HADSA HONEY KO HEY

Submitted by Atif Aliem on Sat, 05/17/2008 - 21:57

حادثہ ہونے کو ہے؟
عاطف علیم
روزنامہ ایکسپریس
[email protected]
ہم بڑے دلچسپ لوگ ہیں،جسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرنا ہو اسے تقدس کے ریشمی جزدان میں لپیٹتے ہیں اور ایک عقیدت بھرا طویل بوسہ دے کر کسی اونچی جگہ پر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعدمزے سے اپنے اپنے دھندوں میں مگن ہوجاتے ہیں۔ساتھ ہی یہ اہتمام کرنا نہیں بھولتے کہ کوئی قانون شانوں بنا دیا جائے کہ بھئی جو طاق پر ہے اسے بحث کا موضوع نہ بنا ؤ مباداکہیں بات ہی بات میں وہ ہماری زندگیوں میں دخل اندازی کا مرتکب نہ ہوجائے۔ہاں، سال بہ سال سرکاری اہتمام کے ساتھ تقریبات میں بے روح مضامین پڑھنے اور اخباری ضمیمے نکالنے میں ہمارا کیا جاتا ہے ۔ بابائے قوم کو بھی ہم نے بچھڑے ہوئے کعبے کے صنم کا رتبہ دے کر طاق نسیاں پر نہ سجایا ہوتا تو ہمارے معاملات کی صورت اتنی گنجلک نہ ہوتی جتنی ہے۔خیر، بابائے قوم کے بارے میں مدت پہلے کی پڑھی ہوئی ایک بات یاد آرہی ہے۔ان کے ایک دیرینہ ساتھی نے ایک روز یونہی باتوں باتوں میں پوچھ لیا کہ میں نے کبھی آپ کے منہ سے سوری کا لفظ نہیں سنا، یہ کیوں؟۔قائد اعظم مسکرائے اور جواب میں وہ کہا جوایک طرح سے دیکھا جائے تو ہمارے حالات کا جامع تجزیہ ہے۔اس رکھ رکھاؤ والے انسان نے رسان سے جواب دیا کہ ایسا کام ہی کیوں کیا جائے جس کے جواب میں معافی مانگنی پڑے۔آپ کہنا تھا کہ معافی ایک احسان ہے جس کی قیمت آپ کو بہرحال ادا کرنا پڑتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چند سرکردہ کارکنوں سے میری پرانی یاد اللہ ہے۔ان میں وہ بھی ہیں جن پر گذشتہ آٹھ سال کا عرصہ بہت بھاری گذرا تھا ۔کئی ایک کو ایسے ’’شرپسند سیاسی کارکنوں‘‘ کی فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے جنہیں خاص خاص موقعوں پر’’ حفاظتی تحویل‘‘ میں لیا جانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔یوں تو یہ ٹھیک لوگ ہیں لیکن ان میں ایک عیب ایسا ہے جس کی وجہ سے وہ ان خوش نصیب جیالوںکی صفوں سے باہر دکھائی دیتے ہیں جنہیں پارٹی کے بڑے اپنا اثاثہ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ان میںعیب یہ ہے کہ بھلے ان کی اڈیالہ جیل جانے والے راستے کے ہر ہر پتھر سے شناسائی رہی ہو لیکن راولپنڈی اور اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی انہیں زرداری ہاؤس کا راستہ نہیں معلوم۔ایک اور عیب جس کاوہ راندہ درگاہ ہونے کے خوف سے برملا اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھتے ہیں، یہ ہے کہ وہ بولتے کم اور سوچتے زیادہ ہیں۔ان میں سے ایک دوست سے ایک تقریب میں سامنا ہوا تو دیکھا کہ مایوسی اس سے چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔وہ چائے پینے کے بہانے مجھے ایک طرف لے گیا اور وہ کچھ کہہ ڈالا جو وہ پارٹی ڈسپلن کی مجبوریوں کے باعث پارٹی کے حلقوں میں نہیں کہہ سکتا تھا۔اس نے حالات کا مایوسانہ تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ این آر او کی ہڈی پوری قوم کے گلے میں پھنس گئی ہے۔اسے اگلنا ممکن ہے نہ نگلنا ممکن۔اس کا تجزیہ بھی وہی تھا جو اٹھارہ فروری کے بعد پرجوش امیدوں کے شکار کسی بھی پاکستانی کا ہوسکتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ’’احسانات‘‘ کے بوجھ تلے دبی ہوئی قیادت کی اگر مگرپیپلز پارٹی کی ساکھ اور اس سے وابستہ امیدوں کیلئے تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔اس کے خیال میں مستقبل کا جو منظر نامہ پارٹی کے مخلص کارکنوںنے اپنے خون سے تحریر کیا تھا اور بے نظیر بھٹو کی شہادت نے جس پر مہر تصدیق ثبت کی تھی ۔اسے سرخ فیتے میں لپیٹ کر طاق نسیاں پر دھرنے پر اتفاق ہوچکا ہے۔میں اس کی شکستہ لہجے میں کہی ہوئی باتیں سن رہا تھا اور مجھے قائد اعظم کی وہ بات یاد آرہی تھی جو میں مدتوں پہلے پڑھ سن کر بھول چکا تھا۔
میرا یہی دوست جو آج اپنی پارٹی کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر پریشان خیالی میں مبتلا تھا۔اٹھارہ فروری کے بعد ان لوگوں میں شامل تھا جن کا کہنا تھا کہ ان’’ اتفاقیہ‘‘ منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں ہم بند گلی سے نکل آئے ہیں اور ہم نے ایک پر امن انقلاب کے راستے پر قدم رکھ دیا ہے۔ہم دونوں ایک ساتھ اٹھارہ فروری کی شام راولپنڈی کی مری روڈ پر نواز شریف اور بے نظیر کے چاہنے والوں کے ان پرجوش جلوسوں کے بھی گواہ تھے جب ماضی کے ان دونوں حریفوں کے مابین من و تو کا فرق مٹ گیا تھا۔تب عجیب نظارہ تھا کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار ہار گیا تھا لیکن اس کے ووٹر جاوید ہاشمی کی فتح کا جشن منا رہے تھے۔ان کیلئے یہ اہم نہ تھا کہ کون ہارا ، کون جیتا، باعث جشن یہ تھا کہ شہر سے آمریت کی نشانی ہمیشہ کیلئے مٹ گئی ہے۔اس شام دوسرے شہروں سے آنے والی ایسی ہی خبریں اور جشن فتح کے ایسے ہی مناظر مری روڈ کی رونقوں کو مزید گرما رہے تھے۔
اٹھارہ فروری کی اس شام مسرت کے یہ چراغ جو ماضی کے روایتی حریفوں اور آج کے پرجوش حلیفوں کے چہروں پر دمک رہے تھے ابھی پوری طرح لو بھی نہ دے پائے تھے کہ قومی مفاہمت کی بے سمت ہوائیں چلنا شروع ہوئیں ۔اٹھارہ فروری کے عوامی مینڈیٹ کے خطوط بھی بہت واضح تھے اور اس کی حدود بھی متعین تھیں۔عوامی حمایت یافتہ تین جماعتیں جن کا مینڈیٹ یکساں نوعیت کے عوامی جذبات کا پرتو تھا کی مخلوط حکومت کے خیال کو وسیع تر عوامی حمایت حاصل ہوئی کہ مینڈیٹ کا یہی تقاضا تھا۔مفاہمت کی گرم بازاری کے دوران اعلان مری سامنے آیا جس نے کئی روز تک دلوں کو گرمائے رکھالیکن لوگوں نے ایک تعجب کے عالم میں دیکھا کہ قومی مفاہمت یہ کون سی ادا ہے کہ وقت کے دریا کی گہرائیوں میں ڈوبتے ہوئے حضرت مولانا کو بھی شتابی سے ہاتھ پکڑ کر کشتی میں سوار کرلیا گیاہے جبکہ یہ کشتی ان کی مخصوص وابستگیوں کا بوجھ سہارنے کے قابل نہ تھی۔ بات یہیں تک محدود رہتی تو بھی گوارہ تھا لیکن یہ وہ بات تھی جس نے دور تلک جانا تھا۔
اب یوں ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ خوش فہمیاں ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اترتی جارہی ہیں۔ہجوم کی جانب سے دو متبرک ہستیوں کی شان میں ہونے والی گستاخیوں کے شایان شان رد عمل ،سوختہ نصیب نو اپریل اور اس کے دو روز بعد کراچی میں لگنے والی نوٹنکی کے ساتھ ساتھ رچرڈ باؤچر کے جاری ہونے والے تازہ ارشاد کے بعد جس میں انہوں نے یاد دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کس کس کا کردار باقی رہے گا شاید ہی کوئی ہوگا جو اس گمان میں ہو کہ ق لیگی عہد ختم ہوچکا ہے اور بند گلی سے رہائی مل چکی ہے۔تاریخ کا جبر یہ تھا کہ جمہوریت اور آمریت نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال رکھی تھیں اور ان کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہونا تھا۔اس ناگزیر معرکے میںفتح اسی کا نصیب ٹھہرتی جو حملے میں پہل کرتا۔لیکن وہ بیچارے پہل کیا کرتے جو درمیانی راستے نکالنے کی فکر میں تھے۔جس نے پہل کرنا تھی کرچکا اور اقتدار کے کھیل میںاسے ایک غالب فریق کی حیثیت حاصل ہوچکی۔ دیکھتے ہی دیکھتے منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے۔چند روز پہلے جشن فتح منانے والے اپنی خوش فہمیوں سے ہاتھ دھو چکے اورخاک نشین ذہنی طور پر نئے حادثوں کیلئے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔اب تو صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ ’’حادثہ‘‘ کب وقوع پذیر ہوتا ہے اور اس کا ارتعاش زمانی وسعتوںمیں کتنی دور تک جائے گا۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......