Malfoozat e Baba Hoch Poch (Satire)

Submitted by Atif Aliem on Tue, 04/08/2008 - 09:45

ملفوظات باباہوچ پوچ ۔1
عاطف علیم

بابا ہوچ پوچ نام ہے ایک مرد نیم دانشمند کا جس نے زندگی میں دانائی کا واحد کام یہ کیا کہ بعد از خرابی بسیاریعنی حسب توفیق دنیا کے دھکے کھانے کے بعد اس نے مان لیا کہ دنیا اس کی دانشوری کا بوجھ اٹھانے کے لائق نہیں۔تب اس نے دنیا کو چھوڑا جو اسے پہلے ہی چھوڑ چکی تھی اور اپنی دانشوری کو بغل میں دبائے ایک قریبی جنگل کی راہ لی۔انسانوں کی دنیا سے مایوس ہونے کے بعد سے بابا ہوچ پوچ جنگلی جانوروں کی ذہنی اور علمی ترقی کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔جنگل کے بیچوں بیچ ان کی جھونپڑی ایک طرح کے لائزیم کا کام دیتی ہے جہاں وہ اپنے تئیں یونانی دانش کا مجسمہ بنے اپنے غبی شاگردوں کو فلسفہ حیات و ممات پر بے ربط لیکچر دیتے دکھائی دیتے ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ بابا ہوچ پوچ اپنے شاگردوں کی شائستگی کے دل سے قائل ہیں اور ان کے سیکھنے کی صلاحیت کو انسانوں سے فزوں تر قرار دیتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وہ جلد ہی یعنی محض دو چار صدیوں کی قلیل مدت میں جنگل کی دنیا کو انسانی دنیا کے ہم پلہ بنا دیں گے۔میری آنکھوں دیکھی بات ہے کہ ان کے شاگردان عزیز اپنے استاد کی خلاقانہ صلاحیتوں کے دل سے معترف ہیں اور وہ انسانوں کی ہمسری کرنے کے مشن میں ان سے کہیں زیادہ پرجوش ہیں۔وہ نہ صرف یہ کہ اپنے استاد محترم سے جھونپڑی کا کرایہ وصول نہیں کرتے بلکہ ان کے کام و دہن کی آزمائش کا سامان بھی برابر مہیا رکھتے ہیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ ان کے ہونہار شاگردوں نے ازلی نالائق اور شر پسند جانوروں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے ان کی سیکورٹی کے بھی کافی و شافی انتظامات کررکھے ہیں۔
میں نے زبانی طیور کی اس دلچسپ اور برگزیدہ ہستی کا حال سنا تو رہا نہ گیا۔ازراہ تجسس بابا ہوچ پوچ سے ملاقات کیلئے جنگل کی راہ لی۔جھاڑی جھاڑی اورشجر شجر بھٹکنے کے بعد آخر کار ایک نیک دل لگڑ بگڑ کی مدد سے ان کا ٹھکانہ ڈھونڈ ہی نکالا۔اچانک ایک ہم جنس کو اپنے سامنے پا کر مذکورہ بزرگ پہلے تو بہت بگڑے ،جو لکڑ پتھر ان کے ہاتھ آیا ازراہ تواضع مجھے دے مارا۔انہیں خدشہ تھا کہ ان کی طرح میں بھی دنیا کا ستایا ہوا ہوں اورجنگل میں ان کے مقابل تربیت برائے جنگلی حیات قسم کا کوئی ادارہ کھول کر ان کا کاروبار چوپٹ کرنے آیا ہوں تاہم میری رقیق القلب قسم کی برخوداری سے ان کا دل پسیجا اور انہوں نے کمال شفقت سے مجھے سال چھ مہینے بعد اپنے علم کدے میں حاضری کی اجازت مرحمت فرمادی۔تاہم اپنا دست شفقت دراز کرنے سے پہلے انہوں نے یہ اطمینا ن کرلینا ضروری سمجھا تھا کہ میری علمی اور عقلی سطح ایسی نہ ہو جو ان کے بے زبان شاگردوں کیلئے احساس کمتری کا باعث بن سکے۔
بابا ہوچ پوچ کی جھونپڑی میںجسے وہ قدیم یونانی روایات کی رو سے لائزیم کہنا پسند کرتے ہیں،ان سے طویل اور پر از بوریت ملاقاتوں کا سلسلہ رہا ہے جو میری برخوداری کی صورت میں آئندہ بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ان ملاقاتوں کے دوران راز ہائے دروں خانہ کے باہمی تبادلے کا موقع بھی میسر رہا ۔ ان بے مغزملاقاتوں کے دوران مجھے رتب و یابس کے ڈھیر میں چمکتے ہوئے جنگلی حکمت کے کئی نایاب موتی چگنے کا موقع بھی ملا ہے جنہیں فساد خلق کے نیک جذبے کے تحت قارئین تک پہنچانے کا ارادہ ہے۔فرمودات بابا ہوچ پوچ کے نام سے مرتب کئے جانے والے ان حکمت پاروں سے اگر کسی ایک قاری کا بھی بھلا ہوگیا تو میں سمجھوں گا کہ میری جنگل گردی اکارت گئی۔بابا ہوچ پوچ سے ہونے والی مذکورہ گفتگو کا اصل محور اس دنیا کے معاملات ہیں جنہیں بابا ہوچ پوچ ناکامیوں اور دربدریوں کے طویل سلسلے کے بعد با حسرت و یاس چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔یہ گفتگو سوال جواب کی صورت میں پیش کی جارہی ہے۔اگر سوال چنا اور جواب گندم ہو تو اس میںقصور سراسر آپ کے اس سنکی مزاج کا ہے جو آپ کو ہر بات سنجیدگی بلکہ رنجیدگی سے لینے پر مجبور کرتا ہے اور جس کے نتیجے میں آپ ساری عمر بال نوچتے ہوئے ( دوسروں کے) گذار دیتے ہیں۔اس طولانی تمہید کے بعدپیش ہیں فرمودات بابا ہوچ پوچ :
٭۔ جمہوریت میں جوتا باری کے فعل کی افادیت پر روشنی ڈالئے گا۔
’’دونوں میں قدر مشترک حرف جیم ہے جو لیڈران کے تئیں قران السعدین ہے ۔جب جمہوریت کا آفتاب جرنیلی جمہوریت کے گھر سے نکل کر نیم جرنیلی جمہوریت کے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کا سامنا ایک اور جیم سے ہوتا ہے ۔اس تیسری جیم کا تعلق ہے جہالت سے جو ہماری سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کیلئے ازبس ضروری قرار دیتی ہیں تاکہ لیڈران کرام کی جہالت کارکنوں کی تابندہ جہالت تلے چھپی رہے‘‘۔
٭۔ پاکستانی جمہوریت طبقہ اشرافیہ کے غیر ضروری دباؤ سے کب آزاد ہوگی؟۔
’’بھول جاؤ ،کوئی اور بات کرو۔سنو! جب حکومتیں زید کو لوٹ کربکر کا گھر بھرتی ہیں تو وہ ہمیشہ بکر کے ’’تھلے‘‘ لگی رہتی ہیں۔زید کیلئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی انجمن فلاح یتیماں کے سپرد کرکے بکر کے نام کے نعرے لگاتا رہے اور جان لے کہ دنیا ایک بکر منڈی ہے جہاں زیدوں کا واحد کام بکروں کیلئے چارے کا مناسب بندوبست کرتے رہنا ہے‘‘۔
٭۔اگر کسی کے گھر پر کوئی زبردستی قابض ہوجائے اور مکینوں کی لعن طعن کے باوجود گھر کا قبضہ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟
’’گھر کے مکین ملکیت کے دعوے سے دستبردار ہوجائیں اور شکر کے بچھونے پر صبر کا اوڑھنا اوڑھ کر میٹھی نیند سوجائیں۔اس کے باوجود اگر چین نہ آئے تو محلے کے اس بدمعاش طوطے کا گلا دبانے کا حوصلہ پیدا کریں جس میں قبضہ گیر کی جان ہے‘‘۔
٭۔جنگل اور انسانوں کی دنیا میں کیا فرق ہے؟
’’ میں نے آج تک کوئی ایسا جانور نہیں دیکھا جس کا ایک ہاتھ دوسرے کی گردن پر اور دوسرا ہاتھ اس کی جیب میں ہو۔یہ صریحاًجانوروں کی دور اندیشی ہے کہ انہوں نے جیب کا بکھیڑا نہیں پالا کیونکہ جیب اور گردن اکٹھے نہیں چل سکتے‘‘ ۔
٭۔دونوں فریقین میںچند اور فرق بھی تو ہوں گے؟
’’جانور لوگ اپنے ہم جنسوں کا گلا نہیں کاٹتے۔جنگل کے پینل کوڈ میں دہشت گردی کی کوئی سزا نہیں ہے کیونکہ یہاں کوئی ایسا واقعہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ ایک اور فرق یہ ہے کہ جنگل میں ہر جانور اپنی عقل اپنے پاس رکھتا ہے۔کوئی کسی پر قومی مفاد مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتا‘‘۔
یہ تھے جنگل کے واحد فیلسوف بابا ہوچ پوچ کے ہوچ پوچ خیالات ۔اگر ان خیالات سے کسی کے ذاتی جذبات مجروح ہوئے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے صبح سے آئینہ نہیں دیکھا ہے۔بابا ہوچ پوچ کا ایک فرمودہ یہ بھی ہے کہ نرگسیت کی حد سے ذرا پہلے تک آئینہ بینی صحت (دوسروں کی ) کیلئے از حد مفید عمل ہے۔آپ بھی حسب توفیق اس بیکار مشورے پر عمل کیجئے ۔بابا ہوچ پوچ کے ناروا خیالات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......