Bedariyan (5)

Guest's picture

(+)Add
(-)sub
(X)multy
(/)Div
=0 (in Life)

******************

نظم 2

بئسم صدق

یہ جنبشیں ہیں دل کی ، بیداری سو ے زن کی

ہیں روح کی خراشیں ، ٹیسیں ہیں میرے من کی٠

رسموں کی بارگاہیں ، بازار ہیں چلن کی

بوسیدہ ہو چکی ہیں ، دوکانیں یہ سخن کی٠

فرمان گزشتہ کی ، اے بازگشتو ٹھہرو

تم میں ہے آزمائش ، تھوڑے سے بانک پین کی ٠

آتش فشاں کی نوبت ، آتی تو کیوں نہ آتی

بے چین ہو چکی تھیں ، پابندیاں دھن کی٠

جس جھوٹ کی صداقت ، ثابت ہی ہو شر سے

اس صدق کو ضرورت ، ہے گور اور کفن کی ٠

تعلیم نو کے طالب ، ہیں علم کے فلق پہ

ڈوری نہ ان کو کھینچے ، اب شیخ و برہمن کی ٠

گر دل پہ بوجھ آئے ، ایمان چھٹپٹایے

ایسے قفس سے نکلو ، چھوڑو فضا گھٹن کی ٠

ہم سب ہی عالمی ہیں ، بھوگول سب کی ماں ہے

آؤ بڑھأیں عظمت ، ہم مادر وطن کی ٠

دھرموں سے پائی مکتی ، مذہب سے پائی چھٹی

انسانیت کی بوٹی ، پیڑا ہرے ہے من کی٠

تعمیر میں ہے باقی ، جو اینٹ وہ ہے 'منکر'٠

معمار اسکو چن دے ، تکمیل ہو وطن کی ٠

جنید 'منکر' ٠

Share this
Your rating: None Average: 3.5 (2 votes)