Brand Conscious

Submitted by Guest (not verified) on Mon, 12/17/2007 - 08:24

اونچی دکان پھیکا پکوان
برانڈز کے نام پر دھوکا
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی برانڈز پر مرنے والی پبلک موجود ہے اور جب تک برانڈز پر مرنے والی پبلک موجود ہے تو برانڈ بکتا رہے گا۔پاکستان کے ہر بڑے شہر میں برانڈڈ اسٹورز موجود ہیں جیسے NIKE،PUMA اور ADDIDAS وغیرہ جو کہ معیار ، پائیداری اورمضبوطی کی ضمانت دیتے ہیں اور اس دعوی پر فخر کرتے ہیں ۔
کراچی میں بھی ان برانڈڈ شو رومز کے آؤٹ لٹس پارک ٹاورز، طارق روڈ ،بہارد آباد اور اور دیگر پوش علاقوں میں موجود ہیں۔ اس طرح کا ایکNIKE کا آؤٹ لیٹ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب واقع ہے جہاں جوتوں ،سلپرز ،ٹی شرٹس اور ٹراؤزر سے لے کر تقریباً تمام رینج موجود تھی۔آؤٹ لیٹ میں داخل ہونے کے بعد تھوڑی دیر بعد ایک سلپر پسند آیا ۔وہ ربر کا عام سا سپلر تھا مگردیکھنے میں خوبصورت اور پائیدار لگا تاہم فیصلہ کیا کہ اسے ہی خرید لیا جائے لہذا جب دکان دار سے اس سپلر کی قیمت پوچھی تو اس نے 1800 (اٹھارہ سو) روپے بتائی ۔اب اتنے بڑے اور برانڈڈ اسٹور میں کھڑے اس کی قیمت تو کم کرانے کی ہمت نہ ہوئی مگر پسند کے آگے اور برانڈ کی خبط کی وجہ سے جیب ڈھیلی کرنا پڑی،مگر خوشی اس بات کی تھی کی جو چیز ہمیں اچھی لگی ہم اس کے مالک بن چکے تھے۔برانڈ کے مارے لوگوں کے لیے برانڈ کی چیز بہت اہمیت جو رکھتی ہے اس لیے پیسے جانے کا دکھ تھوڑی ہی دیر میں پسند پر غالب آگیا اور اس وقت کا انتظار کرنے لگے کہ اسے پہن کر آفس جائیں گے اور دوستوں کی داد وصول کریں گے۔
صبح سویرے کپڑے پہنے اور اپنے نئے نئے سلپر ز ڈبے سے نکالے اور خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے اس کو پیر کی زینت بنایا اور آفس پہنچ گئے۔جس نے بھی دیکھا واہ واہ کیا بنا نہ رہ سکا۔ دوستوں کو بڑے فخر سے بتایا کہ برانڈڈ چیز کا کیا مزہ ہوتا ہے ،جو چیز دنیا کے لوگ پہنتے ہیں ہم بھی وہی پہن سکتے ہیں۔خیر جناب جب دوسرے دن آفس سے وہی سلپر پہنے واپس آرہے تھے تو محسوس ہو ا کہ وہ برانڈڈ سلپر جس کو خریدنے کے بعد ہم ہوا میں اڑ رہے تھے وہ ایک جگہ سے پھٹ رہا ہے! فوراً ناظم آباد کے NIKE آؤٹ لیٹ پہنچے جہاں سے یہ سپلر خریدا گیا تھا اور ساتھ ہی خریدی کی رسید لے کر گئے تاکہ دکان دار کو یقین ہوسکے کہ سلپر اسی اسٹور سے خرید اگیا ہے ۔اس طرح کی دوسر ی چیز کے ساتھ ایک دو مرتبہ ہوچکا تھا جو برانڈڈ نہیں تھی مگر ان کی کوالٹی اچھی تھی اور ہمیں اس کی گارنٹی ملی تھی لہذا اس بات کا اطمینان تھا کہ جب غیر برانڈڈ چیز تبدیل ہوسکتی ہے تو یہ کیوں نہ ہوگی۔
دکان دار کو بڑے مہذب انداز میں مخاطب کیا ا ور جوتے دکھاتے ہوئے اس پھٹے ہوئے حصے کی نشاندہی کی تو وہ فوراً ہماری تائید کرنے لگا ہم سمجھے کہ شاید وہ اسے باآسانی واپس کر لے گا لیکن یہاں تو معاملہ ہی بر عکس نکلا۔ ہم سے دکان دار صاحب فرمانے لگے جناب بات یہ ہے کہ یہ فیکٹری آؤٹ لٹ ہے اور اس سلسلے میں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ ہم نے کہا کہ فیکٹری آؤٹ لٹ کا کیا مطالب؟پیسے تو ہم نے اتنے ہی ادا کیے ہیں جو دوسرے آؤٹ لٹ پرادا کرنے ہوتے ہیں۔ ہماری لاکھ دلیلیں دینے اور غصہ کرنے کے باوجود وہ ہم سے بڑے مہذب انداز میں بڑی ڈھٹائی سے ہمیں منع کرتا رہا کہ نہ تو یہ واپس ہوسکتا ہے اور نہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے کیونکہ فیکٹری آؤٹ لٹ کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ۔ہم کچھ نہیں کرسکتے آپ اس سلسلے میں جو کر سکتے ہیں کرلیں ہم مجبور ہیں۔
میں تو وہاں سے بے بس لوٹ آیا ،اور کر بھی کیا سکتا تھا سوائے دل کڑھنے اور غصہ کرنے کے سوا! ایک دم سے برانڈ کی چیزوں کا خبط تاش کے پتوں سے بنے محل کی طرح ٹوٹ گیا ،سارا اعتماد اٹھ گیا ۔ عید کا سیزن قریب ہے او ر ہم جیسے برانڈ کے خبط کے مارے لوگ عید کی خریداری کے لئے ان کی آؤٹ لٹس کا رخ کرتے ہیں ۔ان لوگوں سے گزارش ہے کہ اس طرح کے اسٹورز سے اپنی من پسند ،منہ مانگے اور مہنگے داموں چیز خریدتے وقت اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ اس کی گارنٹی دی جارہی ہے یا نہیں۔
اس ضمن میں حکومت سے بھی گزارش کروں گا کہ ایسے تمام اسٹورز کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے جو برانڈز کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے ہر جگہ کھلے ہوئے ہیں اورچائنا نے جس طرح موبائل سے لے کر تمام اشیاء کی نقل بنانا شروع کیں ہیں اسی طرح سارے برانڈز کے جوتوں کی نقل بھی ملک کے ہر برانڈڈاسٹورز کے آؤٹ لٹس پرمو جود ہوتی ہے اوردکان دار اصل چیز کے بجائے جعلی اور غیر معیاری پروڈکٹس بیج کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

زاہد مصطفی
کراچی

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......