کاکوشاہ(جاوید احمد غامدی) ۔۔۔۔۔دور حاضر کا فیضی

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 06/11/2008 - 04:35

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ دین کا فہم نہیں رکھتے بلکہ یہ ہے کہ بعض قوتیں دین کا نام لے کر دین پر حملہ آور ہیں دینی اصلاحات کی آڑ لے کر دین کی روح کو کچلنے کے درپے ہیں ان کے عزائم مخفی ہیں نہ ہتھکنڈے نئے بلکہ سب کچھ واضع اور صاف نظر آنے کے باوجود تحفظ دین کے ذمداران اچکوں کی وارداتوں پر مہر بلب ہیں، بلکہ اٹھائی گیروں کی حرکتوں کو دیکھنے اور جانتے ہوئے چپ ہیں کہ انتہا پسندی کا الزام نہ لگ جائے، ہماری رواداری پر دھبہ نہ لگ جائے دین چاہئے بدنام ہو اس کا چاہئے کوئی حلیہ بگاڑ دے بس ہم پر الزام نہ آئے ہمیں کانٹا نہ چھبے ہمیں برا نہ کیا جائے۔۔۔

اس احتیاط پسندی کا نتیجہ ہے کہ آج کا کوشاہ جیسے لوگ شارح دین ہونے کے دعویدار ہیں دین کی روح سے ناواقف لوگ اجتہاد کی کبڈی میں مصروف ہیں اور حالت یہ ہے کہ کشمالہ طارق کہتی ہیں (میں اجتہاد کروں گی) اجتہاد کیا ہے؟؟؟۔۔۔ اس کی شرائط کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اور حدود و قبود کے ضمن میں کیا دیکھنا پڑتا ہے یہ ایک خالصتا علمی موضوع ہے جس کا کالم سردست متحمل نہیں ہوسکتا البتہ یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ حکومت پاکستان کا مجتہد کون ہے؟؟؟۔۔۔ جو دین میں سے روشن خیالی کا ایڈیشن نکالنے میں ہے اور حکومت کے فیضی کا کردار ادا کرتے ہوئے دین اکبری سے بھی آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔

اس شخصیت کی تلاش میں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کوئی بھی ٹی وی چینل کھول لیں اس پر دینی اقدار اور دینی روایات کے خلاف اپنی سوچ کو بطور حجت پیش کرتے ہوئے جو شخص دکھائی دے وہی حکومت کا فیضی یعنی (علامہ) جاوید غامدی ہے۔جن کا سنت کی تعریف سے لے کر قرآن حکیم تک اُمت سے اختلاف ہے اور موصوف کا دعوٰی ہے کہ ١٤سوبرس میں دین کی کو ان کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے اعمال و فیصلوں سے لے کر آئمہ احادیث تک سے اختلاف کرتے ہیں اور جہاں دال نہ گلے قرآن کو چھوڑ کر تورات اور انجیل تک سے اپنے مقصد کے احکامات نکال لینے میں ثانی نہیں رکھتے۔ خود کو علامہ کہلواتے ہیں لیکن مبلغ علمی اتنا ہے کہ بی اے کرنے کے بعد علم کا دورہ پڑا اور پھر ازخود مطالعہ کرتے کرتے مجتہدین بن بیٹھے۔ ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر چند برس بعد ان کے نظریات میں جوہری تبدیلی واقع ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی ان کے ساتھی انہیں چھوڑ جاتے ہیں اور وہ نہ صرف اپنے نظریات بلکہ ساتھیوں کو بھی چھوڑ کر اگلی منزلوں کی طرف کوچ کرجاتے ہیں۔۔۔

حددو اللہ کے خلاف سازش کی قیادت کے علاوہ موصوف پورے اسلامی معاشرے کو روشن خیال بنانے کی فکر رکھنتے ہیں اسی باعث ان کے نزدیک، گانا بجانا، رقص و سردوست جائز ہے پردہ جہالت کی نشانی ہے اگر مغرب پسند نہیں کرتا تو ہمیں پردہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ ستر عورت کے حوالے سے ان کے خیالات میں تغیروتبدل آتا رہتا ہے بعض اوقات جذباتی ہو کر یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ فقہ حنفی میں مرد و عورت کا ستر برابر ہے سوال کریں کہ یہ حنفی کی کونسی کتاب میں ہے تو جواب دل و دماٹ کو باغ باغ کردیتا ہے فرماتے ہیں کہ اب کسی کتاب میں مرقوم نہیں، امام یوسف نے بعد میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے بدل دی تھی۔سوال یہ ہے کہ جب اس بات کا کہیں تذکرہ ہی نہیں ہو و (جناب) کو کہاں سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ رحمہ پر الزام دھرنے اُٹھ کھڑے ہوئے سیدھے سیدھے اپنے دل کی کیوں نہیں کہتے؟؟؟۔۔۔ صرف ستر عورت پر ہی کیا موقوف جناب کے اکثر نظریات کا یہی عالم ہے۔۔۔

ان کے جاننے والے ایک ساتھی کا موقف ہے کہ جسے اسلام پر کوئی شک و شبہ ہو جاوید غامدی سے مل لے اور کچھ نہ ہوا تو مشکوک ضرور ہو جائے گا۔۔۔

موصوف کا تازہ ترین فرمان ہے کہ قرآن کے تمام تر احکامات عملدرآمد کی خاطر نہیں۔ اکثر کا تعلق ریاست مدینہ کے دور سے تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنت کو آپ نہیں مانتے بلکہ آپ کے نزدیک سنت صرف وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تواتر سے ثابت ہو یعنی سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم قابل اعتناء نہیں۔ قرآن پورے کا پورا قابل نفاذ نہیں حدیث کی ثقاہت پر آپ کو اعتراض ہے تو دین کہاں گیا؟؟؟۔۔۔ یہ دین تا قیامت رہنمائی کیسے کرے گا؟؟؟۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ١٤ سو برس بعد آپ پر یہ انکشاف کیسے ہوگیا کہ قرآن کے تمام احکامات قابل عمل نہیں اور پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سا حکم آج کے لئے ہے کون سا متروک ہوچکا ہے موجودہ حکومت کے شارح دین کو جہاد سے بھی خاصی چڑ ہے ان کا نقطہ نظر ہے کہ طاقتور کو حق حاصل ہے کہ وہ کمزور کو دبالے لہذا افغانستان اور عراق پر امریکہ کا قبضہ جائز اور اس کی مزاحمت ناجائز ہے۔۔۔

جناب فیضی جدید کے یہ نظریات وہ ہیں جو ان کے بیانات، مباحث میں عام دستیاب ہیں ورنہ فکری غامدی اور دین اسلام میں اتفاق کم اور بعد المشرقین زیادہ ہے دین اسلام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور ١٤ سو برس سے نافذ اور رائج ہے اس کے مقابلہ میں فکری غامدی سراپا روشن خیالی اور امریکہ کے فرمودات کے عین مطابق ہے موجودہ حکومت کے اس فیضی کی حیثیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ صرف احباب اور نظریات ہی نہیں بدلتے بلکہ نمایاں ہونے کے شوق میں نت نئے نام بھی اختیار کرتے رہتے ہیں۔۔۔

ماضی میں ان کے رفیق خاص رفیق چودہدری نے اپنے ایک مقابلہ میں لکھا ہے کہ علامہ جاوید غامدی کا ابتدائی نام کاکوشاہ تھا بی اے کیا تو محمد شفیق بن چکے تھے بعد ازاں ماڈل ٹاؤن میں سرکار سے پلاٹ الاٹ ہوگیا جہاں دائرۃ فکر کے نام سے ادارہ بنایا اور تحریک اسلامی کے نام سے جماعت بنا کر مولانا مودودی پر تنقید سے کار جہاں کا آغاز کیا جلدہی انہیں محسوس ہوا کہ محمد شفیق تو عام سا نام ہے اس سے علمیت کی گہری چھاپ کا اظہار نہیں ہوتا لہذا جاوید احمد کا لبادہ اوڑھ لیا اور ساتھ ہی جماعت اسلامی کی کی مخالفت چھوڑ کر مولانا مودودی کے سایہ عاطفت میں جاپناہ گزیں ہوئے جہاں انہیں پذیرائی ملی مولانا نے دارالعروبہ سے خالی ہونے والی کوٹھی ٤ ذیلدار پارک ان کے تصرف میں دے دی اور ساتھ ہی ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا انہیں دنوں انہیں عربی سیکھنے کا شوق ہوا اور یہ شوق انہیں فرقہ معتزلہ کے لٹریچر کے قریب لے گیا۔ جہاں ان کی خواہشات کی تکمیل یوں ہوئی کہ چونکہ اس دور میں معتزلہ کے عقائد سے لوگ آگاہ نہیں لہذا (جاوید غامدی) نے اپنی انفرادیت کا سکہ جمانے کی خاطر (کتاب المفصل) اور (الکشاف) نامی معروف معتزلہ تصنیفات کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اس دور کسی مرحلہ پر انہیں جاوید احمد نام بھی عام سالگنے لگا تو غامدی کا لاحقہ لگا کر نام کی حد تک خود کو امام قرار دے دیا اور اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی سے بھی رخصت سفر باندھا کہ نظم کی پابندی اور مولانا مودودی جیسے شخص کی موجودگی میں فقیہہ دوراں بننے کا امکان کم تھا۔۔۔

نام کے ساتھ اپنے ادارہ کے نام میں بھی انہیں ہمشہ کسی مخصوص احساس کا سامنا رہا پہلے جسے دائرۃ الفکر کہا تھا وہ کئی رنگ اختیار کرتے کرتے آج کل المورد کے نام سے موجود ہے اس بحث میں نہیں پڑھنا چاہئے بار بار نام بدلنے والے شخص کو ماہرین نفسیات کس نام سے پکارتے ہیں اور اس کیفیت کا کوئی مکمل علاج ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔ اس سلسلہ میں غامدی جانیں ان کے ورثاء جانیں یا وہ جانیں جن کے وہ امام اور مجتہد ہیں ہمیں اس بات سے غرض ہے کہ حدود اللہ کے خلاف جس شخص کو استعمال کیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلامی شعائر کے خلاف جسے استعمال ہونا ہے اس کا ماضی کیا ہے اور اس کی شخصیت استعمال کرنے والوں کیلئے کس قدر موزوں ہے۔۔۔۔

ذکر ہو رہا تھا کاکوشاہ المعرف علامہ جاوید احمد غامدی کا کہ کس طرح سے نمایاں ہونے اور (امام وقت) بننے کے شوق میں وہ اپنے نام تک کو بدلنے اور بدلتے رہنے کی حد تک چلے گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معتزلہ کی تعلیمات سے متاثر حدیث اور سنت سے غیر مطمئن، انفرادیت بلکہ خبط عظمت کے مریض اس شخص کا وائٹ ہاؤس کے منبع روشن خیالی سے کنکشن کیسے ہوا؟؟؟۔۔۔ اور یہ سانحہ کس طرح رونما ہوا کہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر کی چار دیواری میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر خود کو دارقد قرار دینے والے اچانک ملک بھر کے ٹی وی چینلز اور حکومت کے لئے محبوب تریں قرار پائے۔۔۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ ٢٠٠٤ میں امریکہ محکمہ دفاع سے ایسوسی ایٹ ایک مشاورتی فرم (رینڈ) جسے اردو میں رانڈ بھی پڑھ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا اس ادارہ کے نیشنل سیکورٹی ڈویژن نے امریکی حکومت کے لئے ایک ٨٠ صفحات پر مشتمل ماورتی رپورٹ پیش کی جس کا عنوان (مہذب جمہوری اسلام) رکھا۔۔۔

رپورٹ کے مصنف اور رینڈ کے عہدیدار شیرل بنیار نے اپنی رپورٹ کا ایک خلاصہ بھی تحریر کیا مکمل رپورٹ اور اس کا خلاصہ نیٹ پر جاری کر دیئے گئے۔ عالم اسلام کے ارباب دانش نے اس کا شدت سے نوٹس لیا کیونکہ اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا کہ مسلمان اس وقت سوچ و فکر کے چاروں دھاروں میں منقسم ہیں ان میں سے ایک جسے بنیاد پرست کہا جائے وہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ گروہ مغربی کلچر کو تو مسترد کرتا ہے لیکن جدید دور کی تمام تر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی قوانین کو خالص انداز میں نافذ کرنا چاہتا ہے اس کی راہ روکنے کی خاطر روایت پسند طبقے کو استعمال کرنا چاہئیے جو جدید دور کی ضروریات سے عاری ہے اور ماضی میں زندہ رہنا چاہتا ہے اس گروہ کو اسلام اور بنیاد پرستوں کو بدنام کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہئیے لیکن اسے مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔۔۔

رینڈ کے مطابق سیکولر طبقہ مغربی انداز فکر اور طرز حیات کے سبب اپنی افادیت کھو چکا ہے لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ تمام تر وسائل کے ساتھ چوتھے گروہ کی حمایت کرے جسے جدت پسند کہا جاتا ہے یہ لوگ اسلام کو جدید بنا کر اور اس میں اصلاحات کر کے موجودہ حالات کے مطابق بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لہذا امریکہ کو چاہئیے کہ وہ اس طبقہ کی مالی، مادی، اخلاقی، سیاسی مدد کرے۔۔۔

١- ان کی تحریروں کی نوک پلک درست کر کے انہیں ارزاں نرخوں پر عام کیا جائے۔۔۔
٢- انہیں عام آدمی اور نوجواں کیلئے لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔۔۔
٣- ان کی آراء اور مذہبی تشریحات پر مبنی سوالات اُٹھائیں اور اس بحث کو عوام میں عام کرنے کا ہر راستہ اختیار کیا جائے۔۔۔
٤- ان کے توسط سے عام مسلمانوں کے سامنے مغربی کلچر کو متبادل کے طور پر پیش کیا جئے۔۔۔
٥- ان کے ذریعے قبل ازاسلام کی تاریخ۔۔۔غیر اسلامی تاریخ اور کلچر کی نہ صرف حوصلہ افرائی کی جائے بلکہ متعلقہ مسلمان ممالک کے نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ میں اسے داخل کیا جائے۔۔

یہ اور اسی طرح کے بیشمار سازشی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ جدت پسندوں کو تلاش کر کے اک نئی طرف کا مغرب کے لئے قابل قبول اسلام گھڑا جائے رینڈ کی اس رپورٹ پر ایک محفل میں بحث جاری تھی کہ ایک اخبار نویس نے ازرہ تفنن کہا (لوجی غامدی صاحب کی پانچوں گھی میں ہوگئیں) وہ اس معیار پر سو فیصد پورا اترتے ہیں اس پر شریک محفل ایک اعٰلی سرکاری افسر نے ترنت پوچھا یہ غامدی صاحب کیا ہیں؟؟؟۔۔۔ اصل جملہ یوں تھا (ہاو از شی) انداز ایسا تھا کہ وہ انہیں نام سے عرب خیال کر گئے اس پر اخبار نویس نے کاکوشاہ کا مکمل تعارف کروادیا۔ چند روز بعد ملکی سطح پر ایک حادثہ کے بعد سرکاری افسر پاکستان اسی اخبار نویس کے کٹیاتما غریب خانہ پر غامدی صاحب کا فون نمبر مانگنے آن پہنچے اخبار نویس جانتا تھا کہ جناب غامدی آمریت کے ناقد اور جہموریت کے دلدادہ ہیں ان کے ہتھے شاید نہ چڑھ سکیں کیونکہ ابھی یہ بھرم قائم تھا کہ وہ بکاؤ مال نہیں۔۔۔

مگر پھر ایسی ہوا چلی کہ صرف کاکوشاہ المعروف غامدی اکیلے اپنی پانچوں تانگے کی سواریوں سمیت حکومت کی آنکھ کا تارہ بن کر طلوع ہوئے ہر ٹیلویژن اسکرین انہی کے رُخ (روشن) سے (منور) نظر آنے لگی۔ اشفاق احمد فو ہوئے تو پی ٹی وی نے ان کی جگہ بھی جناب غامدی کو لا بٹھایا جو بڑے دھڑلے سے اسلام کے پردے میں فکر غامدی کی ترویج میں مصروف ہیں سرکاری غیر سرکاری الیکڑانک میڈیا میں ان کا ڈنکا بجتا ہے اور رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ جو آج بھی نیٹ پر دستیاب ہے اس کا ایک ایک حرف عملدرآمد کے مراحل طے کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔۔

قصرابیض کے روسیاہ دین حنیف کا جس طرح سے حلیہ بگاڑ کر اسے اپنے معاشرے کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ماڈل میں کاکوشاہ کا مرکز روشن خیالی اس کے عین مطابق تشریحات گھڑتا چلا جا رہا ہے امریکیوں کو پردے سے چڑ ہے۔۔۔۔ فکر غامدہ پردہ غیر ضروری فعل ہے۔۔۔

وائٹ ہاؤس کو جہاد سے دشمنی ہے۔۔۔۔ فکر غامدی کے لئے ایسی ایسی ناممکن العمل شرائط لگا کر جہاد کی راہ روک رہا ہے کہ جس کا کسی کو ماضی میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔۔۔

صدر بش کو اسلام سے افغانستان اور عراق پر حملہ کی حمایت چاہئے۔۔۔۔فکر غامدی حدیث اور سنت کو غیر معتبر قرار دے کران کی راہ ہموار کر رہا ہے۔۔۔مغربی خبث باطن توہیں رسالت پر آمادہ ہے۔۔۔۔فکر غامدی توہیں رسالت کی سزا پر معترض ہے اور اہل مغرت کو اس کا حق دیتا ہے۔۔۔ امریکی بدمعاش مسلمان اور قرآن کا تعلق توڑنا اور تقدس ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔فکر غامدی قرآن کے احکامات کو دور حاضر کے لئے ناقابل عمل قرار دیتا ہے۔۔۔مغربی صلیبی قرآن کے مقابلے میں جعلی کتاب لاتے ہیں۔۔۔فکر غامدی اسے ان کا حق مانتا ہے۔۔۔ اور اب امریکی حکمران پاکستان میں حدود قوانین کا خاتمہ چاہتے ہیں۔۔۔فکر غامدی کا سرحیل اس مہم کا نگران قرار پاتا ہے۔۔۔۔وہ مسلمان کے نصاب تعلیم میں غیر اسلامی کلچر داخل کرنا چاہتے ہیں یہ اسکولوں میں اسلامیات پڑھانے کی مخالفت کرتا ہے۔۔۔۔

کیا اب بھی یہ مان لیا جائے کہ فکر غامدی اور امریکی استعمار کی خواہشات میں مشترکات محض (اتفاق) ہے کی اب بھی اس دور کے فیضی کو شک کا فائدہ دیا جائے گا؟؟؟۔۔۔۔۔

شواہد چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں کہ کاکوشاہ المعروف جاوید غامدی کسی نئے دین اکبری کی نوک پلک سنوار رہا ہے اس کی تعلیمات اور حدود قوانین کے خلاف سازش دراصل حدود اللہ اور اسلام کے خلاف سازش ہے کیا اب بھی اس کا نوٹس نہیں لینا چاہئے؟؟؟۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین، مفتیان شرح متین وہ اس پر چپ کیوں ہیں؟؟؟۔۔۔ اپنا فرض ادا کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟۔۔۔۔

وسلام۔۔۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.