جبریلِ دورِ بیں

اس واقعیہ کے موقہ پھ پھٹکے نہیں کہیں

اس حادثے سے عایشہ بیمار پڑ گئی

میکے میں جا کے داغِ نموسی میں گڑگئی

اک ماہ عایشہ پھ بلا کا گزر گیا

حربہ ے الہام محمّد کو تب ملا

حضرت پسیجے اور وحیی آ گئی بحق

عمرِ خزاں تھی پیش، ہوا ختم انکا شک

پہنچے جو معاف کرنے کو وہ عایشہ کے گھر

نفرت سے عایشہ نے لیا پھیراپنا سر

گڑھنے لگے نبی وہیی الہام کی کتھا

اسنے کہا "میں کیا ہوں یہ جانے میرا خدا"٠

سمجھا کے باپ بکر نے اسکوبداع کیا

حضرت نے جنسی فعل کا تب جایزہ لیا

پھر زانیوں کے واسطے جرم و سزا بنے

سو سو لگیںگے کوڑے اگر جوڑا کھا گے

ہے شرط چار مرد مسلمان ہوں گواہ

انکے لئے بھی شرع کی لازم ہوئی صلاح

دیکھو کہ سُرمے دانی میں چلتی سلائی سی

دیکھو سلائی نے کہ کیا ڈُُبکی لگی بھی؟

بہتان دھرنے والے پے کوڑے پچاس ہوں

نہ ایسے شاہدین اگر انکے پاس ہوں

گویہ زنا کا کھیل ہو اور ریفری ہوں چار

وہ مردِ آقتھ کی طرح دیکھے بار بار

قانون سازیوں پھ ذرا دھیان دیجئے

خود کو گواہ بننے کا ارمان کیجئے

قانون احمقانہ کو ذی شان کر دیا

یعنی کہ زنا کاری کو آسان کر دیا

شاید ہی کوئی زانی پھنسا ہوگا اس طرح

شاید کوئی گواہ ملا ہوگا اس طرح

کتوں کے واسطے یہ سزا با عمل سی ہے

انکی ہی چسم دید گواہی سہل سی ہے٠

*********************************

ج ٠ مومن

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......