کچھ کہا نہیں جا سکتا

hashims's picture

آئے دن پاکستان میں کچھ نہ کچھ ایسا ہو رہا ہے کہ وہاں کے حالات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب کیا ہوجائے گا۔ ہر طرف بد امنی اور فتنہ پردازی کا دور دورہ ہے ۔کوئی بھی شہری خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہاہے ۔ ایک طرف سردی کی مار ہے تو دوسری جانب ہر وقت اور ہر لمحہ خود کش حملہ آوروں کا ڈر ستا رہاہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسکول جانے والے بچے بھی اب محفوظ نہیں ہیں کیونکہ کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ اِن خود کش حملوں میں بچے بھی مارے گئے ہیں۔ ایک حالیہ خود کش حملے میں اسکولی بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔صورت حال اس قدر نازک ہے کہ کبھی بھی کچھ ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے حکومت بھی پریشان ہے اور عوام تو بیزار اور خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں ۔ایک طرف فوجی کارروائیاں جاری ہیں لیکن دوسری جانب دہشت گردوں کی تخریبی کارروائیاں بھی دوش بدوش چل رہی ہیں ۔ راولپنڈی کے انتہائی اہم علاقے میں ایک حساس حکومتی ادارے کی بس پر ہونے والے خود کش حملے بھی اس کی ایک کڑی ہیں۔ جس کے نتیجے میں تقریبا ۲۱ افراد جاں بحق اور۶۲سے زائد زخمی ہوگئے ۔ ادھر اسی رات کراچی کے علاقے لیاری میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد2 ہوگئی اور چار افرادزخمی ہوگئے۔گویا امن و امان کی صورت حال جگہ جگہ خراب ہے ۔

ایسے میں یہ کہنا کہ پاکستان میں مقررہ وقت پر الیکشن ہو بھی پائے گا یا نہیں ؟ کسی معمے سے کم نہیں ۔کیونکہ پاکستان کی جن سیاسی طاقتوں سے ان فوجی حکمرانوں کو خطرہ تھا وہ الیکشن کے اس عمل سے دور ہیں ۔ سب سے مضبوط سیاسی طاقت کی رہنما ابدی نیند سو چکی ہیں ۔ ان کے وارثین کے درمیان کے جھگڑے اخباروں میں سرخیاںبنارہے ہیں ۔ ایک طرف مخدوم امین فہیم ہیں اور دوسری جانب آصف زرداری ہیں ۔ آصف عملی طور پر الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے ، لیکن وزیراعظم بننے اور اس پرکشش وراثت کو خود سنبھالنے کی تمنا اظہرمن الشمس ہے ۔ لیکن یہ اسی وقت ہو سکے گا جب عام قومی الیکشن ہونے کے کم از کم تین مہینے کے بعد وہ کسی خالی سیٹ پر الیکشن جیت کر آئیں گے ۔ تب توشاید اس پارٹی کا نقشہ بھی بدل چکا ہوگا۔اور شاید مشرف حکومت انہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ان کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرے گی۔

دوسری جانب ایک اور اہم سیاسی طاقت نواز شریف کی ہے ۔ مگر نواز شریف اور ان کے بھائی دونوں اس الیکشن میں نا اہل قرار دیئے جا چکے ہیں ۔نواز شریف مہم تو ضرور چلا رہے ہیں ، مگر ہمہ وقت اس فکر میں اور اس الجھن میں گرفتار ہیں کہ اگر وہ اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وزیر اعظم کون بنے گا۔ ظاہر ہے آئین کے مطابق وہ بھی فوری طور پر اس عہدے کو حاصل نہیں کر سکتے ،کچھ ہی دنوں کے لیے صحیح، انھیں بھی کسی پر اعتماد کر کے کسی کو یہ عہدہ سوپنا پڑے گا۔پھر اس کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ بھی اہم سوال ہوگا ۔کیونکہ یہاں بھی مشرف کو موقع ملے گا اور شاید بہت سے لوگ وقتی اور سیاسی مفاد کے لیے فوری طور پر(ن) چھوڑ کر(ق) یا پی پی پی کے طرز پر پیٹریاٹ بنا کر الگ ہوجائیں گے۔

اب رہی بات متحدہ کی تو وہ در پردہ مشرف کی پالیسیوں کے حمایتی ہی رہے ہیں۔انھیں مشرف پر اور مشرف کو ان پر پورا اعتبار ہے ۔ اسی لیے تو وہ قاضی حسین احمد سے الگ موقف کے ساتھ اس الیکشن میں سامنے آرہے ہیں۔مگر اس منتشر طاقت کے سب سے بڑے علمبردار مولانا فضل الرحمان اس فکر میں مبتلا ہیں کہ ان کے سیاسی راز طشت از بام ہو چکے ہیں ۔ چنانچہ، یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا عوام ایک بارپھر ان کے امریکہ مخالف اور مشرف مخالف نعروں سے متاءثر ہو پائیں گے!
عمران خان اور اے پی ڈی ایم انتخابی عمل سے پہلے ہی ہاتھ کھینچ چکی ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ تما م عمل غیر آئینی ہے اور اس غیر آئینی حکومت کی نگرانی میں وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔اس لیے اب یہ سوال بھی برقرار ہے کہ کیا عوام ان کی باتوں پر اعتماد کر کے الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے۔

موجودہ فوجی حکومت کے گرین کارڈ ہولڈروزیر اعظم امریکہ جا چکے ہیں ،انھیں موجودہ سیاست سے نہ تو بہت زیادہ دلچسپی ہے اور نہ ہی ان کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ عوام کے درمیان جا کر الیکشن مہم میں حصہ لے سکیں ۔کیونکہ یہ کوئی عوامی نمائندہ کے طور پر وزیر اعظم نہیں بنائے گئے تھے۔ اس لیے عوام میں نہ تو ان کی مقبولیت ہے اور نہ وہ عوام سے کوئی توقع رکھتے ہیں ۔رہی بات چوہدری برادران کی تو وہ بھی ابھی مخمصے میں ہیں ۔ جوڑ توڑ کی سیاست کرنے والی یہ پارٹی کبھی پی پی پی کی جانب تو کبھی مسلم لیگ ن کی جانب نظر گڑائے ہوئے ہے۔ فی الوقت انتخابی نتائج کا ا نتظار ان کا سب سے بڑا حربہ ہے۔

ان حالات میں کیا ہوگا اور یہ الیکشن کون سی نئی تبدیلی لے کر آئے گا یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک سیاسی پنڈتوں کے پاس بھی نہیں ہے ۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اگر پاکستان میں مقررہ وقت پر الیکشن ہوجاتے ہیں تب بھی ،اور اگر کسی وجہ نہیں ہوسکے تب بھی، پاکستان ایک بڑی تبدیلی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔اور یہ ایسا دوراہا ہے کہ آگے پیچھے دونوں جانب خطرات ہی خطرات ہیں ۔

(c) 2008 Justuju Publishers - This is a syndicated Column. The Publisher does not necessarily endorse the views of author. This Article can be republished on As is Basis, with credit given to the writer and the Syndication Agency

افکارِمشرق

کچھ کہا نہیں جا سکتا
ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی

Share this
No votes yet