کشمیر کی تحریک آزادی سے یکجہتی کا دن

Submitted by Moazzam Kazmi on Wed, 02/06/2008 - 18:11

دنیا میں فلسطین سے بھی شاید زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں دردناک اور خون میں ڈوبی کشمیر کے عوام کی آزادی کی تحریک ہے جنہوں نے پچھلے ماہ جموں کشمیر میں انڈیا کے یوم جمہوریت پر یوم سیاہ منایا اور پاکستان میں کشمیری عوام یوم یک جہتی کشمیر منا رہے ہیں ۔

آج پاکستانی حکمران بڑا منافقانہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ بھارت میں کشمیر کے عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں یعنی بڑی قید سے چھوٹی قید میں آنا چاہتے ہیں یہ تحریک کشمیر جو انڈیا میں موجود ہے یہ اس سماج اور نظام کے خلاف آزادی کی تحریک ہے کیونکہ کشمیری عوام پر انڈین اور پاکستانی ریاست کے ظلم وجبر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی تاریخ ان دو ملکوں کی نام نہاد آزادی کی ہے اور اس کے خلاف اتنی ہی پرانی اور ناقابل تسخیر کشمیر کی آزادی کی جدوجہد ہے۔ جس کو پاکستانی اور انڈین سامراج نے ہر دور میں بڑی بے رحیمی سے کچلا لیکن یہ آج بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنچ ہے بھارت نے کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کا بے دردی سے خون بہایا جو آج بھی جاری ہے بن بیاہی لڑکیوں کو ماں بنایا اور اس دنیا کی جنت کو اجاڑ کر دنیا دوزخ کا نمونہ بنا دیا ۔ کشمیر کے برباد سماج کو دیکھ کر انڈین حکمرانوں کی ترقی اور خوشحالی کے تمام دعوے بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہوتے ہیں جو کشمیر اور تمام انڈیا کو مساوی ترقی دینے سے مکمل قاصر ہیں ۔

برصغیر پاک و ہند کی برطانوی سامراج کے خلاف جو یہاں کی مزدور تحریک ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے شروع ہوئی تھی بائیں بازو کی کمزوریوں کی وجہ سے یہ انقلابی تحریک ردانقلاب کی جھولی میں گر کر تقسیم ہو گئی پاک و ہند کے عوام کی حقیقی آزادی کی اس جدوجہد کو برطانوی سامراج اور مقامی سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، نوابوں ، اور سرداروں نے اپنے سرمایے کے مفادات اور عوام پر استحصال کو قائم رکھنے کے لیے اس پورے ہندوستان کے عوام کی مشترک جدوجہد کو فرقہ واریت کی بھیانک تلوار سے کاٹ کر اسی سامراجی استحصال کو نئی شکل میں مقامی حکمرانوں نے عوام پر پھر سے مسلط کر دیا ۔ اس انقلابی تحریک کو انقلاب برپا نہ کرنے کی سزا دو ملکوں کی ٹوٹ جو اصل میں ایک جسم کو کاٹ کر کئی ٹکرے کرنے کے مترادف تھا کو ایک بڑی عوامی خون ریزی اور رجعتی یلغار سے قائم کیا گیا جس نے یہاں کی عوام کی زندگیوں کو پہلے سے بھی اجیران بنا دیا۔ اس سامراجی تقسیم نے جہاں انڈیا اور پاکستان کی عوام کی بڑی قتل وغارت سے ماضی کی غلامی کو نئی شکل میں قائم رکھا وہاں مظلوم قومیتوں کے عوام کی زندگیوں کا گھیرا پہلے سے بھی تنگ کردیا گیا۔ انہی ملکوں کے حکمران اب مظلوم قوموں کے سامراج بن گئے اور آج جموں کشمیر پر جس طرح انڈیا سامراج بن کر بیٹھ ہے اسی طرح پاکستانی ریاست بھی آزاد کشمیر پر اپنے سامراجی عزائم رکھتا ہے ۔

کشمیر ہمیشہ سے ایک آزاد اور خود مختیار ریاست تھی اور کشمیری ایک قوم، جنکی اپنی زبان ثقافت اور شناخت تھی جس کو برطانیہ ، پاکستان اور بھارت نے اس سے یہ حق زبردستی فوج کشی سے چھین لیاجس کے خلاف کشمیری قوم سراپااحتجاج بن گئی اور یہ مذاحمت آج بھی جاری ہے کشمیر کی تحریک آزادی ایک جرات مند ، دلرنہ اور قابل تعریف امر ہے ۔ کشمیری عوام کو اپنی پہچان واپس لینے اور حق خوداارادیت کا پورا حق ہے رعائت نہیں جس کی تمام دنیا کی عوام کو حمائت کرنی چاہیے۔ آج جس طرح کشمیر پر انڈیا کے مظالم قابل مذمت اور قابل مذاحمت ہیں اسی طرح پاکستان کے سامراجی ہتھکنڈے بھی کیونکہ یہ دونوں ملک کشمیری عوام اور انکی سر زمین کو اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔

جموں کشمیر آج انڈین کے لیے پانی، پھلوں ، خشک پھل، قالینوں سیاحت کی آمدن کو جو اب بد امنی کی وجہ سے کم ہوگئی ہے وغیرہ کا بڑا زریع ہے اور اسی طرح آزاد کشمیر پاکستانی حکمرانوں کی لوٹ مار کا زریع ہے یہ دونوں ممالک کی بہترین منڈیاں ہیں جن سے یہ کھبی دستبردار نہیں ہوں گئے ۔ جبکہ یہاں کی آمدن میں یہاں کی عوام کا کوئی حصہ نہیں ہے یہ اپنے وسائل کو نہ تو استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان پر انکا حق ہے اور اس طرح یہ ایک مال دار علاقہ کے باوجود غربت کی موت میں زندہ ہیں انڈیا اور پاکستان کے حکمران کشمیر کی اس مال ودولت کو لوٹنے کے علاوہ اس کو پاکستانی اور انڈین حکمران اپنی اپنی عوام میں علاقائی منڈیوں کے دفاع میں اس جعلی تقسیم کو قائم رکھنے کے لیے نفرت پیدا کرنے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ انڈین اور پاکستانی عوام جنکی زبان ثقافت رسم ورواج اور ہزاروں سال مشرک پیار محبت اور بھائی چارے سے زندگی گزارنا انکی وراثت ہے اس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی انیس سو چھیا لیس کے طبقاتی اتحاد اور مشترک مزدور جدجہد کی اقدار اور تجربات آج بھی قائم اور زندہ ہیں ۔

اس طاقت ور عوامی تحریک نے دنیا کے بڑے ترین برطانیہ سامراج کے پرخچے اڑا دیے تھے اور اسکے لیے ہندوستان کی سر زمین اتنی تنگ کردی تھی کہ اس سونے کی چڑیا کو نا چاہتے ہوئے بھی برطانیہ کو چھوڑ کر جانا پڑالیکن اس نے جانے سے پہلے اپنے ایجنٹوں سے اس کوذبح کر دیااور اس بٹوارے کے زخموں سے آج بھی خون رس رہا ہے اور اسکو جاری رکھنے کے لیے کشمیر کو استعمال کیا جاتا ہے اور اسی کے پس منظر میں انڈو پاک جنگیں بھی ہو چکی ہیں کشمیر کی بھلائی اور آزادی نہ انڈیا چاہتا ہے اور نہ ہی پاکستان یہ دونوں اسکی لوٹ اور مالیاتی استحصال چاہتے ہیں اور یہ انکی آزادی کی تحریک سے یہ دونوں ملک خوف زدہ ہیں کیونکہ یہ نہ صرف دنیا میں کشمیر ی عوام پرخوفناک ریاستی ظلم وجبر کو ننگا کررہی ہے بلکہ دوسری مظلوم قومیتوں میں قومیتی استحصال کے خلاف مذاحمتی تحریکوں کو ابھار رہی ہے اسلیے یہاں دونوں ریاستوں پاک وہند کا بد ترین ظلم اور استحصال جاری ہے۔ جس پر طرح طرح کی ڈرامہ بازی کی جاتی ہے اور پاکستانی حکمران اکثر مگرمچھ کے آنسو بھی بہتے ہیں۔

اگر حقائق کا جائز لیا تو معلوم ہوتا ہے کہ آج نہ صرف انڈیا میں کشمیر ی عوام کا جینا مشکل ترین ہے بلکہ آزاد کشمیر میں جب تاریخ کا بھیانک ترین زلزلہ آیا تو صدر مشرف اور حکمرانوں نے کیا کیا؟ صرف اور صرف کشمیر کے نام پر مقامی اور عالمی امداد کی لوٹ مار کی ۔ فوجیوں نے کراچی اور دوسرے شہروں میں بے کفن لاشوں کے لیے مدد میں ملنے والے کفن تک بازاروں میں فروخت کئے امداد کے نام پر جوان اور کنواری لڑ کیوں کو اٹھایا گیااور ان سے زادتیاں کیں گئیں بلکہ جسم فروشی کے کاروبار بھی کرائے گئے یہ کوئی اور نہیں تھے وہی ہیں جو آج بھی حکومت میں براہ راست یا بل واسطہ ہیں اور کشمیر کے دکھ میں منافقت کے آنسو بہتے ہیں ۔ آج بھی اربوں کی مالی امداد کشمیریوں کو چھت، روٹی، کپڑے نہ دے سکی بلکہ صرف حکومتی ٹٹووں کے نہ بھرنے والے پیٹوں میں غائب ہوگئی۔ پریس کے مطابق اتنی بڑی امداد پورے کشمیر میں صرف گنتی کے دو یا تین خاندانوں کو جو حکومتی اقربا پرور تھے انکو چھوٹے چھوٹے کواٹر دیے گئے جس کا پراپیگنڈہ آسمان سے باتیں کررہا ہے۔

اس کے علاوہ آزادکشمیر کی پاکستان میں یہ سیاسی اہمیت اور حثیت ہے کہ پوری کشمیری عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو صرف حکومت پاکستان کا نامزد ہ کردہ سیکرٹری جب چاہے ختم کر دے یہ فرد واحد پوری کشمیری قوم پر حاوی ہے یہ آزاد کشمیر نہیں بلکہ قید کشمیر ہے اور پاکستان جموں کشمیر کو بھی اس قید خانے میں شامل کرنا چاہتا ہے جو صرف اسکا خواب ہی رہے گا کیونکہ پاکستان اپنے سے طاقت ور انڈیا سے کبھی بھی جموں کشمیر چھین نہ سکے گا اور انڈیا پاکستان کے آزاد کشمیر کو حاصل کرنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس سے انڈین جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو مضبوط کرے گا جو وہ کبھی نہیں چاہتا ۔

کشمیر کا مسئلہ نہ پاکستان نہ انڈیا اور نہ ہی سامراجی اقوام متحدہ حل کرسکتی ہے اس کی بنیادی وجہ عالمی مالیاتی نظام کی کسی ایک بھی سماجی مسئلہ کو حل کرنے میں نااہلیت ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی سرمایہ داری سامراج گماشتہ کمزور سرمایہ داری ہے جس میں اتنی صلاحیت اور سکت نہیں ہے کہ اپنے ملکوں یا کشمیر کا ایک بھی مسئلہ حل کرسکیں یا قومی جمہوری انقلاب کی تکمیل کرسکے اگر یہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصے میں ماسوائے عوام کو دکھوں اور تکلیفوں کے کچھ نہیں دے سکے تو آئندہ بھی کچھ نہیں دے سکیں گئے بلکہ آنے والے بحران اس میں اضافہ ہی کریں گے ۔ جس سے کشمیر مزید جلے اور تڑپے گا ۔

بڑھتا طبقاتی تضاد اور سماجی نا ہمواری ہی اصل میں ان دو ملکوں کی تباہی کی وجہ ہے جس میں بے روزگاری، غربت، بھوک، اور عوام کی بنیادی ضروریات سے محرومی ہے جبکہ حکمرانوں کے سرمایوں میں انتہائی اضافہ ہے۔منڈیوں کے کمزور ہونے اور منافعوں میں کمی کے رجحان نے طبقاتی استحصال کے ساتھ ساتھ قومی، لسانی، علاقائی، جنسی اور ہرطرح کے استحصال کو شدید تر کر دیا ہے۔ کشمیری یاقومی استحصال اسی میں سے ایک ہے۔

کشمیری عوام کو اپنے حق خودارادیت کے لیے ان تمام مظلوم قومیتوں کے عوام سے ملکر طبقاتی جدوجہد کرنا ہوگی کیونکہ طبقاتی آزادی کے بغیر قومی آزادی ادھوری ہے جو نئے دکھوں اور اذیتوں کے اور دروازے کھول دیتی ہے اس لیے اس قومی جدوجہد کو طبقاتی جدوجہد کا اٹوٹ حصہ بناکر دونوں ممالک کے عوام جو آج پاکستان اور انڈین سرمایہ دارانہ ریاست کے ظلم واستحصال کا شکار ہیں کا حصہ بنا کر اور اس جدوجہد کو پورے انڈوپاک اور ایشیا کی مزدور تحریک سے منسلک کرکے ایک سوشلسٹ انقلاب کی جنگ لڑنا ہے جو پورے برصغیر پاک وہند کو ایک رضا کارانہ سوشلسٹ فیڈریشن میں پرو دے۔ جس کے علاوہ اورکوئی حل موجود نہیں ہے۔

آج تک کشمیر کی آزادی میں جہاں پاکستان اور انڈیا کے حکمران ایک بڑی رکاوٹ ہیں وہاں کشمیر کی بنیاد پرست ، مفاد پرست، پاکستان یا انڈیا کی گماشتہ اورفرقہ وارانہ قیادتیں بھی شامل ہیں جن سے چھٹکارہ حاصل کئے بغیر بھی کشمیر کی آزادی ممکن نہیں ہے۔ آج کشمیر کی عوام کو اپنی قیادت خود کرنا ہوگی اپنی انقلابی پارٹی بنانا ہو گی اپنی زندگی کے لیے خود لڑنا ہوگا بقیہ دنیا کی عوام کے ساتھ مل کر آگے بڑھو کہ جیت اب تمھارا مقدر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معظم کاظمی
چنگاری ڈاٹ کام
05.02.2008۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......