کس سمت جارہا ہے قافلہ وطن کا

Submitted by atifsaeed on Wed, 11/24/2010 - 15:14

کس سمت جارہا ہے قافلہ وطن کا
قارئےن کرام! گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں عجیب سی طاقتیں آڑے آرہی ہےں جس سے ملک و قوم ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب جارہی ہے اور اب وہ ممالک جو کسی وقت ہمارے ملک سے ڈرا کرتے تھے آج وہ بھی ہمارے ملک کو آنکھیں دکھا رہے ہےں۔ گزشتہ 8 سال سے پاکستان پر آمریت کا دور دورہ تھا اور آمر پرویز مشرف نے پاکستان کو بے حد نقصان پہنچایا اور پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ شمالی علاقہ جات میں اس نے جنگ کو چھیڑنے کے بعد اپنی فوجوں کو بھی شمالی علاقہ جات پر لگا دیا اور وہاں پر لوگوں اور معصوم جانوں کا بے دردی سے خون بہایا اور بعد ازاں اس کی ہی ےہ پالیسی تھی کہ اس نے امریکہ کو بھی دعوت دی کہ وہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر حملے کرے اور اس نے ڈرون اور دیگر خفےہ طیاروں کے ذریعے پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر حملے کرنے شروع کےے اور ایسے شروع کےے کہ وہ ڈرون اور خفےہ طیاروں کے حملے ابھی تک رکنے کا نام نہےں لیتے، بعدازاں فوجی آمر نے جاتے جاتے ایسے کارنامے سرانجام دیئے جن کو پاکستانی قوم آج تک نہےں بھلا سکی، وہ ےہ کہ پرویز مشرف نے لال مسجد پر حملہ کر دیا جس سے سینکڑوں مسلمان بے گناہ مارے گئے، سینکڑوں معصوم بچے جو لال مسجد کے مدرسہ میں پڑھنے کےلئے آئے ہوئے تھے اور وہاں پر تعلیم حاصل کر رہے تھے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بڑی بے دردی کے ساتھ اللہ پاک کے گھر پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی اور پاکستانی افواج کو پاکستان قوم کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ، جس سے پاکستانی قوم کے دلوں سے اپنی ہی فوج کےلئے ایثار و محبت اور جذبہ قربانی ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا۔
مشرف کا دور پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا، مگر اللہ اللہ کرکے جب مشرف سے جان چھوٹی تو پاکستانی عوام نے بڑے سہانے خواب سجائے تھے اور ےہ سوچا تھا کہ اب پاکستان کی دونوں سب سے بڑی جمہوری پارٹیوں کو اپنا ووٹ دے کر ان کو کامیاب بنائےں گے اور ان کے ہاتھوں میں اس ملک کی باگ ڈور تھمائےں تو شاید ہمیں سکھ کا سانس نصیب ہو اور ملک اور قوم ترقی کر سکے، شاید ملک بحرانوں کی دلدل سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے، شاید غریبوں کا خون جسے مشرف پے در پے امریکہ کو فروخت کرتا رہا ہے اب فروخت ہونا بند ہو جائے۔ مگر ایسا کوئی رد عمل سامنے نہ آسکا اور عوام نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو ملک میں بھاری اکثریت دیکر ان کو پاکستان کی باگ ڈور تھما دی، مگر چند ماہ میں ہی دونوں جماعتیں علیحدہ ہو گئےں، پیپلز پارٹی نے مشرف کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا عہد کر لیا اور انہوں نے ملک و قوم کو امریکہ کے ہاتھوں میں فروخت کرنے کا عزم کر لیا۔
قارئےن کرام! وہ غریب عوام جنہوں نے بہت سارے سہانے سپنے سجائے تھے اور بہت سارے خواب دیکھے تھے کہ ملک سے آمریت جائے گی اور نئی حکومت جو کہ جمہوریت کے نعرے لگا رہی ، اس کے آنے سے ہمیں سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقع ملے گا، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، مشرف کے دور میں بھی غریبوں کا خون بہتا تھا، غریب لوگ مرتے تھے اور آج جب ملک میں جمہوریت کا راج ہے تو آج بھی لوگ مر رہے ہےں، آج بھی امریکہ ڈرون حملے کر رہا ہے، آج بھی ہر طرف قتل و غارت کا سا سماں ہے، خود کش حملے آج بھی جاری ہے، ججز آج بھی بحال نہ ہو سکے، ڈاکٹر قدیر خان کو آج بھی رہائی کی زندگی نصیب نہ ہوسکی۔ لال مسجد کے علماءکو آج بھی رہا نہ کیا گیا، وہ لوگ جو کئی سالوں سے لاپتہ ہےں، جن کی مائےں آج بھی ان کی یاد میں آنسو بہا رہی ہےں، جن کی بہنیں آج بھی اپنے بھائےوں کی راہیں تکتی رہتی ہےں ان کے بھائےوں، بیٹوں کو آج تک بازیاب نہ کرایا جا سکا، آج بھی ملک میں ہر طرف ہو کا عالم ہے تو پھر مجھے اہل سیاست بتائےں کہ آج کی جمہوریت میں اور کل کی آمریت میں کیا فرق ہے؟ فرق صرف اتنا ہے کہ وردی تبدیل ہو گئی، پہلے فوجی وردی میں آمر تھا اور اس نے عوام کی زندگی کو دو بھر کر رکھا تھا اور آج سول وردی میں آمر ہے اس نے بھی عوام کا جینا دو بھر کیا ہواہے۔
آمر کے دور حکومت میں ججز کو انکو کرسیوں سے ہٹا کر ان کے گھروںمیں قید کر دیا گیا تھا اور اپنی پسند کے ججز کرسیوں پرمقرر کر دیئے گئے تھے اور آج جمہوریت میں تبدیل کچھ نہےںہوا صرف ایک شخص ہی تبدیل ہوا ہے، اختیارات پہلے بھی صدر کے پاس تھے، آج بھی صدر کے پاس ہےں، ججز پہلے گھر بیٹھے تھے اور آج کرسیوں پر بیٹھے ہےں،مگر ان کی بات کوئی نہےں مانتا، ان کے فیصلوں پر عمل درآمد نہےں ہوتا اور حکومت آج بھی اپنے من پسند لوگوںکو آگے لا رہی ہے،وزیراعظم آمرکے دور میں بھی لاچار تھے اور وزیر اعظم آج بھی لاچار ہےں، ان کے ہاتھ میںکوئی فیصلہ نہےں تھا، امریکہ آمر کے دور میں بھی بڑے دھڑلے سے ہم پر حکم چلاتا تھا اور آج بھی چلا رہا ہے، بدلا تو کچھ نہےں تو پھر آمریت اور جمہوریت میں کیا فرق ہے؟
آج وقت ہے کہ پاکستانی عوام ایک مرتبہ پھر سے جاگ اٹھے اور پاکستانی سیاست کو سدھارنے اور اس کی بہتری کےلئے ایسے اقدامات کریں کہ امریکہ اور پوری دنیا کو پتہ چل جائے کہ پاکستان میں سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نہےں بلکہ عوام کی عدالت ہے پاکستانی عوام جس کو چاہے گی وہی پاکستان کی صدارت کا منصب سنبھالے گا۔

Guest (not verified)

Wed, 11/24/2010 - 16:16

brother u had mentioned a lot of problems but no solution which we need most.....2nd thing that i feel u use word k mulq hum se darte the I think so according to my perspiration that is a wrong word the way u used............ u talk about lale masjid nd lot but u had to come with some facts and figures............I think so that was a one way calum without any research...........numbers of facts also about democracy nd dictatorship.........brother system is not wrong implementation is wrong..........although it was a nice afford carry on................................

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......