ہم خود غلط ہیں

Submitted by zam786 on Tue, 11/11/2008 - 07:51

ہم خود غلط ہیں

یہ کہانی کسی اور کی نہیں بلکہ یہ کہانی ہم سب کی ہے۔اس کہانی کے ذریعے میں اپنے معاشرے کو جگانا چاہتا ہوں۔ہماری کہانی بالکل ایسی کہانی ہے جیسے بچپن میں ہمارے بزرگ سناتے تھے۔
ایک دفعہ ایک سلطنت پر زوال آیا اور اس کی وجہ سے وہاں کا بادشاہ بہت پریشان تھا۔اس نے اپنے سب وزراء کو بلایا اور سب سے صلاح مشورہ کیا مگر اس کو کچھ سمجھ نہ آیا۔اس کی پریشانی دیکھ کر اس کے

وزیر نے اسے صلاح دی کہ آپ اپنی رعایا پر اور ٹیکس لگا دیں۔اس پر بادشاہ نے کہا کہ رعایا پر پہلے ہی بہت ظلم ہو رہا ہے۔اگر ایسا کیا تو لوگ اور ناراض ہو جائیں گے۔مگر وزیر بضد رہا ۔اس نے کہا کہ یہ

لوگ صرف شور مچاتے ہیں یہ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ دو چار دن بولیں گے پھر چُپ کر جائیں گے۔ آخر کار بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ لوگوں نے کچھ دن شور مچیا پھر خاموش ہو گئے۔ تھوڑا عرصہ گزرنے کے

بعد سلطنت پر پھر بُرا وقت آیا ۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا ۔انہوں نے بادشاہ کو پھر ٹیکس بڑھانے کی صلاح دی۔بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ٹیکس مزید بڑھا دیا گیا۔رعایا بادشاہ کے اس اقدام سے بہت پریشان

ہوئی۔کچھ دن لوگوں نے آواز بُلند کی پھر خاموش ہو گئے۔کچھ عرصے بعد پھر سلطنت پر بحران کی کیفیت سے دوچار ہوئی۔بادشاہ نے پھر اپنے وزیر کو بلایا ۔اس نے ایک بار پھر ٹیکس بڑھانے کا مشوہ دیا۔ بادشاہ

بہت برہم ہو اور اسنے کہا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو رعایا میرے سخت خلاف ہو جائے گی۔ مگر وزیر نہ مانا ۔اسنے کہا کہ اس دفعہ آپ ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ساتھ 10جوتے مارنے کا بھی حکم جاری کر

دیں۔چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔بادشاہ کا فرمان جاری ہو گیا۔ لوگ ھسب معمول بہت چیخے چلائے ۔ جب کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو چپ کر گئے۔ایک دن بادشاہ سو رہا تھا کہ شور و غُل سے اسکی آنکھ کھل گئی۔ وہ اپنے

بستر سے نکل کر بالکونی میں آیا تو دیکھتا ہے کہ لوگوں کا یک جم غفیر محل کے باہر کھڑا احتجاجی نعرہ لگا رہا ہے۔بادشاہ نے اپنے وزیر کو بلایا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیوں آئے ہیں۔ وزیر نے کہی کہ یہ لوگ آپ

سے ملنا چاہتے ہیں۔بادشاہ نے اسی وقت اپنا دربار لگایا اور لوگوں کو اندر بلایا۔اس نے لوگوں سے پوچھا کہ آکر کیا معاملہ ہے۔ ایک فریادی نے بادشاہ سے کہا کہ جانکی امّان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔بازشاہ نے

اجازت دے دی۔ فریادی نے کہا کہ جب بھی زوال آتا ہے آپ ہم پر مزید ٹیخس لگا دیتے ہیں۔ ہم ہمیشہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ہم پر اس ٹیکس میں اضافی کیا گیا مگر ہم نے برداشت کیا۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اس مرتبہ

جو آپ نے ٹیکس بڑھایا ہے تو یہ بھی ہم برداشت کر رہے ہیں اور اسے ہم ادا بھی کر رہے ۔لیکن آپ سے عرض کرنا تھا کہ اسکے ساتھ جو جوتے مارنے کا فرمان ہے اس سے ہم کو بہت تکلیف ہے۔بادشاہ دل میں

شرمندہ ہو مگر ظاہر نہ کیا۔ بادشاہ بولا تم کیا چاہتے ہو۔ فریادی نے کہا کہ ہمارے التجا ہے کہ آپ جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں۔ ہمارا بہت وقت اس میں ضائع ہوتا ہے جس ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔بادشاہ

یہ بات سن کر دنگ رہ گیا۔بہر حال اسنے فرمان جاری کر دیا کہ جوتے مانے والوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے۔ جب لوگ چلے گئے تو اسنے اپنے دانا وزیر کو بلا کر پوچھا یہ کیا ماجرا ہوا۔ میں تو سمجھا تھا

کہ یہ لوگ ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کریں گے مگر یہ تو اسکے بالکل برعکس ہوا۔ وزیر نے ٓسکراتے ہوئے کہا کہ یہ وہ قوم ہے جو بے حس ہو چکی ہے۔ آپ جو بھی کہیں گے یہ من و عن بجا لائیں گے۔

یہ کہانی کا مقصد یہ ہے کہ ہماری قوم کا بھی ضمیر مر چکا ہے ۔ہم پر جو بھی حکمران آتا ہے ہم اس کے غلام بن جاتے ہیں۔وہ ہم پر جو بھی ظلم کرتے ہیں ہم برداشت کرتے ہیں ۔تھوڑی دیر چیختے چلاتے ہیں اور

پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔میں بھی یہ سب جانتا ہوں مگر اسکے بارے میں کچھ نہیں کرتا۔ہم سب بے حس ہو چکے ہیں۔ہم ہر بات کا الزام حکومت کو دیتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کو کس نے

منتخب کیا۔"ہم نے" جب ہم نے منتخب کیا تو جو وہ کام غلط کر رہے ہیں اور جو ظلم ہم پر کر رہے ہیں تو پھر غلط کون ہوا "ہم"لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کو لانے کے ذمہ دار ہم لوگ خود ہیں۔ہم صرف

دوستوں کی باتوں کو سنتے ہیں۔قرآن میں آیا ہے کہ جب تک خود نہ دیکھو اور خود نہ سُنو یقین نہ کرو۔مگر ہمیں قرآن پڑھنے کی فرصت نہیں۔جو سنا اسمیں چار اور لگا کر بتا دیا۔جس کا عذاب ہم سب بھگت رہے

ہیں۔اگر ہم سب اپنا کام ایمانداری اور نیک نیٹی سے کریں تو ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔مگر ہم نے الله کے احکامات کو چھوڑ دیا ہے۔اب قرآن صرف گھروں میں جسدان میں لپیٹ کر ، چوم کر پھول ڈالنے کے

لئے رکھ دیا ہے۔ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو ہم مولوی صاحبان اور تعویزوں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔جبکہ سب جانتے ہیں کہ قرآن ایک مکمل ضابطہء حیات ہے۔اگر ہم ہر روز پابندی کے ساتھ اسے پڑھیں اور

نماز کی پابندی کریں تو ہم کسی بھی جاہل مولوی اور تعویذ گنڈوں کے چکر میں نہ آئیں۔بات اس امر کی ہے کہ ہم ان باتوں کو اپنا لیں۔نہ کہ ایکدوسرے کی غلطی کو ڈھونڈنے،ان میں خامیا ں نکالنے اور تہمتیں لگانے

کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ہر نیک عمل اپنے گھر سے شروع کریں تو ہم وہ سب کچھ پا سکتے ہیں جو ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔

جہاد صرف جنگ کرنے کا نام نہیں بلکہ جہاد میں وہ سب شامل ہے جو ہم اپنی زندگی میں کرتے ہیں۔جیسے کہ کسی انسان کو سیدھا راستہ دکھانا،اسکی اصلاح کرنا،اسے نیک کاموں کی طرف مائل کرنا،تعلیم کے

زیور سے آشنا کرنا،دکھی لوگوں کیخدمت کرنا۔ہر وہ عمل جس سے نیکی کی ترغیب ملے وہ جہاد ہے۔ہو سکتا ہے کہ میری یہ باتیں پڑھنے کے بعد معاشرے میں سدھار آجائے۔ میں تب تک لکھتا رہوں گا جب تک میں

حیات ہوں۔ ہم سب کو ایسی کہانیاں لکھنی چاہیں جو سچے واقعات پر مبنی ہوں کیونکہ ہم نے اپنی سوئی ہوئی قوم کو جگانا ہے۔اپنی سچی کہانی آپ مجھے لکھنا میں اس کو اپنی زبان دینے کی کوشش کروں گا۔میں آپ

کی ای ۔میل کا انتظار کروں گا۔الله آپکو اور ہماری قوم کو ایمان دے۔آمین۔
زم قریشی
write2zam@gmail.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......