کیا جماعت اسلامی ناکام جماعت ھے؟

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 12/11/2007 - 06:42

کیا جماعت اسلامی ناکام جماعت ھے؟

آئے روز بے شمار کالم نویس اپنے اپنے کالموں میں جماعت اسلامی کو ناکام جماعت قرار دینے پر تلے نظر آتے ھیں۔کوئی جماعت کی ناکامی کے اسباب پر لکھ رہا ہوتا ھے تو کوئی جماعت اسلامی کے مخمصے کی بات کرتا نظر آتا ھے؟
حقیقت کیا ھے؟آج اسی پر بات کرتے ھیں۔

کیا پاکستان میں کوئی جماعت جمہوری اقدار کی پاسبان ھے؟سیاسی جماعتوں کو پرکھنے کا دنیا بھر میں یہی ایک جانا پہچانا طریق کار ھے ۔اور پاکستان کی بد قسمتی کہہ لیجئے کہ اس پیمانے پر کوئی جماعت ھی پورا اترتی ھے۔سب سے پہلے اپنے آپ کو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کہلانے والی پیپلز پارٹی کا جائزہ لے لیتے ھیں۔پیپلز پارٹی سرتا پا غیر جمہوری روایات کی امین رہی ھے ۔اوپر کی قیادت سے لے کر نیچے تک ھمیشہ نامزدگیوں پر زور رکھا گیا ھے ۔اور تو اور محترمہ چئر پرسن صاحبہ ہی کو لے لیں دختر مشرق تاحیات چئیر پرسن آف پیپلز پارٹی ھیں۔ان کے ہوتے ہوئے کوئی اور نامزدگی کا سوچے تک نھیں ھاں بلاول زرداری بڑے ہو کر اپنی میراث کو پاسکتے ھیں ۔اس موروثی جائداد میں کوئی اور بھائی یا بہن بھی حصہ نھیں جتا سکتیں اور جو کوئی ایسا کرنے کا سوچے اسے میر مرتضیٰ بھٹو کا انجام سوچ لینا چاھئے۔

لیجئے مسلم لیگ کا حال چال بھی پوچھ لیتے ھیں ۔لیکن اس سے قبل نھایت ضروری ھے کہ مسلم لیگ کا تعین ضرور کر لیا جائے؟

کیا اس سے مراد جونیجو لیگ ھے ؟سابقہ حکمران جماعت قاف لیگ یا پیر صاحب پگاڑا کی فنکشنل لیگ یا پھر نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ نواز؟یا سابق مرد آھن فیلڈ مارشل کی کنونشن لیگ لیکن شاید یہ مختصر سا کالم ہر ایک کی خصوصیات تحریر کرتے ھوئے تنگی ء داماں کی شکایت کرنے لگے گا۔

ان میں سے قاف لیگ کی جمہوریت نوازی کے بارے میں اتنا عرض کرنا ھی کافی ھے کہ موصوفہ نے پرویز مشرف صاحب کو باوردی ووٹ ڈال کر باقاعدہ ملک کا صدر چنا ۔اور واشگاف انداز میں ملک بھر کے عوام کو بتایا کہ اگر ھمیں دس بار بھی مشرف صاحب کو باوردی صدر چُننا پڑا تو ھم ایسا ھی کریں گے۔سترھویں ترمیم ،بلوچستان میں فوجی آپریشن ،قبائلی علاقوں میں خوں ریزی،ڈاکٹر قدیر خان کی نظر بندی،چیف جسٹس کی برطرفی،سپریم کورٹ پر ایمرجنسی کا سا خود کش حملہ اور اور اور ایک لمبی فہرست ھے جو ان کے نامہء سیاہ میں درج ھے۔

کچھ یہی حال کنونشن لیگ کا تھا جو مرحوم صدر کے ساتھ ھی نجانے اب کس قبرستان میں ابدی نیند سورھی ھے؟پگاڑا صاحب کی فنکشنل لیگ کا سنیئے وہ برملا کہہ چکے ھیں کہ میرا قبلہ نما صرف اور صرف جی ایچ کیو ھے اور میں مرغ باد نما کی مانند ھمیشہ اسی طرف اپنا رخ رکھوں گا جس طرف فوجی سلیوٹو کی گونج سنائی دے رھی ھو گی؟

جونیجو لیگ اور ضیاء لیگ کا تو کہنا ھی کیا اول تو ان کے لیڈران وفات پاچکے ھیں تاھم ورثاء بھی اس قدر ہلکے ھیں کہ سطح زمین پر ان کا کوئی وزن اور تاریخ کے کوڑے دان میں ہلکا سا ارتعاش بھی نھیں۔

نون لیگ بھی موروثی قاعدے سے کسی طرح ھٹ کر نھیں یہاں قائد اگر آٹھ سال جلاوطن رھے تو پارٹی بھی جلاوطن رھے گی۔لیکن ایسا ھو نھیں سکتا کہ جاوید ھاشمی یا احسن اقبال یا ایسا ھی کوئی اور کردار قیادت سنبھال لے۔ھاں اس پارٹی میں یہ جادوئی طاقت ضرور ھے کہ اقتدار میں ھو تو دوتہائی اکثریت لے لے اور اقتدار سے ھٹائی جائےقاف لیگ میں بدل جائے ۔

در اصل مسلم لیگ کی زندگی اور بقاء کا راز ہی یہ ھے کہ مقتدر طبقہ جو جامہ پہنائے اور جیسی بولی بلوائے مسلم لیگ اس کے لیے تیار اور مستعد رھے۔

ھاں اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا کوئی زریں کردار ھے تو وہ ھے جماعت اسلامی پاکستان ۔بااصول ،منظم،صاحب نظریہ امت کی ھمدرد اور پاکستان کی نظریاتی،اور جغرافیائی سرحدوں کی اصل پاسبان۔

آئیے سب سے پہلے اس کی قیادت کا جائزہ لیتے ھیں ؟کیا جماعت کی قیادت موروثی ھے؟جی نھیں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اپنے زندگی ھی میں جماعت کی قیادت اوروں کے سپرد کردی تھی اور یہ اور کون تھے ؟اور کیا مولانا کی اپنی اولاد نہ تھی ؟جی نھیں اپنی اولاد بھی تھی اور ھے اور وہ اپنی موروثی قیادت جتانے کا کوئی موقع بھی ضائع نھیں جانے دیتی۔اخبارات میں جب کوئی جھوٹا اشتہار چھپوانا ھویا کسی اور قسم کوئی کیچڑ ھی اچھالنا ھو تو حیدر فاروق مودودی کا کندھا بھی حاضر ھے اور نام بھی حاضر۔لیکن مولانا مودودی کی جانشینی اگر ان کی زندگی ھی میں کسی کو ملی تو وہ میاں طفیل محمد تھے۔میاں صاحب نے بھی پوری دیانت داری کے ساتھ قیادت کے اس بوجھ کو سرحد کے مرد مجاھد قاضی حسین احمد کے سپرد کردیا ۔

ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لیں تو جماعت کا جمھوری مزاج ایک اور طرح سے نمایاں ھوتا ھے ۔یہ پاکستان کی وہ واحد جماعت ھے جس کی نیچے یونٹ سے لے کر ضلعی سطح تک اور صوبائی قیادت سے لے کر مرکزی شوریٰ تک ساری ذمہ داریا ں نامزدگی کی مرھون منت نھیں ہوتیں بلکہ عملا انتخاب کیا جاتا ھے۔اور یہ بھی عملا طے ھے کہ کوئی ذمہ دار دو سے زیادہ بار کے لیے منتخب ھونے کا استحقاق نھیں رکھتا۔

احتساب اور انتخاب کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ھے۔اور اگر میں یہ کہوں کہ انتخاب دراصل ایک طرح کا احتساب ھی ھوتا ھے تو بے جا نھیں ھوگا۔جماعت اسلامی میں احتساب کے کئی فورمز موجود ھوتے ھیں۔سب سے پہلا احتسابی فورم حلقہ اور یونین کونسل کے ارکان ھوتے ھیں ۔پھر بالائی نظم اور پھر ہر سطح کی شوریٰ ۔

اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ آخر جماعت اب تک عوامی مقبولیت کا وہ درجہ کیوں حاصل نہ کرسکی جو ملک کی ثقافت،سیاست،تعلیم و تمدن غرض یہ کہ قلب ماھئیت کے لیے ضروری ھے؟

میرے نزدیک اس کی ایک وجہ تو رکنیت کی وہ سخت شرائط ھیں جنھیں ارکان و ذمہ داران جماعت لوز کر نا سخت نقصان دہ سمجھتے ھیں۔

اپنے مختصر حجم کے باوجود ملک کو ھر ھر شعبہ میں نمایاں ترین قیادت فراہم کی ھے۔بھترین سیاست دانوں کی فھرست میں شامل نمایاں نام پروفیسر غفور احمد کا ھے۔بھترین پارلیمنٹیرینز کے زمرے میں نام لیاقت بلوچ کا ھے۔بھترین سینیٹرز میں نام پروفیسرخورشید احمد کا ھے۔ لیکن اسی پر اکتفا نھیں پاکستان کی اجتماعی زندگی کے ھر میدان میں ایسے لوگ آپ کو ملیں گے جن کی شناخت بہر حال مولانا مودودی اور جماعت اسلامی ہوگی یا رہی ہوگی۔بطور مثال بھترین صحافیوں میں نام ارشاد احمد حقانی اورمجیب الرحمن شامی اور عبد القادر حسن کا ھے۔ملک کی دیگر نمایاں سیاسی شخصیات میں نام جاوید ھاشمی،احسن اقبال بابر اعوان،محمد علی درانی کا ھے۔غرض زندگی کا کوئی سا شعبہ لے لیں ہم بلا خوف تردید یہ کہہ سکتے ھیں کہ جماعت نے احیائے ملت اسلامیہ کا جو پرچم بلند کیا تھا اس میں پیش رفت ھی ہوئی ھے ۔الحمدللہ آج بھی جماعت سیٹوں اور مفادات ،وزارتوں اور پرمٹوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے قومی مفادات کے ساتھ پیوستہ اور مربوط ھے اور الیکشن بائکاٹ کرتے ھوئے احتجاج کر رہی ھے نام نھاد احتجاجا انتخابات میں جانے کا ڈھونگ نھیں رچا رہی ۔اس پر خداوند تعالیٰ کا جس قدر بھی شکر بجالائیں کم ھے کہ کوئلوں کی کان میں کوئی تو ھیرا جگمگا رھا ھے۔

حافظ محمد عبد اللہ
ایل ایل بی آنرز شریعہ و لاء

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......