Iss Baar To Baat Mann Na Hi Hogi

Atif Aliem's picture

اس بار تو بات ماننا ہی ہوگی
عاطف علیم

’’ کھسماں نوں کھاؤ‘‘ پنجابی زبان کا ایک محاورہ ہی نہیں مایوسی اور بے بسی کی ایک بھرپور کیفیت کا عکس بھی ہے۔یہ وہ کیفیت ہے جس کے بعد کوئی قوم لاتعلقی کا دبیز کمبل اوڑھ کر گہری اور طویل نیند سو جاتی ہے۔اس کیفیت کی شدت کو وہی محسوس کرسکتا ہے جس کا مقدر محض سمندر پار سے آنے والی محض ایک عدد ٹیلیفون کال یا ایک عدد نیگروپونٹے ٹائپ چیز سے وابستہ کردیا جاتا ہے۔نو مارچ سے پہلے تک ہماری یہی کیفیت تھی ۔لیکن وہ کل کی بات تھی ۔آج معالات کی صورت کچھ اور ہے ۔نیند ٹوٹ چکی ہے اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔اب اگر کوئی چاہے کہ ہم اسی کیفیت میں واپس چلے جائیں تو اسے نرم سے نرم الفاظ میں سادہ لوح ہی کہا جاسکتا ہے۔
صرف دو دن پہلے کی بات ہے کہ ایک عظیم قومی اتفاق رائے سامنے آیا تھا۔جانے خبر تھی یا افواہ لیکن جو بھی تھا بہت پرجوش کردینے والا تھا۔اس ایک احساس نے یہاں سے وہاں تک ولولے اور مسرت برقی لہریں دوڑادی تھیں کہ عوامی دباؤ اور حالات کے جبر سے مجبور ہوکر بت اپنے قدموں پر گرچکا ہے۔ایک عظیم فتح کے احساس نے ماحول کو یوں گرما دیا تھا کہ لوگ کچھ دیر کیلئے آٹے ،بجلی اور مہنگائی کو بھول گئے تھے۔اس خبر یا افواہ کے عام ہوتے ہی لوگ ٹی وی چینلوں کے سامنے ٹک کر بیٹھ گئے کہ اس خبر کی شیرینی کو اپنے کانوں میں بھر سکیں جو اپنے جلو میں ایک عظیم جشن مسرت لے کر آئے گی ۔جس کو سننے کے بعداطمینان کی ایک طویل سانس کھینچی جائے گی اورتنے ہوئے اعصاب اپنی نارمل حالت میں آجائیں گے۔
خبر تو ضرور آئی لیکن یہ کہ آقاؤں کے آقا نے اپنے بندے کو فون کرکے اس کی خیر خیریت پوچھی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی تعاون کا سلسلہ چلتا رہے گا۔آقاؤں کا آقا یقینا خدا نہیں ہے البتہ ہمارے مقتدرین نے اسے خوش فہمیوں کا شکار ضرور بنا دیا ہے ۔اگر وہ یہ جانتا ہے کہ اس کی ٹیلیفون کال اس کیلئے ہمیشہ اکسیر بوٹی ثابت ہوگی تو جانو کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا ۔وہاں کی جمہوری روایات کے مطابق الیکشن کے سال میں تو اس کی حیثیت ایک زہر نکالے سانپ سے زیادہ نہیں رہ جاتی ۔وہاں تو ان دنوں میں اس کا اقتدار کچن کے معاملات نمٹانے تک محدود ہوجاتا ہے لیکن یہ بھی ہمارے ہی کرموں کا پھل ہے کہ بے اختیاری کے اس عالم میں بھی وہ ہمارے موسموں پر کچھ نہ کچھ اختیار ضرور رکھتا ہے، اس کا سبب ہمارے بالادستوں کی غیر مشروط نیاز مندی۔معاملات ابھی واضح نہیں ہیں لیکن ٹیلیفون کال آچکی ہے اور سوکھے دھانوں پر پانی پڑچکا ہے۔اب خدشہ ہے کہ ہماری منتخب حکومت کا لہجہ پھر سے نارمل نہ ہوجائے اور’’ ورکنگ ریلیشن شپ‘‘ کا چرچا پھر سے عام نہ ہوجائے۔
آقاؤں کا آقا یقینا خدا نہیں ہے ،جس تبدیلی نے آنا ہے وہ اپنا راستہ خود بنا لے گی لیکن تبدیلی سے فرار کی صورت میں سفر کی طوالت اور کٹھنائی کچھ اور بڑھ سکتی ہے۔یہاں پر ایک سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ کیا ان لکھے معاہدے اور ان دیکھی زنجیریں واقعی اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ قانون قدرت کو بدل کر رکھ دیں؟۔اس سوال کا جواب یقینا ایک زور دار نفی میں ہے۔قانون قدرت تویہ ہے کہ درخت پر اگے جس پتے کو پت جھڑ کا عارضہ لاحق ہوجائے اسے شاخ سے ٹوٹ کو فٹ پاتھ کی گھاس میں رلنا ہی ہوتا ہے۔آپ اس پتے کے ساتھ لاکھ ’’ورکنگ ریلیشن شپ‘‘ قائم کرنے کی کوشش کریں اور ہزار کوشش کردیکھیں کہ اسے گوند کی مدد سے شاخ کے ساتھ چپکائے رکھا جائے لیکن ہواؤں نے مصلحتوں کی کب پرواہ کی ہے۔ انہیں تو یوں بھی سوکھے پتوں کو لئے پھرنا اچھا لگتا ہے۔وہ کسی سازش کا حصہ کیوں بنیں؟تبدیلی قانون قدرت کی کتاب کا حرف اول ہے۔ہوائیں اسی حرف کو اپنے دوش پر لئے کوبہ کو پھرا کرتی ہیں۔وہ درخت کو سوکھے پتوں کے بوجھ سے آزاد کرتی ہیں تاکہ شگوفے پھوٹنے کا موسم آئے تو درختوں کے ہاتھ خالی نہ رہیں۔
ایک اور سوال یہ درپیش ہے کہ کیا ہمارے لئے امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی اتنی اہمیت ہے کہ ہم اگلے چھ ماہ تک سانس تھامے پڑے رہیں، محض اس لئے کہ ’’ جدید قدامت پرست‘‘ہمیں جامد حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔محض اس لئے کہ انہیں اپنی دل پسند شکار گاہ میں آگ اور خون کا ابلیسی کھیل جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ آئے اور محض اس لئے کہ اپنی سہولت کیلئے ابھی انہوں نے ہماری نئی نقشہ بندی کرنا ہے؟۔وہ تو یقیناً مہلت چاہیں گے لیکن ہم انہیں مہلت کیوں دیں؟۔چھ ماہ تو بہت ہوتے ہیں ہمارے لئے تو انہیں چھ دن کی مہلت دینا بھی ممکن نہیں رہا۔ہمیں تو جلد از جلد جان چھڑانی ہے ان لوگوں سے جو ہمارے لئے سدراہ ہیں۔ ہم وقت کی دوڑ میں میلوں پیچھے رہ گئے ہیں۔ہمارا کوئی چہرہ رہا ہے نہ شناخت۔ہمارے ساتھ تو یہ ماجرا ہوچکا ہے کہ اپنی گلی میں کھڑے ہوکر اپنے ہی گھر کا راستہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔چھ ماہ تو بہت ہوتے ہیں ہم تو چھ گھنٹے بھی جامد حالت میں رہنا افورڈ نہیں کرسکتے۔ہم اپنے اندر اور باہر ایک عظیم تبدیلی لانے کیلئے بے تاب ہیں تاکہ ہم بھی دوسروں کی طرح سکھ کے سپنے دیکھنے کے قابل ہوسکیں۔واضح رہے کہ 159 سال بعد ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہونے کی بات غیر مشروط نہیں ہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ اور کچھ نہ ہو تو کم از کم ہماری موجودہ حالت میں استحکام باقی رہے۔ہمیں جس طرح اندر سے کھوکھلا کیا جاچکا ہے اور جس طرح ہمارے سماجی ڈھانچے کو تضادات کا گورکھ دھندا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس سے سنبھلنا یقینا ایک کارنامہ ہوگا ۔ عوام دونوں بڑی جمہوری قوتوں کے اشتراک کی صورت میں یہ کارنامہ سر انجام دینے کیلئے بیقرار ہیں۔اک ذرا سازشوں کا بازار سرد ہولے تو ہم ایک سو انسٹھ نہیں صرف انسٹھ سال میں ترقی کی بہت سی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔
اس وقت پاک فوج کے خوش کن کردار ، میاں نواز شریف کی عوامی امنگوں سے ہم آہنگ جذباتیت اور وکلا کے عزم سے تمتماتے چہروں کی بدولت معاملات بہت آسان ہوچکے ہیں۔اس عالم میں سمندر پار سے آنے والی ٹیلیفون کالوں کی ذرا برابر بھی اہمیت نہیں ہے۔ہماری منتخب حکومت نہایت غیر عوامی اور غیر منتخب لوگوں کے ہاتھ میں معاملات سونپ کر ایک سنگین غلطی کا ارتکاب پہلے ہی کرچکی ہے۔ان مصلحت شناسوں کہ وجہ سے آسان معالات بھی پیچیدہ صورت اختیار کرچکے ہیں۔غلطی جو ہونی تھی ہوچکی لیکن اب مزید کوئی غلطی کرنے کا سکوپ باقی نہیں رہا ۔عوامی امنگوں کا تقاضا تو جو ہے سو ہے ،یہ خود اس کی اپنی بقا کیلئے بھی ناگزیر ہے کہ وہ تبدیلی کی خواہش کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے۔ اس بار بھی کسی نے عوام کو مایوس کیا توان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں لیکن تبدیلی کی یقینا یہ کوئی خوشگوار صورت نہ ہوگی۔یہ تو طے ہے کہ وہ عوام اور تھے جو نو مارچ سے پہلے ’’کھسماں نوں کھاؤ‘‘ جیسی کیفیت کا شکار تھے۔اس بار سینوں میں آگ ہے اور آنکھیں شعلہ بار ہیں۔عوام اس سے کمتر کسی بات پر آمادہ نہیں کہ سفر سے پہلے کندھوں کو غیر ضروری بوجھ سے آزاد کیا جائے۔اس بار لہجے کڑے ہیں، اس بار تو ان کی بات ماننا ہی ہوگی۔

Share this
No votes yet