Indian Elections in Gujraat بھارتی انتخابات :گجرات کی شکست اور کانگریس

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 12/25/2007 - 08:53

افکارِمشرق The Eastern Lines

بھارتی انتخابات :گجرات کی شکست اور کانگریس

ڈاکٹر خواجہ اکرام
اسسٹنٹ پروفیسر، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

گجرات میں جو کچھ ہوا اس کی امّید کسی کو نہیں تھی یہاں تک کہ مودی کو بھی یہ توقّع نہیں تھی کہ اتنی بڑی اکثریت سے جیت حاصل ہوگی۔ لیکن یہ کیسے ہوا اور کیوں کر ہوا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب آسانی سے نہیں دیا جاسکتا۔کیا اسے کانگریس کی ہار کہیں یا فرقہ واریت کی جیت، یا اسے سیکولر طاقتوں کا زوال کہیں یا ہندو فرقہ واریت کی فتح۔الیکشن کے دوران جس طرح مودی اور اس کے حامیوں نے کھلے عام فرقہ وارانہ لب ولہجے کو اختیار کیا اور جس جارحیت کے ساتھ اس نے پورے ملک کے سامنے اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کیا ،وہ اپنے آپ میں ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔مگر حیرت اس بات پر ہے کہ کوئی کھل کر اس کی مخالفت میں نہیں آیا حتیٰ کہ کانگریس کی جانب سے بھی انتہائی محتاط رویہ اپنایا گیا۔مودی کھلے عام نہ صرف کانگریس کو بلکہ ہندستان کی عدلیہ کو اپنی تقریر میں چیلنج کرتے ہوئے جب یہ کہتا ہے کہ اگر سنٹرل گورنمنٹ میں طاقت ہے تو مجھے پھانسی پر لٹکائے ۔مودی کا یہ جملہ اگرچہ سہراب الدین کیس (ہندو مسلم فساداتِ گجرات)کے حوالہ ِسے تھا مگر اس کے ذریعہ اس نے ہندستان کے آئین ،انتظامیہ اور حکومت سب کو چیلنج کیا۔ اس طرح کے غیر آئینی اور قابل گرفت بیان کے باوجود اس پر نکیل نہیں کسی جاسکی۔سوال یہ ہے کہ مودی کی اس زہر افشانی سے صرف مسلم قوم کوہی خطرہ نہیں ،بلکہ یہ توہندستان کی جمہوریت کے لیے ایک کھلا چیلنج تھا مگر دیگر سیاسی پارٹیاں ابھی اس کا ادراک نہیں کررہیں، اور توجہّ نہیں دے رہی ہیں ۔چلیں اُن کی بات تو سمجھ میں آسکتی ہے مگر کانگریس کے لیڈران کی اگر بات کریں تو وہ صرف ایک دھمکی سے ڈر گئے۔’’ موت کے سوداگر‘‘ کا جملہ جو کانگریس صدر کی جانب سے کہا گیا ،اس میں صد فیصد سچائی ہونے کے بعد بھی اس جملے کی آڑ میں جس طرح فاشسٹ طاقتوں نے کانگریس پر حملہ کیا اُس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خود کانگریس بھی مدافعت کے موڈ میں آگئی۔لیکن دوسری جانب مودی اور اس کی پارٹی نے مزید زہر افشانی شروع کردی۔ کانگریس کی مدافعت کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ گجرات میں فرقہ واریت کی مخالفت کر کے ہندو ووٹ کو گنوادیا جائے۔ کانگریس کے اس اندازِ فکر پر افسوس ہوتا ہے کہ کیا ہندستان جیسے ملک میں آئینی بالادستی کا مطالبہ، اور فرقہ واریت کی مخالفت کرنا ،ہندوٶں کی ناراضگی کا سبب بھی بن سکتا ہے؟ دراصل یہی وہ اندیشہ تھا جس کی وجہ سے گجرات میں کانگریس کوخسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

کانگریس کی ہار کی اور بھی وجوہات ہیں۔ مگر سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ’ سوفٹ ہندتوا ‘ کے فارمولے پر چل رہی ہے۔ کانگریس میں ایسے لیڈروں کی کمی ہے جو دلیرانہ گفتگو کر سکیں۔ دراصل یہ بھی فاشسٹ طاقتوں کی جیت ہے کہ کسی پارٹی کو سچ کہنے نہ دو۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے اگر کانگریس نے یہی رویہ اپنایا تو آنے والے عام الیکشن میں بھی اس کا یہی حشر ہونے والا ہے۔کیونکہ اب مودی پورے ملک میں اسٹار کمپینر ہوگا اور اس کی زہر افشانی معصوم اور اَن پڑھ ہندوستانیوں کے لیے کشش کا سبب ہوگی۔مودی کی اس تعصّب پر مبنی حیرت ناک کامیابی کے بعد عام ہندو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مودی کی جیت اس لیے ہوئی کہ وہ ایک ایماندار نیتا اور رہنما ہے جس پر کسی طرح کے کرپشن کا الزام نہیں ہے۔اب ملاحظہ کریں کہ یہ باتیںاتنی تیز رفتاری سے کس طرح پھیلائی جارہی ہیں ۔اور سیکولر طاقتوں کا یہ حال ہے کہ صحیح صورت حال سے بھی عوام کو آگاہ نہیں کر سکتے۔عوام کو کون بتائے کہ مودی جیسا کرپٹ نیتا کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔جس نے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا، جس نے ملک کے سر کو نیچا کیا۔ جس نے سرکاری سرپرستی کے ذریعے فرقہ واریت کو بڑھاوا دیا۔لیکن اس کے مقابلے میں سونیا گاندھی تو سامنے تھیں ۔کیا ان سے بھی بڑھ کر صاف ستھری شخصیت والا کوئی ہو سکتا ہے!لیکن المیہ یہ ہے کہ کفن چور پارٹی کے لوگ اس قدر اور اتنی جلد افواہوں کو پھیلاتے ہیں کہ ہم خود اپنا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

ایسے میں کانگریس کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اوراس کے رہنما ہمت ہارے بغیر اس بات پر غور کریں کہ اس صورتِ حال کی کیا وجوہات تھیں؟ گجرات میں صرف الیکشن سے دو تین ماہ قبل انتخابی مہم کاآغاز کرنا کون سی عقل مندی تھی ؟۔اور کیا اس ملک میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو ہر سطح پر کانگریس کی مدد کرنا چاہتے ہیں ؟ لیکن کانگریس کو کون بتائے کہ اسے میڈیا کے لوگ، صحافی، یونیورسٹی اور کالجز کے ساتھ ساتھ علما ء اور مدارس کے لوگوں کا بھی ساتھ اور حمایت لینا چاہیے یہ سب کے سب کانگریس کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر کانگریس اپنی خول سے باہر بھی تو نکلے اور الیکشن کے علاوہ عام دنوں میں کبھی کوئی ایسی صورت تو نکالے کہ یہ طبقات ا ن سے بات چیت کر سکیں ۔کانگریسیوں کا حال یہ ہے کہ وہ کھلے عام کوئی کام بھی نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں یہ ڈر ستاتا ہے کہیں ہم ہندو مخالف تو نہیں سمجھے جائیں گے۔اگر کانگریس کو جمہوری اور آئینی کاموں میں یہ خوف ستاتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ آنے والے عام الیکشن سے پہلے وہ خود کو بی جے پی میں ضم کر لے۔اور نہیں تو ڈرائینگ روم اور ائیر کنڈیشنڈ آفس میں بیٹھ کر اپنے ہی لوگوں کو ٹائم نہ دینے والے لیڈروں کی جگہ نئی نسل کو موقع دے۔ ورنہ ابھی تو گجرات میں منہ کی کھانی پڑی ہے ، کہیں یہ نوبت ہندستان گیر سطح پر نہ ہوجائے۔
٭٭٭
Posted by: Mohammad bin Qasim, Written by: Dr. Khwaja Ikram

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......