یہ کیا جگہ ہے دوستو؟

Submitted by Atif Aliem on Fri, 05/23/2008 - 08:50

شاعر نے کہا تھا کہ’’ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘۔سو یہ کوئی ایک دم سے ہوجانے والا حادثہ نہیں ہے نہ یہ فوری اشتعال کا معاملہ ہے۔اس کے پیچھے جانے کتنی دہائیوں کا غیض، نفرت اور خواہش انتقام کارفرما ہے اور جانے کتنی حسرتوں کے بے کفن لاشے بکھرے پڑے ہیں۔اس سارے عمل میں ایک سرد منصوبہ بندی اور ایک پرجوش اجتماعی شرکت نے وارداتوں کے اس سلسلے کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔ملاحظہ کیجئے کہ اپنے گھر کی حفاظت کرتے ہوئے زخمی ہونے والے اکبر کی پکار پرعلاقے کے لوگ اپنے گھروں سے آناً فاناًنمودار ہوئے اور تعاقب کرکے ڈاکوؤں کو گھیر لیالیکن کسی فوری اشتعال کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ہجوم کی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ہزاروں کا مجمع غیض سے بھرا ہو تو نہایت سرعت کے ساتھ ایک وجود میں ڈھل جاتا ہے جونہایت واضح اور منظم فیصلے کرتا ہے۔ڈاکوؤں کو گھیرنے والے ہجوم نے بھی طے کرلیا کہ اسے کیا اور کیسے کرنا ہے۔ الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کو اطلاع دی گئی، ان کے آنے کا باقاعدہ انتظار کیا گیا۔میڈیا والے خبر کی تلاش میں بھاگم بھاگ پہنچے ۔تب کیمرے کھلے اور بھری شاہراہ پر عوامی عدالت نے اپنا فیصلہ سنادیا۔اس دوران پولیس والے بھی کارکردگی دکھانے کو آموجود ہوئے۔ہجوم نے ان سے مطالبہ کیا کہ ڈاکوؤں کو سب کے سامنے گولی ماردی جائے۔انہوں نے انکار کیا تو انہیں حقارت سے پیچھے دھکیل دیا گیا۔اس کے بعد فیصلے پر عملدرآمد کا مرحلہ آیا۔پندرہ سولہ سو لوگوں کا ہجوم ان ڈاکوؤں پر پل پڑا۔ ہاتھ آئے شکار کو مار پیٹ کر چھوڑ دینا اس پاگل ہجوم کے جنون کی تسکین کیلئے کافی نہ تھا سو اس نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے ان نیم مردہ ڈاکوؤں کو ایک طرف ڈالا اور مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔

ٹی وی چینلوں کے توسط سے کروڑوں آنکھوں نے یہ منظر دیکھا کہ آگ ان بدنصیبوں کے زندہ جسموں کو چاٹ رہی تھی۔نارمل حالات میں اس کریہہ اور ہولناک منظر کی ہولناکی کا سامنا کرناتو کجا اس کا تذکرہ بھی جسم کو جھرجھرا دے لیکن زندہ انسانوں کو اس بھیانک انداز میں مرتے دیکھنا اس نعرے لگاتے ہجوم کیلئے ایک تماشے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ہجوم پاگل پن میں نعرے لگا رہا تھا اور آگ کا کفن اوڑنے والے بدنصیب دہائیاں دے رہے تھے۔ہوتے ہوتے ان بدنصیبوں کی چیخیں دم توڑ گئیںاور پیچھے جلے ہوئے لوتھڑے اور تعفن زدہ دھواں رہ گیا۔اس روز کراچی کی ایک شاہراہ پر سجنے والی اس عوامی عدالت نے اپنے پہلے فیصلے پر عمل کرکے یہ اعلان کردیا کہ یہ ملک ایک نئے دور میں داخل ہوچکا ہے۔اب ریاست اپنا وجود تلاش کرتی ہے تو کرتی پھرے ، حکومت اپنی رٹ کیلئے باؤلی ہوتی ہے تو ہوتی پھرے ۔اب انصاف ہوگا اور برسرعام ہوگا ۔ہر وہ شخص جس کے بازوؤں میں دم اور ہاتھ میں ڈنڈا ہے۔ وہ اپنی عدالت خود لگائے گایہی نہیں بلکہ اس وحشت ناک انصاف کو کیمرے کی مدد سے گھر گھر پہنچایا جائے گا۔

اس پیغام کے منظم پھیلاؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی میں ہی تیسرے دن ایک اور علاقے میں ایک اور عوامی عدالت لگی اور ایک اورزندہ انسان ہجوم کی وحشت کی بھینٹ چڑھا۔پولیس والوں نے مداخلت کی تو اس انتقام میں انہیں بھی حصہ دار بنانے کی کوشش کی گئی۔اس واقعہ میں ڈاکو کے ساتھ ساتھ ایک پولیس والے کو بھی آگ کا لباس فاخرہ پہنانے کی کوشش کی گئی ۔اس ایک ہفتے کے دوران تین ایک جیسے واقعات ، الامان و الحفیظ۔اور پھر چوتھا واقعہ جس میں شکار ہونے والے دو نوجوان یکسر بے گناہ تھے۔انارکی کا ایک اور ہولناک پہلو۔گویا پاگل پن کا شکار ہونے کیلئے ڈاکو ہونا ضروری نہیں ۔کوئی بھی شخص کسی کے بھی جذبہ انتقام کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔عوامی عدالت کا تماشا ہو تو لاہور کیوں پیچھے رہے؟۔دیوانگی تو ایک پاگل آندھی ہے جو ایک بار اٹھتی ہے تو سارے کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہتی ہے۔سو کراچی اور لاہور ہی کیوں ؟۔انصاف کا متلاشی تو سارا ملک ہے۔فاٹا اور سوات میں تو یہ عمل کئی برسوں سے رواج پاچکا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ دیوانگی میں جھلستے ہوئے اس طرز انصاف کا اور کہاں کہاں راج ہوگا؟۔

جو ہوا اور جو ہوگا وہ انہونا نہیں ۔پریشر ککرنے پھٹ کر رہنا تھا مسئلہ صرف ٹائمنگ کا تھا۔لوگوں نے ریاست اور سیاست کو بہت مہلت دی۔اٹھارہ فروری کے بعد پورے ملک میں ایک اطمینان کی لہر پھیلی ۔خیال تھا کہ اب عوام کی آواز سننے والے جج بحال ہوں، عدالتیں اپنے عمل میں آزاد ہوں گی۔لوگوں کو ان کی دہلیز پر انصاف ملے گا۔نفرت کی علامتیں جنہوں نے برسوں تک عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کئے رکھا۔ان کے وجود سے اس ملک کو پاک کیاجائے گا۔ریاست پر قابض وہ مکروہ گٹھ جوڑ جس نے ایک کھلے دل و دماغ کے زندہ دل معاشرے کو مایوس اور جنون زدہ لوگوں کے ہجوم میں بدل دیا ہے ۔جن کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں اچھوت اوربھکاری کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔ان سازشیوں کو ملک کے وجود سے نوچ پھینکا جائے گا۔ انہیںکیفر کردار تک پہنچایا جائے گاجنہوں نے عوام کو مافیاؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ انہیںاحتساب کے کٹہرے میں لایا جائے گاجو عوام کا خون پسینہ چوری کرکے اپنے خزانے بھرتے رہے۔اٹھارہ فروری کے بعد خیال ہوا کہ عوامی فیصلے کے بعدآئین کی پاسداری کی جائے گی۔ انسانوں کووہ تمام حقوق مل جائیں گے جن کی ضمانت ملک کا آئین دیتا ہے۔ کسی کو آٹے کی قطاروں میں جانوروں کی طرح دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑے گانہ کوئی گھر اندھیروں میں نہیں ڈوبے گا۔کسی کے بچے سکول جانے سے محروم رہیں گے نہ کوئی عدم تحفظ اور ڈاکو گردی کا شکار ہوگا۔

اٹھارہ فروری تاریخ کا ایک ایسا موڑ تھا جب عوام کے مطالبات نہایت واضح اور اٹل تھے اور توقعات آسمان تک بلند تھیں۔لیکن ہوا کیا کہ اقتدار میں آنے والوں کے نفرت کی علامتوں کے ساتھ معاہدے کام دکھا گئے اور قوم آگے بڑھنے کی بجائے 1988 کی طرف واپس دھکیلی جانے لگی۔مہلت تمام ہوچکی تھی سو اگرپریشر ککر پھٹا ہے تو حیرت کیسی؟دکھ ضرور ہے کہ عوامی عدالت کے مجرم کوئی اور تھے لیکن سزا کے مستحق وہ ٹھہرے جو اسی مکروہ نظام کی ناانصافیوں کا شکار تھے۔جو نیکی کی حالت میں پیدا ہوئے لیکن اس بانجھ اور سفاک معاشرے نے انہیں جرم کی تاریکیوں میں دھکیل دیا۔جنہیں ہجوم نے زندہ جلادیا،کون جانے انہیں مواقع ملتے تو وہ کتنے عالی مرتبت ہوتے۔وہ چھوٹی موٹی وارداتیں کرنے والے ہجوم کے غیض کا نشانہ اس لئے بنے کہ ہجوم کے اصل مجرم بلند و بالا فصیلوں کے اندر جدید اور مہنگی ترین سیکورٹی کے حصار میں رہتے ہیں۔وہ کل بھی محفوظ تھے اور آئندہ بھی کوئی ان کی ہوا کو نہیں پا سکتا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہجوم کے جذبہ انتقام کے تسکین کی کوئی صورت تو ہو ۔بڑے مجرم نہ سہی چھوٹے مجرم ہی سہی ۔کسی کا جسم تو جلے کہ صدیوں سے سلگنے والی روحوں کو کچھ قرار مل سکے۔

افسوس بلند فصیلوں کے کان نہیں ہوتے۔ہوتے تو ان کے پیچھے چھپے ہوئے لوگ بہت پہلے بے آواز چیخوں کو ضرور سن لیتے ۔لیکن وہ کچھ نہیں سن سکتے اور کچھ نہیں سمجھ سکتے۔دیوانگی کی یہ ابتدائی لہریں بھی انہیں جھنجھوڑنے میں ناکام رہیں گی اور وہ ایک دوسرے کو خلعتیں پہنانے میں یا ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے میں مصروف رہیں گے لیکن یہ ان کی آخری غلطی ہوگی ۔کون جانے دیوانگی کی ان چھوٹی چھوٹی لہروں کے پیچھے کس سونامی کی آمد آمد ہے۔ جب سونامی کی قیامت ٹوٹتی ہے تو اس کی لپیٹ میں کچے گروندے ہی نہیں مضبوط قلعے بھی آتے ہیں۔کاش کوئی جان سکے،کوئی سمجھ سکے اور کوئی مداوا کرسکے۔

Yeh Kia Jageh Hai Dosto? is an urdu article by Arif Aliem. [email protected]

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......