ہم کس سمت جا رہے ہےں؟؟؟

atif saeed's picture

کالم نگار: عاطف چودھری
قارئےن کرام! گزشتہ روز ایک ساتھی کالم نگار نے پاکستانی معاشرے میں برائی و بے حیائی کا سارے کا سارا قصور انڈیا اور انڈین میڈیا پر لگا دیا۔ مجھ اس کالم نگار کی باتوں پر ہنسی بھی بہت آئی اور اپنی قسمت پر رونا بھی بہت آیا۔ہنسی اس بات کی کہ کیا انڈیا والوں نے خود آکر آپ کو کہا ہے کہ ہماری فلموں کو اپنی بہو، بیٹیوں اور بیویوں کو دکھاﺅ، انہوں نے تو نہےں کہا کہ اپنی بیٹیوں اور بچوں کو اس طرح کا لباس خرید کر دو، جس طرح کا ہمارے معاشرے میں پہنایا جاتا ہے، انڈیا تو وہ ملک ہے ےہ سب کلچر ہے، انہوں نے تو نہےں کہا کہ آپ اپنی شادی بیاہ کی تقاریب میں ان کے گانوں کو ڈانس کرو اور اپنی بیٹیوں کو اس بات کی اجازت دو کہ شادی بیاہ میں غیر مردوں کے ساتھ ڈانس کرے۔۔۔
اور اپنی قسمت پر رونا اس لےے آیا کہ ہماری قوم کا ےہ وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ کرتی خود ہے اور پھر الزام دوسروں پر لگا دیتی ہے۔ ہم اپنے گریبان میں نہےں جھانکتے۔ ہم ےہ نہےں دیکھتے کہ ہم نے کیا کھو دیا ہے، ہمارے دین اسلام میں عورت کے لےے ایسے ایسے اصول بنائے گئے ہےں، جو دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہےں ہے، لیکن آج ہماری عورتیں ےہ کہتی ہےں کہ اسلام Rigidمذہب ہے، اس میں عورت کے لئے آزادی نہےں ہے، آخر ےہ سب کیوں ہے؟؟؟؟
کیونکہ آج ہم دین اسلام سے دور ہوتے جارہے ہےں، ہم نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے راستے کو چھوڑ دیا ہے، آج ہم نے غیر مسلموں کا ہاتھ تھام کر ان کے راستے پر چلنا شروع کر دیاہے، جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل فرما دیا تھا کہ ےہ ےہود و نصاریٰ تمہارے کبھی دوست نہےں ہو سکتے، مگر آج ہم ان ہی کی دوستی کا رونا روتے رہتے ہےں، جبکہ وہ دوست بھی کہتے ہےں اور پھر ہم پر ہی حملے بھی کرتے ہےں، ہمارے ہی بندوں کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیتے ہےں اور ہم کہتے ہےں کہ وہ ہمارے دوست ہےں۔
قارئےن کرام! آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف بے حیائی ہی بے حیائی ہے، جس سڑک اور گلی سے گزریں آپ کو عورتیں آدھے لباس میں دکھائی دیں گی اور عورت کے سر پر چادر ہو ےہ بہت پرانا رواج ہوگیا ہے۔ آج ہمیں اسلام کے اصولوں کا کوئی خیال نہےں ہے، اسلام نے ہمیں اتنے سنہری اصول بتائے ہےں کہ جن پر ہمارے آباﺅ اجداد نے عمل کیا تو انہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی اور آج ہم نے ان کو چھوڑ دیا تو آج ہم پر پوری دنیا حکومت کر رہی ہے، کسی بھی اسلامی ملک کو دیکھ لیں اس میں غیر مسلموں کا راج ہے۔ اسلامی تشخص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم نے مسلمان ہونے کا صرف لبادہ اوڑھا ہوا ہے، درحقیقت میں ہم میں مسلمان بہت کم بچ گئے ہےں، آج مسلمانوں کو چھ کلمے تو دور کی بات دوسرا کلمہ تک نہےں آتا، نماز پڑھنی نہےں آتی، کئی کئی مہینوں کو ہمارے نوجوان مساجد میں داخل نہےں ہوتے، جبکہ روزانہ اگر وہ رات کو ایک ڈانس پارٹی نہ کر لیں تو ان کو نیند نہےں آتی، اذان ہو رہی ہوتی ہے اور ہمارے گھروں میں اونچی اونچی آواز میں میوزک بج رہا ہوتا ہے اور کسی کو اذان او رنماز کا خیال تک نہےں آتا اور پھر ہم کہتے ہےں کہ ہم مسلمان ہےں۔ ان سب میں زیادہ قصور والدین کا ہے، جو بچوں کو نہ تو نماز اور روزہ کی تربیت کرتے ہےں اور اوپرسے ان کو غلط کاموں سے منع بھی نہےں کرتے اور جب بیٹا غلط کام کرتا ہے تو آگے سے خوش ہوتے ہےں۔۔۔۔مگر مجھ ان والدین کی قسمت پر بھی رونا آتا ہے کیونکہ جن بچوں کےلئے آج وہ سب کچھ کررہے ہےں، بروز قیامت وہی بچے ان کے گریبان سے پکڑیں گے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کریں گے کہ اللہ پاک! ےہ ہمارے والدین ہےں، انہوں نے ہماری صحیح تربیت نہےں کی، انہوں نے ہمیں نماز اور روزہ کی طرف نہےں بھیجا، بلکہ انہوں نے ہمیں غلط راستہ دکھایا۔
قارئےن کرام! ہمارے ملک میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بے حیائی بڑھتی جارہی ہے، اس کو ختم کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ےہ کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی، اپنے گھر میں تبدیلی لانی ہوگی، پھر ممکن ہے کہ ہم اپنے ملک میں، اپنے گھر میں اور اپنے اوپر اسلامی اصول لاگو کر سکیں گے اور دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکیں گے۔۔۔۔

Share this
Your rating: None Average: 4 (1 vote)

Comments

Guest's picture

Indian film & Indian media

Saahab, India mein Indian muslim shaayad Pakistan ke musalmanon se zyaada hi hon ge, Lekin hamare idhar be-hayai aur burai iss tarah se nahin hain. Aaj bhi Mumbai ki public buson mein ladka aur ladki, mard aur aurat saath saath baithte hain lekin majaal hai ke koi ladka yaa koi mard kisi ladki yaa aurat ko chhoo bhi sake, aaj bhi hamare gharon ki ladkiyan raat ko dus baje tak mumbai ki sadkon per chal phir sakti hain lekin kisi ki majaal nahin ke unhen chhed bhi sake, aaj bhi mumbai mein 'burka' aur 'hijab' ka chalan aam hai, Corruption India mein bahut hai lekin un logon mein ikka dukka muslim hon ge jab ki aap ke Pakistan mein ikka dukka gair mazhab ke honge baaki to sab muslim hain. Chori, Chakari, Daaka zani, zina kaari, lootmaari, rishwat khori, dhokebaazi, apne hi muslim bhai ki izzat se khelna, ek muslim kaa dusre muslim per hukumat karna (Chaudhri), khule aam qatal karna, Court ki parwaah nahin karna, Qanoon ki dhajjiyan udaana, sab aamal jo islam mein nahin hone chaahiye woh aaj ke Pakistan mein ho rahe hain. Aalim-o-Faazil ki aapas ki ladaai bhi aam hai. Allama Iqbal ka khwab ek muslim desh kaa chakna choor karne wale aap Pakistani log hi hain. India aur Indian iss ke zimmedaar nahin hain. Kya sirf Indian film hi aap ke idhar dikhayi jaati hai? kiya Indian CD's hi milti hai? Kya hollywood ki CD's nahin milti hai aap logon ke idhar? Kya nangi nangi filmon ka karobar nahin hota hai aap logon ke idhar?
Pakistan aaj buraai ke samunder mein doobta jaa raha hai, aaj Tunisia aur Egypt jaag chuka hai, wahaan ki public jaag chuki hai. Aap ki public kab jaage gi. Doosron ko muarade ilzaam thahrane ki bajaye apne aap ko sudhaarein. Allah ki baargah mein apne gunaah kabool karein, jab aap apne gunaah kabool karne ki himmat rakhein ge to uss ko sudhar bhi sakein ge. Auraton ki zimmedari mardon ke kaandhon per hai. Aurton se hi Salahuddin Ayubi, Tipu Sultan, Sirajuddaula, Muhammed bin Qasim, Allama Iqbal jaisi mahaan hastiyan paida huyi hain. Aurton ko raah per laane se pehle mardon ko raah per aana chahiye, woh bhi Allah ki Raah per, Allah ke ahkaam ke mutabiq zindage guzaarein, Allah ki batayi huyi raah per chalein, Insha Allah neki ki burayi per fatah ho gi. (Amen)
Mushtaque Gafur Ansari,
Mumbai - India