Bedariyan (5)

Submitted by Guest (not verified) on Mon, 12/24/2012 - 11:17

(+)Add
(-)sub
(X)multy
(/)Div
=0 (in Life)

******************

نظم 2

بئسم صدق

یہ جنبشیں ہیں دل کی ، بیداری سو ے زن کی

ہیں روح کی خراشیں ، ٹیسیں ہیں میرے من کی٠

رسموں کی بارگاہیں ، بازار ہیں چلن کی

بوسیدہ ہو چکی ہیں ، دوکانیں یہ سخن کی٠

فرمان گزشتہ کی ، اے بازگشتو ٹھہرو

تم میں ہے آزمائش ، تھوڑے سے بانک پین کی ٠

آتش فشاں کی نوبت ، آتی تو کیوں نہ آتی

بے چین ہو چکی تھیں ، پابندیاں دھن کی٠

جس جھوٹ کی صداقت ، ثابت ہی ہو شر سے

اس صدق کو ضرورت ، ہے گور اور کفن کی ٠

تعلیم نو کے طالب ، ہیں علم کے فلق پہ

ڈوری نہ ان کو کھینچے ، اب شیخ و برہمن کی ٠

گر دل پہ بوجھ آئے ، ایمان چھٹپٹایے

ایسے قفس سے نکلو ، چھوڑو فضا گھٹن کی ٠

ہم سب ہی عالمی ہیں ، بھوگول سب کی ماں ہے

آؤ بڑھأیں عظمت ، ہم مادر وطن کی ٠

دھرموں سے پائی مکتی ، مذہب سے پائی چھٹی

انسانیت کی بوٹی ، پیڑا ہرے ہے من کی٠

تعمیر میں ہے باقی ، جو اینٹ وہ ہے 'منکر'٠

معمار اسکو چن دے ، تکمیل ہو وطن کی ٠

جنید 'منکر' ٠

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.