کتب خانے ۔علم دوستی کے علمبردار

Submitted by Guest (not verified) on Mon, 12/01/2008 - 11:14

کتب خانہ جس کو انگریزی میں لابئریری کہا جا تاہے لفظ لائبریری لاطینی زبان ’’لبرا ‘‘سے ماخوذ ہے جس کے معنی چھال اور کتا ب کے ہیں ۔ لائبریری کا لفظ پڑھنے ، تحقیق کرنے یا دونوں مقاصد کیلئے باقاعدہ کسی ایک جگہ کتب ومخطوطات کو اکھٹا کرنے کے معنوں میں استعمال کیا جاتاہے ۔کتب خانہ کا بنیادی مقصد علم کی حفاظت اور ترسیل ہے ۔ مسلمانوں نے کتب خانوں کو ’’معلوماتی مرکز‘‘ کا نام دیا تھا۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بنی نوع انسان کے تہذیب یافتہ دور میں قدم رکھتے ہی کتب خانوں کا آغاز ہو گیا تھا ۔ انسان کا دنیا میں آنکھ کھولتے ہی لکھنے پڑھنے کی رجحان تھا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے مٹی کی تختیوں ، جانوروںکی جھلی اور لکڑی کی تختیوں کو استعمال کیا گیا بعدازں چین میں کاغذ کی ایجاد عمل میں آئی ۔
فن تحریر کے ساتھ ہی کتب خانوں کے قائم ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا ۔ قدیم دور کے کتب خانوں میں آشور بنی پال، کتب خانہ اسکندریہ اور کتب خانہ پرگامم قابل ذکر ہیں ۔ آشور بنی پال کے کتب خانے میں دولاکھ تیس ہزار مٹی کی تختیاں تھیں اور اس کتب خانے کو پہلا عوامی کتب خانہ بھی کہا جا تا ہے ۔ جبکہ پرگامم کا مواد پیپرس رولز اور پارجمنٹ پر مشتمل تھا اور یہ ذخیرہ دولاکھ کے لگ بھگ تھا۔ دنیا کا پہلا منظم کتب خانہ اسکندریہ تھا اور اس میں منہ مانگی قیمت پر کتب خرید کر رکھی جا تی تھیں اس میں میں رکھے گئے مواد کو مضامین کے اعتبار سے رکھا جاتا تھا ۔ اس کا قیام 323ق۔م میں مصر میں عمل میں آیا اور اس میں ذخیرہ کتب سات لاکھ تھا۔ اس کی تعمیر و قیام میں بطیموس دوم نے اہم کردار سرانجام دیا تھا۔ پرانے وقتوں کے عظیم کتب خانوں کی دو اہم خصوصیات علم دوستی اور حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور ان کی ہیت و تنظیم میں ہم آہنگی تھی۔ نجی کتب خانوں کا بانی ارسطو کو کہا جا تاہے ۔ ارسطو نے کتب خانوں کی تنظیم و ترتیب سائنسی بنیادوں پر رکھنا شروع کی تھی۔ یونانی کتب خانوں میں ادب، تاریخ ، سائنس ، ریاضی ، فلسفہ ، مذہبیات ، سیاسیات اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر ذخیرہ کتب زیادہ تھا۔آپ کو یہ بات جان کر شایدحیرت ہو کہ مغل بادشاہ ہمایوں وہ بادشاہ تھا جو کتب خانہ کی سیڑھیوں سے پھسلا اور بعد میں انتقال کر گیا۔
تعلیم اورکتب خانے ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیںکوئی تعلیمی درسگاہ ایک منظم کتب خانے کی ضرورت سے بے نیاز نہیں ہوسکتی ۔ تعلیمی اداروں میں نصابی ضرورت محض نصابی کتابوں سے پوری نہیں ہو سکتیں لہذا تحقیقی ضروریات کیلئے اضافی کتابوں کا ہونا ضروری ہے۔ جنہیں منظم تعلیمی کتب خانوں کیصورت میں رکھا جا سکتاہے۔معاشرتی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ عوام مروجہ علوم اور زمانے کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔ عوام کی علمی سطح جتنی بلند ہوگی ملک اتنی ہی ترقی کرے گا۔علم کے حصول کا سب سے بڑاذریعہ ہمارے سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں مگران میں صرف نصابی تعلیم دی جاتی ہے۔تعلیمی ادارے علم کی انتہائ نہیں بلکہ لوگ یہاں سے اپنے راستے سے آگاہ ہوتے ہیں۔ عملی زندگی کے راستے پر مسلسل گامزن رہنے کا ذریعہ کتب خانے ہیں۔ ان کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ صحیح معنوں میں علم کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔ لہذا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جو راستہ تعلیمی ادارے سے نکلتا ہے وہ کتب خانہ میں آکر ختم ہو جاتاہے ۔ کیوں کہ یہ کسی بھی شخص کی معلومات کا بہترین ذریعہ ہیں۔یہاں پر ہر قسم کا علم بغیر کسی پابندی اور رکاوٹ کے مل جاتا ہے ۔
کتب خانوں کی پانچ بڑی اقسام ہیں ۔
عوامی کتب خانے
عوامی کتب خانوں میں باغ جناح لائبریری لاہور،سنٹرل لائبریری بھاولپوراور لیاقت باغ لائبریری راولپنڈی شامل ہیں۔عوامی کتب خانوں میں لوگوں کی تعلیمی قابلیت کے مطابق مواد رکھا جا تاہے ۔ جو کہ مختلف افراد کی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں۔دنیا کا سب سے پہلا عوامی کتب خانہ جولیس سیزر نے قائم کیا تھا۔
تعلیمی اداروں کے کتب خانے
اسکول ، کالجزاور یونیورسٹیاں تعلیمی کتب خانوں میں شمار ہوتی ہیں۔ان تعلیمی اداروں میں قائم کتب خانوں کا بنیادی مقصد طلبائ اور اساتذہ کی تحقیقی و تدریسی ضروریا ت پوراکرتی ہیں۔
قومی کتب خانے
لائبریری آف کانگریس امریکہ ، برٹش میوزیم برطانیہ اور نیشنل لائبریری آف پاکستان قومی کتب خانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ دنیا میں سو سے زائد ممالک میں قومی کتب خانے قائم ہیں۔قومی کتب خانے ایسے ادارے کا نام ہے جسے کوئی قائم کرنے بعد چلائے۔انکا مقصد خاص موضوع اور تحقیق کی خاطر خدمات فراہم کرنا ہوتاہے۔
خصوصی کتب خانے
ایسے کتب خانے جو کسی خاص موضوع یا کسی خاص شعبہ میں تحقیق کے لئے قائم کیے جائیں جہاں صرف اسی سے متعلقہ کتب رکھی جائیں خصوصی کتب خانے کہلاتے ہیں۔
ذاتی کتب خانے
ایسے کتب خانے جنہیں کو ئی فرد اپنے ذاتی مقاصد کی خاطر قائم کر لے یا بنا لے وہ ذاتی کتب خانہ کہلاتا ہے۔
ہمیں اکثر یہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبائ زائد مطالعہ نہیں کر تے ہیں اور اپنا وقت تحقیق و جستجو میں صرف نہیں کرتے ہیںجو کہ کسی بھی معاشرتی نظام کے ارتقائ کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔جب افراد خوب سے خوب ترکی جستجو نہیں کریں گے تو ملک کیسے ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔موجوہ دور میں مختلف قسم کی نت نئی ایجادات کی وجہ سے بھی بہت سے لوگوں کا رجحان اب حصول علم کی طرف کم ہو گیا ہے جبکہ غور طلب بات یہ ہے کہ ابھی تک جتنی اور جس میدان میں ترقی ہوئی ہے وہ سب علم کی جستجو کی بدولت ہے اور اس کا سہرا بجا طور پر کتب خانوں کو بھی دیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہاں پر ہر قسم کا علم اور دوسروں کی مختلف شعبہ ہائے جات میں تحقیق ہے جس سے استفادہ کر کے مختلف ادوار میں بہت سے اہل علم نے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔
ہمارے ہاں نوجوانوں میں ذوق مطالعہ کی کمی ہے اور اس کمی کا سہراکسی حد تک کمپیوٹر اورموبائل فونز پر بھی ہے جہاں انکے فوائد ہیں وہیں یہ
نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ نوجوان نسل کے پاس کتب پڑھنے کا وقت تو نہیں ہے لیکن دن رات انٹرنیٹ چیٹنگ اور فضول و عشقیہ ایس ایم ایس کرنے میں وقت برباد کر رہے ہیں اور عمر کا ضیاع کچھ حاصل کئے بغیر ہی ہو رہا ہے۔مطالعہ کی عادت تو ایسی ہے کہ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہے تو نہ صرف انسان خود بلکہ دوسروں کو بھی اپنے علم وتجربہ سے مستفید کر سکتا ہے اور لوگوں کوایک خاص وقت مختلف علوم کی باتوں میں صرف نہیں کر نا پڑے گا اور وہ اس سے عمر رسیدہ اشخاص میں بھی مطالعہ کی عادت نہیں ہے وہ اپنے فارغ اوقات میں یا تو کسی کھیل کے میدان کا رخ کر تے ہیں یا پھر اپنے ہم عمر افراد کے ساتھ گپ شپ کی نظر کر دیتے ہیں۔اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ ان کا دماغ شیطان کا کارخانہ بن جاتاہے اور ترغیب وتحریص کے منصوبے سوچتے ہیں۔
پاکستان میں بہت سے تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں جہاں لائبریری کا سرے سے وجو د ہی نہیں ہے کتب خانوں سے نوجوان نسل کی دوری کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے شاید ان کے کرتا دھرتا لائبریری کی اہمیت و قدر سے واقف نہیں ہیں اور چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں تعلیمی ادارہ قائم کر کے محض روپیہ توکم رہے ہیں لیکن طلبہ میں علم کی جستجو اور قدر کو اجاگر نہیں کر رہے ہیں۔ اورطلبہ اپنا وقت مختلف قسم کے کھیلوں میں صرف کر دیتے ہیں اور ان کو کچھ بھی سیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔جب کہ ان کا رجحان اگر تعلیم کی طرف کر دیا جائے تو یہ ملک کی ترقی وخوشحالی میں بہتر طور سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں شرح خواندگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے طلبا ئ تعلیم کی طرف مناسب رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے کسی فنی ہنر سیکھنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں تاکہ روزگار کی فراہمی آسان ہوسکے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی دلچسپی نصابی کتب سے ہٹ کر دیگر موضوعات پر مطالعہ کرنے کی ترغیب نہیں دی جا تی ہے جس کی وجہ سے وہ حصول تعلیم کو بوجھ سمجھتے ہو ئے اس سے چھٹکارہ حاصل کر لیتے ہیں۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ محبوبہ جب بیوی بن جائے تو بو ر کرنے لگتی ہے ‘‘۔اس طرح سے ایک دلچسپ کتاب بھی نصاب میں داخل ہو کر بوریت کا سبب بن جاتی ہے کہ اس کو بار بار پڑھنا پڑتا ہے اور اسطرح سے تخلیقی قوت کو ابھارنے کی صلاحیت کھو جاتی ہے۔ لہذا اسطرح کے اقدامات کرنے چاہیے کہ طلبائ میں ذوق مطالعہ پیدا ہو جائے اور وہ مرتے دم تک کتب سے دوستی کبھی دستبردار نہ ہوں ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ"Child is the father of man"بچہ ہی مستقبل کا باپ ہے آج کے والدین کل بچے تھے اور آج کے بچے ہی کل کے اچھے اور ذمہ داری شہری ہونگے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انکی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ ان میں فروغ مطالعہ کی عادت پختہ ہوجائے تاکہ وہ تمام عمرحصول علم میں مگن رہ سکیں۔

This is an urdu article about libraries by Zulfiqar Ali Bukhari
کتب خانے ۔علم دوستی کے علمبردار
تحریر: ذوالفقار علی بخاری، اسلام آباد
Cell No. 0300-5099541 / Email: zulfiqarali.bukhari@gmail.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......