’آزاد‘یا ’پاک مقبوضہ‘کشمیر ؟ —— چند حقائق

Khwaja Ekram's picture

جنوبی ایشیا کا کشمیر خطہ گذشتہ چھ دہائیوں سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازع کا ایک بڑا سبب بنا ہوا ہے اور اس کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان دو جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ خطہ دو حصوں میں بنٹا ہوا ہے، ایک ہندوستان کے زیر اختیار ہے جب کہ دوسرا خطہ پاکستان کے قبضے میں ہے۔ اس کی تاریخ میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ جس وقت برصغیر ہند نوآبادیاتی برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کر رہا تھا، اسی وقت ’دو قومی‘ نظریہ کے تحت پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ لہٰذا بر صغیر کے عوام کو جہاں ایک جانب انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرتے ہوئے بے پناہ خوشی کا احساس ہوا وہیں دوسری جانب ملک کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا بھی رنج و ملال ہوا، جسے موجودہ نسل بھی آج تک فراموش نہیں کر پائی ہے۔ تقسیم کے وقت ریاست جموں و کشمیر کا الحاق نہ تو ہندوستان کے ساتھ ہوا تھا اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ، لیکن پاکستان کی غاصبانہ پالیسی اور غلط نیت نے اس ریاست کے عوام کو ایسا زخم دیا جس کا مداوا آج تک نہیں ہو پایا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان کی تشکیل کے فوراً بعد وہاں کی حکومت نے اپنے چند قبائلیوں کو، جو آج طالبان کے نام سے مشہور ہیں، کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے وہاں بھیجنا شروع کردیا، ایسے وقت میں جب کہ ریاست جموں و کشمیر میں نہ تو ہندوستان کی کوئی فوج موجود تھی اور نہ ہی ریاست کے مہاراجہ نے اُس وقت تک ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کا کوئی عندیہ دیا تھا۔ خود پاکستان کے ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر، میجر جنرل اکبر نے اپنی کتاب “The Raiders of Kashmir” (کشمیر کے حملہ آور) میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح انھیں کشمیر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا، اور انھوں نے کس طرح ان قبائلیوں کو اسلحے وغیرہ فراہم کیے۔ لیکن ان قبائلیوں کے لوٹ، قتل و غارت گری اور عصمت دری میں ملوث ہوجانے کے سبب پاکستان کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا اور آخرکار کشمیر کے مہاراجہ نے بھی پاکستان کی طرف سے اپنا ذہن بدل لیا جس کا نتیجہ ہندوستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی صورت میں سامنے آیا۔ ہندوستان کے آخری وائسرائے ماو نٹ بیٹن نے بھی ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ انھوں نے کشمیر کا دورہ کیا تھا اور راجہ جے سنگھ کو منانے کی پوری کوشش کی تھی کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لیں، لیکن مہاراجہ نے اس وقت انھیں کوئی جواب نہیں دیا تھا، مگر بعد میں پاکستانی قبائلیوں کے حملے کے بعد ان کا ذہن اچانک تبدیل ہوگیا۔بہرحال، ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ کیسے ہندوستانی فوج نے کشمیر جاکر وہاں کے عوام کو پاکستانی قبائلیوں کے ظلم و ستم سے آزادی دلائی، لیکن بدقسمتی سے کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنے قبضہ والے کشمیر کو ’آزاد کشمیر‘ کہنا شروع کردیا جب کہ ہندوستان اسے اب بھی مقبوضہ کشمیر کے نام سے ہی پکارتا ہے۔ 1965 کی جنگ کے دوران ہندوستان چاہتا تو کشمیر کے اس حصے کو بھی اپنے اختیار میں لے سکتا تھا، لیکن اس نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے یہ حصہ پاکستان کو لوٹا دیا۔ اب اگر ہم حقائق پر نظر ڈالیں تو کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی 1948 کی قرارداد کے مطابق ”آزاد کشمیر نہ تو ایک خود مختار ریاست ہے اور نہ ہی یہ پاکستان کا ایک صوبہ ہے، بلکہ یہ ایک ’لوکل اتھارٹی‘ ہے جسے اس علاقہ کی ذمہ داری ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی کے 1949 کے معاہدہ کے مطابق دی گئی ہے۔“
لیکن مقبوضہ کشمیر یا نام نہاد ’آزاد کشمیر‘ کے تئیں پاکستان کی پالیسی اس حقیقت کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ عملی طور پر اس پورے علاقہ پر پاکستانی حکومت، پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا مکمل اختیار ہے۔ یہاں پر نہ تو لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سیاسی جماعت کی تشکیل کرنے کی۔ یہاں نہ تو پریس کی آزادی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سماجی و ثقافتی سرگرمی کی۔ حد تو یہ ہے کہ دنیا کو اس علاقہ کے بارے میں بھی زیادہ کچھ معلوم نہیں ہے۔ 2005 میں اس علاقہ میں آنے والا ہولناک زلزلہ ایسا پہلا موقع تھا جب بین الاقوامی برادری کو یہاں جانے کی اجازت دی گئی، تب جاکر دنیا کو معلوم ہو سکا کہ یہ خطہ کس قسم کی سماجی و اقتصادی پس ماندگی کا شکار ہے۔ پاکستان جسے آزاد کشمیر کہتا ہے، حقیقتاً وہ علاقہ پوری طرح پاکستانی حکومت کا غلام ہے اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے پاکستانی حکومت نے اسلام آباد میں الگ سے ایک وزارت قائم کر رکھی ہے جس کا نام ہے ’وزارتِ کشمیری امور‘۔ اس کے علاوہ پاکستان نے کشمیر کے لیے ’1974 عبوری آئین‘ کے نام الگ سے ایک آئین بنا رکھا ہے (جسے پاکستان کی دو وفاقی وزارتوں – وزارتِ قانون اور وزارتِ کشمیری امور نے مشترکہ طور پر مرتب کیا تھا)، جس کی رو سے حکومت پاکستان ’آزاد کشمیر‘ کی کسی بھی منتخبہ حکومت کو معطل کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آئین کی رو سے دو ایسے عملے کی بھی تشکیل کی گئی ہے جسے اس علاقہ کے مکمل انتظام و انصرام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے — یعنی مظفرآباد میں واقع حکومتِ آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں واقع آزاد کشمیر کونسل۔ آزاد کشمیر کونسل کی صدارت خود پاکستانی وزیر اعظم کرتے ہیں جنھیں آزاد جموں و کشمیر قانون قاز اسمبلی پر پورا اختیار حاصل ہے، جو اس کونسل کے کسی بھی فیصلہ کو رد نہیں کرسکتی۔ اس کونسل میں پاکستانی وزیر اعظم کے علاوہ چھ دیگر وفاقی وزرا، وزیر برائے کشمیری امور، وزیر اعظم آزاد کشمیر، اور آزاد کشمیر قانون ساز کونسل کے چھ منتخب اراکین بھی شامل ہوتے ہیں۔ کشمیر کے لیے بنائے گئے اس عبوری آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ ریاست کے کسی بھی فرد یا جماعت کو ایسی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے یا ایسی کوئی بات کہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اس علاقہ کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے اصول کے منافی ہو۔ اس کے علاوہ ’آزاد کشمیر‘ کے کسی بھی شخص کو انتخاب میں حصہ لینے یا سرکاری نوکری حاصل کرنے کی اس وقت تک اجازت نہیں ہوگی جب تک کہ وہ ’ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق‘ کے ایک حلف نامہ پر دستخط نہ کردے۔

ان تما م باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ’آزادی‘ کے نام پر کشمیریوں کی ایک بڑی آبادی کو اپنا غلام بنا رکھا ہے، جہاں پر نہ تو ان کی اپنی کوئی شناخت ہے، نہ شہریت اور نہ ہی انھیں ایسی کوئی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق کوئی مطالبہ پاکستانی حکومت سے کر سکیں۔ المیہ یہ ہے کہ وہ شخص جسے آزاد کشمیر کا وزیر اعظم کہا جاتا ہے اسے بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کوئی بات اپنے عوام کی بھلائی میں یا پاکستانی حکومت کی غلط پالیسیوں سے متعلق کہہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار جب آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس علاقہ کے قدرتی وسائل پر کشمیریوں کے حق کی بات کہی تھی تو اگلے ہی دن آئی ایس آئی کے دو اہل کار ان کے گھر پہنچ گئے اور ان سے زبردستی ایک کاغذ (استعفیٰ نامہ) پر دستخط کرنے کے لیے کہا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چار سال سے بھی کم وقت میں آزاد کشمیر کے چار وزرائے اعظم آئے اور چلے گئے۔ لیکن وہیں سرحد کی دوسری جانب ہندوستانی جموں و کشمیر میں منظر نامہ بالکل الگ ہے۔ پوری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ ہندوستانی ریاست جموں و کشمیر میں کس طرح جمہوری عمل کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور وہاں پر کس طرح ترقیاتی عمل جاری و ساری ہے۔ لیکن پاکستان کو یہ بات راس نہیں آتی اور وہ ’کشمیر میں جہاد‘ کی اپنی ریاستی پالیسی پر اب بھی کارفرما ہے۔ ان حقائق کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان کو کشمیریوں سے کبھی کوئی ہمدردی نہیں رہی۔ وہ تو صرف طاقت اور غلط پروپیگنڈے کی بنیاد پر تمام کشمیریوں کو اپنا غلام بنانے کی فراق میں ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسی پالیسیاں ہمیشہ کامیاب نہیں رہتیں۔ آنے والا وقت پاکستان کو اپنی غلطی کا احساس ضرور کرائے گا۔

Share this
No votes yet

Comments

Guest's picture

answer

Only, academic custom papers writing business presents such great reduced costs for essays. It's always nice to have a chance to buy pre written papers for good prices.