Aaj ka Manzar

njusmani's picture

آج میں تغیر پیدا کرنے والے حالات آنے والے کل کے لئیے ایک نیا منظر تشکیل دے رہے ہوتے ہیں۔ اب یہ تغیرات پر مُنحصر ہے کہ وہ اپنے اندر کس حد تک مثبت یا مَنفی پہلورکھتے ہیں۔
میدان کھیل کا ہویا سیاست کا ایک فریق وجماعت کی کامیابی کا دراومدا،دوسرے فریق یا جماعت کی ناکامی اسی مثبت اور مَنفی پہلوؤں سے جُڑی ہوتی ہے۔
کل (ف) jui کی حکومت سے علیحیدگی کے فیصلے نے ایک نئی بحث و مباحثے کے دروا کردئیے ہیں

اک عرصے سے چلنے حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان موجود بہت سے نطریات ومسائل کے نتیجے میں ہونے والی یہ رسہ کشی بلاآخر کل(ف) jui کی جانب سے چھُوڑ دی گئی۔ مگر یہ بات یادرہے کہ رسی ہمیشہ ہارنے والا ہی نہیں چھُوڑتا بعض اوقات رسی کو اچانک چُھوڑدینا کھیل کا اک وہ حربہ ہے جوعموماً دوسرے فریق کو گرانے کے لئیےاستعمال کیا جاتا ہے جس کے نیتجے میں دوسرے فریق نے اگر رسی پر ہوشیاری سے اپنی گرفت نہ بنارکھی ہوتوایسی صُورت میں اُس کا گِرنا ایک لازمی امر ہے!

دیگرسیاسی جماعتوں اور حُکومت کے مابین انھی نظریاتی اختلافات کے باعث کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ دعوی تھا کہ وہ کسی بھی وقت حکومت کو چھُوڑدیں گی اور آخرکارکل یہ اپنے حُکومت چُھوڑنے کے اقدام کی بدولت یہ سہرا مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت کے ماتھے پر سجادیا اور یہ کہنا غلط نہیں کہ اس وقت جبکہ خود مولانا فضل الرحمن کا سیاسی کرداراوراُن کی جماعت کے سیاسی فیصلے آئے دن حُکومت کے ہمراہ خاص قرابت داری کے سبب جس تنقید کا نشانہ بن رہےتھے کل کے اس ایک فیصلے نے مولانا صاحب کی سیاسی کردار اور جماعت سے متعلق ناقدین کے بہت سے خدشات کو غلط ثابت کردکھایا۔

اس وقت مُلک کی تمام بڑی سیاسی خواہ آپس میں ایکدوسرے سے کسی بھی سطح پرکوئی بھی اختلاف رکھتی ہوں یہ امرقابل دید ہے کہ اُن میں سے کسی بھی ایک جماعت کی حمایت حُکومت کو حاصل نہیں اس صورتحال میں پیپلزپارٹی اپنی حُکومت اور وزراء کے ہمراہ تنہا کھڑی نظر آتی ہے۔
وہ وزراء جو کسی بھی وقت کُچھ کہہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس بات سے قطعی طُور پر لاتعلق ہوکر کہ کہا کیا جارہا ہے!
مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مابین جو سیاسی و نظریاتی اختلافات اک عرصے سے چلے آرہے ہیں اُس پر اتنا کچُھ لکھا جا چُکا ہے کہ اب اُس پر کُچھ بات کرنا غیرضروری ہوجاتا ہے ماسوائے ایک اس امرکے، کہ کم از کم مُسلم لیگ (ن) گروپ اپنے موقف کے ساتھ حُکومت کے سامنےبظاہر ڈٹاہوا ہے۔

اوراس دوران جب حکومت چاہنے کے باوجود مُسلم لیگ کے ساتھ تعلق بہتر نہیں کر پارہی ہے مُسلم لیگ (ن) بلاآخر پاکستان سیاست کی دوسری بڑی جماعت ہے اور اس جماعت کے ساتھ ناراضگی حکومت کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پر کمزور کررہی ہے۔
مگر اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے کہ مسُلم لیگ (ن) وہ ندی ہے جو کسی بھی وقت بل کھا سکتی ہے مُسلم لیگ(ن) حُکومتی اختلاف کے حوالے سے کسی بھی مسئلے کا ڈھونڈرا پیٹتی ہے اور پھر مسئلہ ختم ہونہ ہو مُسلم لیگ (ن) خاموشی اخیتار کرکے اگلے وقت تک کے لیئے پھر چُپ ہوکر بیٹھ جاتی ہے یہ بات تو عیاں ہے کے موجودہ حُکومت کا ہونا خُود مُسلم لیگ (ن) کے حق میں ہے۔ اختلافات کا کیا ہے وہ تو چلتے ہی رہتے ہیں !

دوسری جانب حکومت کو ایم کیوایم کی مخالفت کا سامنا ہے اور ابھی اس کا کوئی حل نکلتا بھی نہیں کہ جناب ذوالفقار مرزاصاحب کا ایم کیوایم کے خلاف حالیہ بیان اوراُن کا جارحانہ رویےنے ان دونوں جماعتوں کے درمیان دوری کومزید بڑھا دیا۔ابھی تک ایم کیوایم جو آر جی ایس ٹی کے موقف کے حوالے سے حکومت کے سامنے ڈٹی ہوئی تھی آس وقت ذوالفقار مرزا صاحب کا یہ بیان سونے پہ سُہاگہ کا کر گیا۔
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کےایک بیان کے مطابق کے ان تمام موجودہ بیانات اور مسائل سے متعلق ایم کیوایم کا تمام لائحہ عمل دس محرم کے بعد رابطہ کمیٹی اور دیگر اراکین کے باہمی رائے اور مشاورت کو مدنطررکھتے ہوئےطے کیا جائے گا۔
ایم کیوایم اور حکومت کے مابین ابھی آر جی ایس ٹی کے مسئلے پر ہی کوئی حتمی رائے سامنے نہ آسکی تھی کہ ایسے میں ذوالفقار مرزا صاحب کا یہ بیان ان دونوں جماعتوں کے مابین مزید دوری کا باعث بنے گا۔
اب رہ جاتی ہے anp جو بڑی تیزی سے اُبھر رہی ہے اور اس کی مقبیولیت اس جماعت کی سیاسی کارکردگی سے کہیں زیادہ اس کے رہنماؤں کا رویہ اوروہ بیان بازی ہے جس کے باعث یہ جماعت کسی نہ کسی بیان کے نتیجے میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز

ایک زبان عام جُملہ جوہم تمام ہی سیاسی زُبانوں کے رہنماؤں سے کہ مُنہ سے سُنتے ہیں کہ اُن کی سیاست اور جماعت پاکستان کی فلاح وبہبود کے لئیے ہے یہ اُن جماعتوں کا اپنا موقف و بیان ہے کیونکہ پاکستان میں جتنی سیاسی جماعتیں ہیں اگراس جمُلے میں بُہت نہ سہی تھُوڑی بہت بھی صداقت ہوتی تویقیناً صورتحال بہت مُختلیف ہوتی ہمارا جو وقت اور طاقت اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے میں سرف ہورہا ہے(یہاں ہم سے مرادآپ اور میں ہے) اس جانب اگرتوجہ حکومتی جانب سے دی جاتی تو اُس صورت میں بھی ہم نسبتاً بہتر حالت میں ہوتے۔
آج زمانہ فہم لوگ موجودہ صورتحال اور وقت کو حکومت کے چل چلاؤ کا وقت کہہ رہے ہیں اور بعض جانب سے تو عرصہ بھی متعین ہوجاتا ہے اور کبھی تاریخیں بھی مل جاتی ہیں اُن کے اس روئے کی بُنیاد اس نطرئیے پہ ہے کہ مُوجودہ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں مگراس حقیقت کا اعتراف تو ہمیں کُھلے دل کے ساتھ کرنا چاہئے کہ مُلک بھلے تاریخ کے بدترین دنوں سے گُذر رہا ہو، مسائل کی سطح خواہ کسی بھی حد تک بڑھ چُکی ہو میرے خیال میں یہ حُکومت اتنی بھی نا اہل نہیں جو ہرنئے دن اک نئے پیدا ہونے والے مسلئے کے ساتھ اتنی مظبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے لہذا اس بات سے یہ بات تورُوشن ہے کہ اقتدار کی کرسیوں سے چپکے رہنے کی اہلیت تو بہرحال ہے۔
آنے والا وقت اور دن اپنے اندر کیا کُچھ چُھپائے ہوئے ہیں یہ تو وقت آنے پر ہی پتا چلے گا ایک بات طے ہے کہ اگر یہ سیاسی جماعتیں اسی طرح اپنے موقف پر برقرار رہیں کیونکہ اس تمام پہلو میں یہ بات اچھی ہے کہ اس وقت کُچھ دو کُچھ لو والا فارمولاکارفرما نظر نہیں آرہا جو میرے خیال سے بُہت اچھی بات ہے۔ اور لہروں کا بہاؤ ایسا ہی رہا تو بیچ سمندر میں ڈولنے والی چیزیں بہت جلد کنارے پر لگ جائیں گی۔

جہاز جتنا بڑا ہواُسے ڈوبنے کے لئیے کُچھ وقت تو درکار ہوتا ہی ہے یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کسی چٹان سے ٹکرائے اور دوسرے غوطے میں سمندر کی تہہ سے جالگے جو لوگ جہازاور طوفانوں سے معتلق اپنی اپنی رائے قائم کئیے بیٹھے ہیں اُن سے صرف یہ گزارش ہے کہ چُپ چاپ بیٹھے سمندر میں ہونے والا تماشہ دیکھیں کیوں بہرحال جہاز میں سُوراخ تو ہُوچُکا ہے!

ندیم جاوید عُثمانی

Share this
No votes yet