گنجھل

Farrukh Noor's picture

حریری نے ہزار برس قبل فرمایا تھا۔

ماانت اول سارغرہ قمر
ورائد اعجبتہ خضرة الدمن
فاختر لنفسک غیری اننی رجل
مثل المعیدی فاسمع لی ولا ترنی

رات میں چلنے والے تم ہی پہلے شخص نہیں ہو۔ جسے چاند نے دھوکہ نہ دیا ہو۔ اور نہ تم چراگاہ تلاش کرنے والے پہلے شخص ہو۔ جسے کوڑی کی سبزی بھلی معلوم ہوئی ہو۔

تم اپنے لیے میرے سواءکسی اور کو پسند کرلو۔ کیونکہ میں معیدی کی طرح ہوں۔ میری باتیں سنو اور میری شکل مت دیکھو۔

آج انسان اُلجھا ہوا ہے یا اُلجھایا ہوا ، یہ گتھی خود ایک گنجھل ہے کہیں توکوئی اِس کے دونوںسروں میں سے کوئی ایک سِرا تلاش کرنے میں بے سروپا ہے تو کہیں دونوں سِرے حاصل کر لینے کے باوجود گتھی کی گڈ مڈ اُلجھٹوں کو سلجھانے سے عاجز۔نتیجہ انسان کی ذات محض ایک سراپا احتجاج کے سواء؛کچھ دکھائی نہیں دیتی۔

آج لوگوں کا انصاف چاہیے، اپنی مرضی کا انصاف! انصاف میں حق تلفی چاہیے۔ مظلوم کے نام پر ظالم کا لبادہ چاہیے۔ آنسوﺅں کے پیچھے رحمدلی نہیں، سنگدلی کا برتاﺅ ضروری ہے۔ ہمارے ماسٹرز کے طلباءکا حال یہ ہے کہ اُن میں برداشت نہیں۔ لوگ لکیر کے فقیر بن بیٹھے۔

ادارے اور سرکار عام افراد کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے، اپنے تحفظ کے لیے قانون بنارہے ہیں۔لفظ فیسلی ٹیٹ کو دو دھاری تلوار کی طرز پر استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون، قاعدہ خواہ کیسا بھی ہو،کائناتی صداقتوں (یونیورسل ٹرتھ)کی طرح بیشمارحقوق و فرائض جوں کے توں رہتے ہیں۔ عیار اذہان نے ایسی حقیقتوں کو اپنی ہوشیاری سے یوں مسخ کر دیا کہ اپنی ذمہ داری کو سہولت کے نام پر آپکے سپرد کردیا۔کس قدر خوبصورتی سے آپکا بنیادی حق بھی اب آپکی ذمہ داری ٹھہرا۔ یوں ذمہ داری سے ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی۔ عام سادہ لوح انسان ٹیکنا لوجی کی ترقی، قانون کی باریکیوں،سہولیات کی روح سے نابلدپن اور ضرورت کی مجبوری کے جنجالی گنجھلوں نے ذہن کو اُلجھا کر رکھ دیا ہے۔ جس میں انسان کوفت محسوس کرتے ہوئے خو د ہی ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ کیونکہ وُہ خود کوکچھ سمجھنے سے قاصرمحسوس کرنے لگتا ہے۔زندگی کا ہر نظام یوں تیز سے تیزتر اور پچیدہ در پچیدہ ہوتا جارہا ہے۔

آپکے گھر کی کوئی مشین خراب ہوتی ہے، الیکٹریشن تکنیکی باتیں سنا کر کچھ معذوریاں پیش کرتا ہے،ماہر کہانیاں نہیں ڈالتا بلکہ مسئلہ حل کرتا ہے۔اَن پڑھ والدین کو یونیورسٹی انتظامیہ سہ ماہی نظام سے سمیسٹر سمجھانے کی بجائے، سمیسٹر سسٹم کی افادیت پر بات کرتے ہیں، کم تعلیم یافتہ والدین کیا جانے سمیسٹر سسٹم کیا ہوتا ہے۔فیکٹری کا مالک مزدوروںکی چند ماہ کی تنخواہ روک لیتا ہے، کہتا ہے بین الاقوامی بحران ہے اور ساتھ ہی کچھ عرصہ کے لیے کارخانہ بند کردیتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا کڑا امتحان۔ موٹر میکینک کے پاس جاﺅ تو اُسکی اپنی ایک نئی سائنس ہوتی ہے۔ممالک پر یلغار ہوتی ہے، ملک میں بحران پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سمجھ والا اپنی سمجھ کا ترجمہ کرتا ہے۔ حقائق کیا ہے؟ تعصب کیا سامنے لاتا ہے؟ اصل مشن کیا ہے؟ رشتے اپنے مفادات میںخلوص سے گزر رہے ہیں تو کہیں جھگڑالو ذہن زبردستی آپکو اپنے جھگڑے میں گھسیٹ رہے ہیں۔آپ لا علمی میں سر پٹا رہے ہیں۔ بازار کی دُکانوں پر ہر روز اِک نیا مہنگا دام چل رہا ہے۔ استفسار پر وُہ بلا وجہ قیمت کو بے وجہ صورتحال سے باوجہ ثابت کرنے میں کامیاب ہے۔ آخر اتنی بحث و تکرار کی تحقیق کا نتیجہ کیا ملتا ہے۔ مختلف طبقہ ہائے اپنے اپنے انداز میں تراجم کرتے ہیں۔اَن جان فرد ایسے بلا حقیقت حقائق کو اپنی لاعلمی سمجھ لیتا ہے۔ ہمارا طرز انداز بھی یہی ہے کہ ہم دوسروں کو یہ سمجھتے ہیں کہ” آپ سب لاعلم ہو“۔کچھ علم رکھنے والے ٹیکنیکل چکر کھا جاتے ہیں۔ جو ہیرپھیر کو سمجھ لیتے ہیں وُہ خاموشی اختیار کرکے افسردہ ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ابھی تو صفائی پیش کرنے والا عذر بیان کر رہا ہے ایسا نہ ہو کہ معذوری کے نام پر شائستگی سے انکار کر کے دو ٹوک جواب دے ڈالے یا ہمیں خود بلیک میل نہ ہونا پڑے۔ آج ہم ڈور کی گرہوں سے بننے والی بیشمار گنجھلوں کے گچھوں سے اُلجھٹوں میں ہیں۔ سلجھے رویّے بھی کب تک صبر کا دامن تھامے رکھےں گے؟ کیونکہ ہر شےءکی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ گنجھلیہ نظام صرف اِس خطہ میں نہیں ہے بلکہ یہ تمام دُنیا میں رائج ہے۔

دُنیا کی بین الاقوامی سیاست کے گھنجل سمجھنے ہیں تو ایک خاندان میںجھگڑالو ذہن عورتوں کی سیاست کو سمجھ لیجیے۔ دُنیا کی سیاست ایسے اَن پڑھ رویوں سے باہر نہیں۔

ہم سمجھتے تو ہیں مگر بُوجھتے نہیں۔ بات اتنی سی ہے”ایک جھوٹ کے لیے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔“ یہ بھی بھول جاتے ہیں ہے کہ ایک در بند سو در کھلے ہوتے ہیں۔ یہی حقیقت کی تعلیم ہے جھوٹ سِکھانے کی نہیں۔

(فرخ نور)

Share this
No votes yet