Appeal Brai Dua e Sehat

Atif Aliem's picture

اپیل برائے دعائے صحت

Title Column: Aahat
عاطف علیم

ہمارا ایک مریض جس کی عمرگو اللہ اللہ کرنے کی ہے لیکن وہ عاقبت نااندیش دنیا داری کی دلدل میں ڈوبا غوطے پہ غوطہ کھائے جانے پر مصر ہے ایک نہایت خطرناک بیماری میں مبتلا ہے۔ اطباء و حکما ء کی اکثریت نے تجویز کیا ہے کہ مریض ’’جمہور فوبیا‘‘ نامی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہے۔ یہ بیماری در اصل مختلف النوع فوبیاز کا’’ مجموعہ سعدین‘‘ اورہمارے مریض کی متنوع بے اعتدالیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔قدیم زمانوں سے چلی آرہی اورنسل در نسل منتقل ہونے والی یہ بیماری نہایت وی وی آئی پی نوعیت کی ہے جو صرف شاہوں اور اقتدار پرستوں کو لاحق ہوتی ہے۔ مذکورہ بیماری کی علامات اس قدر الجھی ہوئی ہیں کہ اچھا بھلا کوالیفائیڈ معالج بھی علامات کو سرسری طور پر دیکھ کر بیماری کی تشخیص میں دھوکا کھا سکتا ہے۔اکثرمعالج لوگ اس بیماری میں مبتلا مریض کی علامات اور حرکات و سکنات دیکھتے ہوئے عموما ً سمجھ بیٹھتے ہیں کہ مریض شیزو فرینیا جیسی کسی قابل رحم دماغی بیماری میں مبتلا ہے۔ شیزوفرینیا کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس میں مبتلا مریض کا تعلق حقائق کی دنیا سے یکسر کٹ جاتا ہے۔ وہ اپنے بے سروپا خیالات و تصورات کو ہی حقیقت مطلق سمجھنا شروع ہوجاتا ہے۔اس بیماری میں مبتلا مریض کے بارے میں آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے ارد گرد موجود دنیا کے مقابل ایک ذاتی دنیا آباد کرلیتا ہے ۔مریض کے دماغ کے اندر موجود ننھے سے میدان جنگ میں یہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے کے ساتھ ہمہ وقت برسر پیکار رہتی ہیں اور نتیجہ یہ کہ مریض اندر سے ہلکان ہوتا رہتا ہے یا دوسروں کو ہلکان کرتا رہتا ہے۔
ہمارے مریض کی اصل بیماری کے بارے میں اطبا و حکما کے درمیان مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔چند گستاخ معالجین کھلے عام کہتے پھرتے ہیں کہ ہمارے والا مریض اس نامراد شیزوفرینیا میں ناقابل علاج حد تک مبتلا ہوچکا ہے۔وہ اپنے دعوے کی صحت کے طور پر اس کے متشدد رجحانات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں اور یہ تجویز کرتے ہیں کہ اس سے پیشتر کہ مریض ڈپریشن کے کسی دورے کے دوران دوسرے لوگوں کیلئے امن و امن کا مسئلہ پیدا کردے۔ اسے وہاں چھوڑ آنا چاہیے جہاں ان گستاخوں کے خیال میں اسے ہونا چاہیے۔یہاں پرہم انجمن محبان مریض کے تمام عہدیداران ضروری سمجھتے ہیں کہ اس دانستہ شر انگیزی کی مذمت کریں اورواضح کردیںکہ اس قسم کے معالجین جو میڈیکل سائنس کے وجود پر ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیںصریحاً دشمنوں کے تنخواہ دار ہیں اور ہمارے مریض کو بدنام کرنے کیلئے اس کی معصومانہ ضدوں کو کوئی اور رنگ دے کر اسے ملک و قوم کیلئے زہر قاتل قرار دینا چاہتے ہیں۔ ہم یہ انتباہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے مریض کی بیماری کی نوعیت کو اسی طرح سے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی مذمومانہ کوششیں جاری رہیں تو بیماری کے موجودہ دورے سے بحال ہوتے ہی مریض ان سازشیوں قرار واقعی سزا دینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ہم ان سولہ کروڑ عوام کو جو تن من سے ہمارے مریض کے ساتھ ہیں اور اسے اپنا واحد نجات دہندہ سمجھنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں ، نہایت خلوص نیت کے ساتھ یقین دلاتے ہیں کہ ہمارا مریض ہر گز شیزوفرینک نہیں ہے اس کے برعکس بکار خویش نہایت ہوشیار ہے اور کار درویش کو اپنی مرضی و منشا سے چلانے کیلئے نہایت چوکنے پن سے اپنی باری کا منتظر ہے۔
جیسا کہ ہم اپیل ہذا کی ابتدا میں قرار دے چکے ہیں کہ ہمارا سال خوردہ مریض ’’جمہورفوبیا‘‘ نامی وی آئی پی بیماری میں مبتلا ہے ۔اس میں مریض شیزو فرینک تو یقینا نہیں ہوتا ہے لیکن اس کی حالت کچھ زیادہ قابل رشک بھی نہیں رہتی۔ کتابوں میں درج علامات کے مطابق اس جان لیوا بیماری میں مریض بہت سے ناقابل اصلاح اوہام کا شکار ہوجاتا ہے۔علامات کے مطابق اسے اٹھتے بیٹھتے ایک ہی خیال کچوکے دیتا رہتا ہے کہ ابھی کوئی دشمن آئے گا اور اس کے نیچے سے تخت طاؤس کھینچ کر چلتا بنے گا۔ یوں تو مریض میں کہولت کے آثار گذشتہ سال بھر سے ہیں لیکن اٹھارہ فروری کے بعد سے بیماری کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔حالت یہ ہے کہ مریض راتوں کو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے اور ان کروڑوں ووٹروں پر تبرے بھیجنے لگتا ہے جنہوں نے الیکشن الیکشن کے کھیل کو سیریس لے لیا اور ٹھکا ٹھک مخالفین کے نام پر مہریں لگا کر ان کے بکسے بھردئیے۔
سچی بات یہ ہے کہ اس روز سے ہمارے مریض کا دل دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل چکا ہے۔وہ اس احسان ناشناس عوام پر جتنا شاکی ہے اس سے زیادہ حیران ہے۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ترقی کے تسلسل کے طفیل جن لوگوں کے گھروں میں اس نے خوشحالیاں بھردیں۔جن کیلئے امن و امان کی صورتحال کو اس قدر مثالی بنا دیا کہ وہ اپنی چار دیواری میں چھپ کر چین کی بانسری بجایا کرتے تھے اورجن کا معیار زندگی دیکھتے ہی دیکھتے اس قدر بلند کردیا کہ ان کیلئے بجلی، گیس اور آٹا کسی حسرت زدہ عاشق کا خواب بن کر رہ گیا تھا۔وہ لوگ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ انہوںنے دشمنوں کے بہکاوے میں آکر یوں آنکھیں پھیر لیں کہ ترقی کے سارے تسلسل کی ایسی تیسی کردی۔ہمارے محترم مریض نے مایوسی اور بددلی کی کیفیت میں کئی بار سوچا کہ اس قسم کے احسان فراموشوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر جنگل کی راہ لی جائے لیکن اس منصوبے کو عملی جامہ اس لئے نہ پہنایا جاسکا کہ سندر بن سے ادھر کوئی ڈھنگ کا جنگل ہی نہیں بچا ہے۔تاہم واضح رہے کہ ان نازک مواقع پر ایک اور بڑے میاں جو امور آئین شکنی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اپنے چھوٹے سمیت اگر کمک پر نہ آگئے ہوتے تو بہکاووں میں آئی ہوئی یہ عقل و فہم سے عاری قوم ان کے وجود مسعود سے یقینا محروم ہوچکی ہوتی۔
حالات یقینا نہایت مایوس کن ہیں ۔معالجین نے بھی قرار دے دیا ہے کہ یہ دوا کا نہیں دعا کا وقت ہے لہذا ہم نہایت درد مندی کے ساتھ مریض کے تمام بہی خواہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہایت خضوع و خشوع کے ساتھ مریض کی صحت مندی کیلئے دعا کریں۔یہاں ہم ان بہی خواہوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ وہ گردن گردن مریض کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں۔انہوں نے برس ہا برس مریض کے دور حکومت میں ٹریکل ڈاؤن اکانومی کی گنگا میں جی بھر کر اشنان کیا ہے۔بھلے آج وہ اپنی گاڑیوں پر مخالف پارٹیوں کے جھنڈے لگائے پھرتے ہیں ۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہ گلے میں سونے کی زنجیریں اور انگلیوں میں بھاری بھرکم مندریاں پہنے اقتدار کے نئے مراکز کے گردا گرد منڈلاتے پھرتے ہیں لیکن وہ لوگ ہرگز نہ بھولیں کہ ان کے پاس جو بھی ہے وہ مریض کا دیا ہوا ہی ہے۔ہمارا وعدہ ہے کہ اگرانہوں نے ہماری دعائے صحت کی اپیل پر کان دھرے اور مریض کی بحالی کیلئے کی جانے والی مایوسانہ کوششوں کا بھر پور ساتھ دیا تو انہیں پہلے سے بڑھ کر ترقی کے تسلسل سے فیض یاب ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ہمیں امید ہے کہ ہمارے طوطا چشم سابق بہی خواہ عنداللہ ماجور ہونے کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کریں گے۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

Share this
No votes yet