گوگل ایڈسینس کی انکم بذریعہ ویسٹرن یونین

Guest's picture

امید ھے آپ ایڈ سینس کو جانتے ھوں گے۔ تو گوگل والے پہلے مجھے رقم بذریعہ چیک بھیجتے تھے۔ عام چیک کے ذریعے تو کبھی مجھے چیک ملا ھی نہیں ۔ ڈی ایچ ایل کے ذریعے منگوانے پر پچیس ڈالر یعنی تقریبا پندرہ سو روپے پاکستانی خرچ آ جاتا تھا لیکن چیک تیس تاریخ یا یکم کو مل جاتا تھا۔ تاھم اس چیک کو روپوں میں تبدیل کرنا ایک لمبا مرحلہ تھا۔ پہلے تو بنک والے کہتے تھے کہ ایک سو روپے کے اشٹام پر لکھ کر دو کہ اگر چیک گم ھو گیا تو کوئی مسئلہ نہیں اور میں سارے پیسے ادا کروں گا وغیرہ وغیرہ جیسی فضول تحریر۔ اس کے بعد بھی وہ پیسے فورا نہیں دیتے تھے بلکہ دو ڈھائی مہینے کے بعدکہیں اس کے پیسے میرے اکاونٹ میں منتقل کرتے تھے حالانکہ گوگل سے وہ پیسے ایک ھفتے میں لے لیتے تھے۔ یہ تفصیل گوگل کے اکاونٹ میں موجود تھی۔بہرحال چونکہ کوئی اور آپشن نہیں تھی اس لیے اسی تنخواہ پر گزارا کرتے رھے۔

تاھم گزشتہ دنوں گوگل نے پیسے بذریعہ ویسٹرن یونین بھیجنے کی آفر کی تو میں نے فورا اس کو ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پچیس تاریخ کو گوگل چیک بھیجتا تھا تاھم چھبیس تاریخ کو پیسے لاھور پہنچ چکے تھے۔ مجھے گوگل نے تیس تاریخ کو بتایا۔ اس کے بعد میں نے کافی دوڑ دھوپ کی کہ پیسے کہاں سے نکلوائے جائیں۔ بنک الفلاح، یو بی ایل وغیرہ نے ویسٹرن یونین کے بورڈ تو لگائے ھوئے تھے مگر سروس زیرو۔ ڈاکخانے والے کہتے تھے کہ صرف جی پی او جائیں۔ زرکو والوں کا انتظام تو ٹھیک تھا تاھم ان کے پاس اس وقت کیشئیر نہیں تھا۔ چنانچہ بالاخر جی پی او لاھور کا دورہ کیا اور مختصر فارم فل کرنے کے بعد اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی لینے کے بعد انہوں نے اسی وقت روپے گن کر میرے حوالے کر دئیے۔ اپنے انعام کے پانچ روپے اس نے پہلے ھی کاٹ لیے تھے۔

ڈالر سے روپوں میں تبدیل کرتے وقت ایم سی بی اور ویسٹرن یونین والے دونوں ھی بہت کم ریٹ لگاتے ھیں جو مجھے کہیں بھی نہیں ملا۔ انٹر بنک سے لے کر تمام ریٹ چھانے مگر وہ تقریبا ایک سے ڈیڑھ روپیہ فی ڈالر کم دیتے ھیں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ تو اس طرح ھم نے گوگل ایڈسینس کی مختصر سی آمدنی بذریعہ ویسٹرن یونین وصول کر لی۔

گوگل کا شکریہ، ویسٹرن یونین کا شکریہ۔
پاکستانی بنکوں اور ان کی فضول بیوروکریسی کو خدا حافظ

Share this
Your rating: None Average: 4 (2 votes)

Comments

Guest's picture

شکریہ

مفید اور معلوماتی پوسٹ کے لیے بے حد شکریہ