12مئی سے 12مئی تک

Submitted by ajnasir on Sun, 05/18/2008 - 20:22

12مئی سے 12مئی تک
زرداری ،نوازمذاکرات سے ایک نیا خلفشار جنم لیتا نظرآرہا ہے
عبدالجبار ناصر
[email protected]
دن ،ماہ اور سال گزرتے پتا ہی نہیں چلتا ۔ سانحہ 12 مئی 2007ءکو آج سال پورا ہوا مگر معلوم ہوتا ہے یہ کل کی بات تھی۔ذرا سال بھرپیچھے کوجائیے ایک طرف کراچی کی سڑکوں پر 45افراد کی بکھری لاشیں،100سے زائد تڑپتے زخمی انسان اور خون کی ندیاں، گولیوں کی تڑتڑاہٹ ہے اور خوف کے منڈلاتے سائے تو دوسری طرف اسلام آباد کے پرفضا مقام پر ڈھولک کی تھاپ پر لوگ رقصاں ہیں اور ایک شخص بلٹ پروف شیشے کے بکس میںکھڑاکہہ رہاہے” دیکھو !ہماری قوت کراچی میں بھی اور یہاں بھی“ اوریہ کہنے والا کوئی اور نہیں وقت کا حکمران تھا۔ مگر کسی نے سچ کہا ہے کہ اقتدار کی کرسی یانشہ بڑا خطرناک اور بے رحم ہوتا ہے، یہ لت جس کو لگ جائے، آخری وقت تک اس کی جان نہیں چھوٹتی ہے اور اسی نشے میں حکمران ایسی غلطیاں کرجاتے ہیں جو کبھی تو مملکتوں کی بربادی اور کبھی حکمرانوں کے لیے تاج و تخت سے محرومی کاسبب بنتی ہیں۔ ایسے حکمرانوں کا نام تاریخ میں اگر زندہ بھی رہتا ہے تو بطور عبرت رہتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال سے ہمارے ملک کے سابق اور موجودہ نئے اور پرانے حکمران دوچار نظر آتے ہیں۔
اس ملک میں12 مئی 2007ءسے 11 مئی 2008ءتک 365دنوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے، پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں آمریت کی پیداوار کی بجائے جمہوریت کے دعویدار موجود ہیں۔ بظاہر حکمرانی آمروں کی بجائے عوامی حکمرانوں کی نظر آرہی ہے۔ جومکا 12 مئی 2007ءکو قوت کے مظاہرے کے وقت پرجوش تھا آج اس ہاتھ پر لرزہ طاری ہے۔ جلاوطن قیادت لوٹ آئی، بے نظیر جدا ہوگئیں، لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ میں سینکڑوں طلبہ و طالبات کومنظر سے اس طرح غائب کرایا گیا کہ معلوم نہیں ان کو زمین نگل گئی یاآسماں کھاگیا۔ عام انتخابات بھی ہوئے، نئے حکمران بھی آئے، چیف جسٹس بھی بحالی کے بعد اپنے دیگر 60ساتھیوں کے ساتھ معزول اور قید ہوئے پھر ان کو رہائی بھی ملی ،ایمرجنسی آئی اور چلی بھی گئی،پی سی او بھی آیا، آئین میں فرد واحد کی طرف سے ترامیم بھی ہوئیں اور 90 میں 60 منصف خود انصاف کی تلاش میں بھی نکلے۔مٹھی کھلتی ہے تو ایک طرف آئین پا مال ہوتا ہے تو دوسری طرف جج قید ہوتے ہیں۔ کبھی قبائل پر بمباری ہوتی نظر آتی ہے توکبھی بلوچستان اور صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں فوج کشی کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں تباہی کے مناظر تو کہیں ترقی کے نام پر فحاشی اور عریانی کاعروج ؟۔ کہیں آٹے،چینی، گھی، چاول اور دیگر اشیائے ضرورت کے لیے 98 فیصد عوام قطاروں میں نظر آتے ہیں تو دوسری طرف حکمران لندن اور دبئی کے دوروں اور شاہ خرچیوں میںمصروف ہیں۔جس ملک کے 40 فیصد سے زیادہ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہوں کیا اس ملک کے حکمراں ان شاہ خرچیوں کے متحمل ہوسکتے ہیں؟، اگر ان دوروں اور شاہ خرچیوں کا کوئی مقصد سامنے آتا توشاید عوام قبول کرتے مگرنتیجہ صفر ہے یعنی دبئی مذاکرات میں ججوں کی بحالی کے لیے 12 مئی کی تاریخ دی جاتی ہے تو لندن مذاکرات میں ناکامی کا اشارہ ملتاہے ۔
لندن میں مسلم لیگ( ن)کے قائد اور پی پی پی کے شریک چیئرمین کے مابین مذاکرات کاکوئی مثبت نتیجہ نکلتا نظر نہیں آرہاہے اور حالات سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک نیا بحران کروٹیںرہا ہے، جس کا یہ ملک متحمل نہیں ہوسکتا ۔ نواز شریف کے مطابق پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے نئے ججوں کی مستقل یا ایڈہاک بنیاد پر تقرری کے حوالے سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے۔ مسلم لیگ( ن) ان ججوں کوایڈہاک جبکہ پی پی پی مستقل کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تنازع یہ نہیں بلکہ کچھ اور ہے ۔آصف علی زرداری نا دیدہ قوتوں کی مبینہ خواہش پرمسلم لیگ (ن) اور دیگر اتحادیوں کو نہ صرف ان ججوں کی مستقل تقرری بلکہ چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی، بنچوںمیں نئے اور پرانے ججوں کی تعداد کے حوالے سے پیکج پر تیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں،جبکہ مسلم لیگ (ن) اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ معلوم نہیں کہ آصف علی زرداری کن قوتوں کے دبا¶ میں آکر اس حد تک جانے کو تیار ہیں۔ بظاہر تو ایسی کوئی قوت نظر نہیں آتی مگر گمان یہی ہے کہ صدر مشرف پہلے کی طرح آج بھی مضبوط ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی قوت کا اظہار کرنے کی بجائے بظاہر خاموشی اور بیک ڈور رابطے اور دبا¶ جاری رکھا ہوا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اپنے سخت موقف پر قائم ہیں اور لندن اور دبئی مذاکرات کے باوجود زر داری ان کو قائل نہیں کرسکے ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ سارے دبا¶ میں انا پرستی اور خود غرضی کا عنصر موجود ہے۔ اس سے صدر مشرف، زرداری، نواز شریف یا دیگر سیاسی قائدین کا انفرادی کوئی نقصان نہیں ہے ،نقصان ہے توصرف ملک کاکہ اسکی بقاوسلامتی داﺅ پر لگی ہوئی ہے آخرروز روشن کی طرح عیاں اور واضح یہ حقیقت یہ ہمارے حکمران اور قائدین کیوںنہیں سمجھ پارہے ۔ چند روز قبل ایک سینئرسرکاری افسرنے انتہائی مایوسی کے انداز میںراقم سے کہا آخر ان لوگوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ ملک ہے تو ہم حکمران اور لیڈر ہیں، (اللہ نہ کرے) اگر یہ ملک نہ ہوتا تو شاید ہمیں انگریز اورہندو اپنا چپراسی تک رکھنے کو تیار نہ ہوتے۔ بقول اس افسر کے اب ہم بھی مایوس ہوچکے ہیں، کیونکہ جہاں امید کی کرن نظر آتی ہے وہیں اچانک ناامیدی کا اندھیرا چھاجاتا ہے۔ آخرکب تک ہم چوہے بلی کایہ کھیل دیکھتے رہیں گے۔ عام آدمی کے لیے دو وقت روٹی نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن ہوچکی ہے۔ ایسے میں وہ جرائم میں ملوث نہ ہونگے تو اورکیاکریںگے، خود کشیاں نہ ہوں گی تو اور کیا ہوگا، میں نے 20 سال سرکاری ملازمت کی آج جب میری بچی کی شادی کا وقت آیا تو میں اپنی زندگی کی جمع پونجی جمع کرکے بھی اس کو زمانے کے حساب سے رخصت نہیں کر پا رہا ہوں۔اسی طرح کے جذبات تقریباً اس ملک کے 98 فیصد عوام کے ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ صدر مشرف ہو ںیا یوسف رضا گیلانی ،نواز شریف ہوں یا زرداری کوئی بھی اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ عوام کی کچھ امیدیں موجودہ حکمرانوں سے تھیں مگر انہوں نے بھی مایوس کردیا ،کچھ عجب نہیں کہ یہ مایوسی اور محرومی خونیںانقلاب کاروپ دھارلے۔ زرداری اور نواز شریف کے مذاکرات کا نتیجہ بظاہر ایک نئے خلفشارکے جنم کی صورت نظر آرہاہے۔ دیکھنا ہے کہ ایک 12 مئی کو سابق حکمرانوں نے 50 لاشوں کا تحفہ عوام کو دیا موجودہ حکمران اس 12 مئی کو کیا تحفہ دیتے ہیں۔ملک میں ضمنی انتخابات کے نئے شیڈول کا اعلان بھی کردیا گیاہے جس کے مطابق ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلی کی38 خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا 26جون 2008ءکو ، جن میں قومی اسمبلی کی 8،پنجاب اسمبلی کی17،سندھ اسمبلی 3،بلوچستان اسمبلی کی3اورسرحد اسمبلی کی7نشستیںشامل ہیں۔قومی اسمبلی کی8 خالی نشستوں میں این اے11مردان،این اے52راولپنڈی،این اے55راولپنڈی،این اے119لاہور،این اے123لاہور،این اے 131شیخ پورہ،این اے147 اوکاڑا،این اے207 لاڑکانہ شہداد کوٹ۔ پنجاب اسمبلی کی 17خالی نشستوں میں پی پی10 راولپنڈی،پی پی48 بکھر،پی پی59 فیصل آباد،پی پی70 فیصل آباد،پی پی99 گجرانولہ،پی پی107 حافظ آباد،پی پی118 ایم بی دین،پی پی124 سیالکوٹ،پی پی141 لاہور ،پی پی154 لاہور،پی پی171 ننکانہ صاحب،پی پی219 خانیوال،پی پی229 پاک پتن،پی پی243 ڈی ائی خان،پی پی258 مظفر گھڑ،پی پی277 بھاولپور،پی پی295 رحیم یار خان۔سندھ اسمبلی کی3خالی نشستوں میں پی ایس30 خیر پور، پی ایس44 مٹیاری،پی ایس62تھر پارکر۔سرحد اسمبلی کی7 خالی نشستوں میں پی ایف 20چارسدہ ،پی ایف45ایبٹ آباد،پی ایف59بٹگرام،پی ایف75 لکی مروت،پی ایف81 سوات،پی ایف91 اپر دیر،پی ایف 92اپر دیر۔بلوچستان اسمبلی کی3نشستوں پی بی9 پشین،پی بی32 جھل مگسی اورپی بی44 لسبیلہ شامل ہیں۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......