Mubarak Salamat

Atif Aliem's picture

مبارک سلامت
عاطف علیم

فلسفہ تاریخ کے بے بدل عالم ٹائن بی سے اگر کوئی ہمارے گذرے تین سو پینسٹھ دنوں کے بارے میں پوچھتا تو وہ یہی کہتا کہ اے اہل ارض پاک! تم خوش نصیب ہو کہ تمہارے ماتھے پر فتح مندی کی بشارت لکھی گئی۔جانو کہ ایشیا اور افریقہ میں کتنی ایسی اقوام ہیں جو صدیوں سے بادشاہوں اور آمروں کے سیاہ بوجھ تلے جیتے جیتے جمہور کی حکمرانی کا تصور تک فراموش کرچکی ہیں۔تمہارے سینوں پر ایک چھوڑ دو نو مارچ سجے ہیں ۔ تم یقینا تاریخ میں زندہ رہنے کے سزاوار ٹھہرا ئے جاچکے ہو۔
ٹائن بی اپنی بات کہتے ہوئے نو مارچ سے نو مارچ تک ہماری ایک سالہ جدوجہد پر ایک نگاہ ڈالتا اور سینہ پھلا کر کہتا کہ بھئی! میں نے تو بہت پہلے سے لکھ چھوڑا ہے کہ صرف وہی بچے گا جس کے سامنے چیلنج آئیں گے اور وہ انہیں زیر کرتا ہوا اپنی راہ بنائے گا کہ صرف تاریخ کی جانب سے پیش آنے والے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے والی تہذیبیں اور قومیں ہی باقی بچتی ہیں۔تمہارا چیلنج یہ تھا کہ تمہارے حکمرانوں نے تم سے تمہاری آواز چھین لی تھی۔انہوں نے اپنا سارا زور دنیا کو یہ باور کرا نے پر لگارکھا تھا کہ تم لوگ پتھر کے زمانے میں جینے والا ایک ایسا وحشی ہجوم ہو جس کا دل پسند مشغلہ ایک دوسرے کا شکار کھیلنا ہے۔تم لوگ نہ صرف ایک دوسرے کیلئے دہشت اور خطرے کا باعث ہو بلکہ باقی دنیا کو بھی تمہارے وجود سے خطرہ ہے۔وہ تمہارے خرچے پر دنیا بھر میں گھومتے پھرتے اور ہر راہ چلتے کو پکڑ کر باورکرایا کرتے تھے کہ تم لوگ اپنی جہالت اور خونخوار خصلت کے باعث جمہوریت کے لائق ہو نہ اس قابل ہو کہ تمہیں انسانی حقوق کی ہوا بھی لگنے دی جائے۔یاد کرو کہ انہوں نے اپنے آقاؤں کے ساتھ مل کر تمہارے خلاف کیا کیا سازش نہ کی۔تمہاری کیا کیا توہین نہ کی اور تمہیں کیسا کیسا رسوا نہ کیا؟۔یہ وہی تھے جنہوںنے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے تمہیں عالمی برادری سے کاٹ کر رکھ دیا۔صرف ان کی ہوس اقتدار کی وجہ سے تم دنیا بھر میں اچھوت گردانے گئے۔یہاں تک کہ انہوں نے تمہاری شناخت کو تمہارے لئے باعث شرمندگی بنا دیا۔
ٹائن بی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ٹھنڈی سانس بھرتا اور کہتا کہ وائے افسوس تم پر مسلط حاکم بدنیت اور بد نہاد ہی نہ تھے نا اہل بھی تھے۔انہوں نے اپنے طرز کی جمہوریت کے نام پر تمہاری گردنوں پر ایسے لوگوں کو سوار کرادیا جنہوں نے تمہاری زندگی کو عذاب اور مایوسیوں سے عبارت کردیا۔اس طرح کہ تم میں سے بہت سوں کیلئے بچوں سمیت اپنی زندگی کا خاتمہ کرلینا روا ہوچکا تھا۔تمہارے لئے انفرادی سطح پر زندگی گذارنا ایک امر محال تو خیر ہوہی چکا تھا لیکن قومی سطح پر بھی تمہاری بقا پر سوالیہ نشان کھینچ دیا گیا تھا۔گذرے سالوں میں تمہارا یہ حال کردیا گیا تھا کہ تمہارے آقاؤں کے آقا تمہارے مفروضہ شر سے بچنے کیلئے تمہیں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بانٹنے کے درپئے ہوگئے تھے۔
سو اے اہل پاکستان! یہ تھا تمہارا چیلنج جس سے تمہیں نبرد آزما ہونا تھا۔تمہیں یہ فیصلہ بہر حال کرنا تھا کہ تم نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ایک باوقار قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے یا آمریت کے تاریک سایوں میں اپنے وجود کے ہر جواز کو تحلیل کردینا ہے۔تم اسے تاریخ کا جبر کہہ لو یا ایک خوبصورت حادثہ کہ تمہاری زندگیوں میں پردہ غیب سے پہلا نو مارچ طلوع ہوا۔یہ وہ دن تھا جب تمہارے سب سے بڑے منصف نے جج اور جرنیل کی روایتی یاری کو خیر باد کہا اور ایک باوردی حاکم مطلق کے سامنے حرف انکار بلند کردیا۔وہ حرف انکار جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زبان سے نکلا وہ بازگشت تھی اس حرف انکار کی جو تم اپنے اندر چھپائے پھرتے تھے لیکن اس کے اظہار کا حوصلہ نہ رکھتے تھے۔یہی وہ روشن لمحہ تھا جب تم اپنی بے خواب نیند سے جاگ اٹھے۔یہی وہ مبارک گھڑی تھی جب تم نے ایک عظیم چیلنج سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا اور وہ زنجیریں توڑ ڈالیں جو کچے دھاگے سے زیادہ نازک تھیں۔تمہیں درپیش چیلنج کا تقاضا تھا کہ تم اس وقت تک چین سے نہ بیٹھو جب تک تم اپنی راہ میں حائل ریت کی ہر ہر دیوار کو ٹھوکروں سے نہ اڑادو تاکہ تم اپنی کھوئی ہوئی آواز کو پاسکو اور دنیا کو یہ بتاسکو کہ تم ایک مستحکم اکائی ہو اور کوئی تمہیں ٹکڑوں میں بانٹ سکتا ہے نہ ہمیشہ کیلئے تمہیںتمہارے حقوق سے محروم رکھ سکتا ہے ۔تمہیں یہ بھی اعلان کرنا تھاکہ تم اتنے ہی مہذب اور جمہوریت پسند ہو جتنا کہ کوئی اور ہوسکتا ہے۔
فلسفہ تاریخ کا بے بدل عالم ٹائن بی جس کے ضخیم فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ تہذیبوں کی آویزش میں صرف وہی تہذیب زندہ رہتی ہے جو تاریخی عمل کے دوران اپنے سامنے درپیش چیلنجوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہو، نو مارچ سے نومارچ تک کھنچی روشنی کی لکیر کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں آفرین کہتا کہ ہم نے صرف تین سو پینسٹھ دنوں کے اندر اس عظیم چیلنج پر پورا اتر کر دکھا دیا ہے جس سے ہار جانے کی صورت میں ہم ایک کھائے ہوئے بھوسے سے زیادہ کچھ نہ رہتے۔اس ایک سال پر محیط عرصے میں ہمارے اعصاب کو کس کس طرح سے نہ توڑا گیا۔اس دوران ایسے ایسے کام کئے گئے جن کو کرنے کی ہمت کسی جابر ترین حکمران کو بھی نہ ہوئی تھی۔وائے ظلم کہ ایک حکم نامے کے زور پر ہمارا در عدل بند کردیا گیا اور ساٹھ منصفوں کو بچوں سمیت قید کردیا گیا۔اس پر احتجاج کا سلسلہ جو شروع ہوا تو ملک کی فضاؤں کو آنسو گیس کے مرغولوںسے بھردیا گیا۔اس دوران کیا کیا نہ ہوا،ہم پرمسلح گروہ چھوڑ کر ہمارا بارہ مئی بنایا گیا۔ہم پر اٹھارہ اکتوبر کی لہو رنگ رات اتاری گئی۔ہمیں ہمارے گھروں میں بند کردینے کیلئے خود کش حملہ آوروںکے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا اور جب اس پر بھی ہماری کمر ہمت نہ ٹوٹی تو ہم پر ستائیس دسمبر مسلط کردی گئی۔ایک سال کے دوران اتنے عظیم سانحوں میں سے سلامت گذر جانا آسان کام نہ تھا لیکن ہم نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ ہم خود اپنے زندہ رہنے کا جواز ہیں۔اور پھر انعام کے طور پر نو مارچ کے بطن سے ایک اور نو مارچ نے جنم لیا۔ایک نو مارچ نفی سے عبارت تھا تو دوسرا اثبات کی خوشخبری لئے طلوع ہوا تھا۔
منظر یوں تھا کہ نو مارچ کے روز بھوربن کی خنک فضاؤں میں عوام کے حقیقی نمائندے جمع تھے۔انہیں طے یہ کرنا تھا کہ انہوں نے آمریت کے کارندے بن کر ’’تسلسل‘‘ کو جاری رکھنا ہے یا عوام کا حق حکمرانی انہیں واپس لوٹانا ہے۔جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے اورفتح ہمیشہ عزم محکم اور ہمت عالی کا نصیب ٹھہرتی ہے سو عوام کے حقیقی نمائندوں نے اٹھارہ مئی کے عوامی فیصلے کی لاج رکھی اور مبارک سلامت کے شور میں آمریت کے تاریک سایوں کو ہمیشہ کیلئے تاریخ کے کوڑے دان میں دفن کردیا۔اس موقع پر جاری کئے گئے اعلان مری کے بعد ایک عہد تمام ہوا اور ایک نئے عہد کا آغازہوا۔وہ عہد جب رفتہ رفتہ ہی سہی قوم اپنی کھوئی ہوئی آواز کو پانے کے قابل ہوسکے گی۔یہی ٹائن بی کے فلسفہ تاریخ کی روح بھی ہے ۔سو اس سے پوچھا جاتا تو وہ بھی ضرور اس قوم کو مبارک سلامت کہتا جس نے اس کے کہے کو پورا کردکھایا ہے۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

Share this
No votes yet