ڈیرہ اسما عیل خان کے 2 انقلابی سوچ کے قلم کار

Submitted by wajahat on Tue, 04/21/2009 - 09:45

منیر فردوس
یہ کائنات ایک کتاب بھی ہے اور ایک حجاب بھی ہے اور ایک پردہ بھی ہے ۔ انسان بھی تہ بہ تہ ایک جہان و فکر واحساس ہے۔ حقائق کے چپھے ہو ئے خزانے تجسس کو مہمیز کرتے ہیں ۔ انسان کبھی وادی تحقیق میں سرگرداں اور کبھی تلاش َ تعبیر میں حیران ، عہد بہ عہد صدی بہ صدی معلومات کے انبار لگاتا ہوا چلا آرہاہے لیکن معلومات کے دفتر میں اسے صداقت کا وہ ہیرا نہیں ملتا جس کی تڑپ نے اسے آمادہ سفر کیا تھا۔ نہ پائے جستجو رکتے ہیں نہ نشان َ منزل کا پتا چلتا ہے ۔ لیکن زمانہ سرگرم َ سفر ہے۔

اسی سفر کے دو راہی ایک منیر فردوس جو اپنے اندر کے درد ، دکھ ، کرب میں الفاظ کو ڈبو کر صفحہ قرطاس پر غم کی ایک ایسی لکیر کھنچتا ہے جس سے اس کے سینے میں ڈیرہ کی انمول اور پیار میں ڈوبی ہوئی لیکن آج کل بے گناہوں کے خون میں گوندھی ہوئی مٹی کے رونے ، بین کرنے اور دہائی دینے کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ اگر کوئی اپنی اآنکھوں سے فرقہ واریت، دہشت گردی اور ظلم اور سیاسی مفادات کی عینک کو ایک لمحہ کے لیے ہٹا کر دیکھے تو اسے اپنی ماں سر زمین ڈیرہ ، بال کھولے ہوئے ، ننگے پاوں، پٹھے ہو ئے کپڑوں، جسم خون آلودہ ، آنکھوں میں خون کے آنسووں کا ایک سمندر لیئے گلی گلی ، کوچے کوچے محلے محلے میں ایک ہی صدادیتی ہوئی نظر آئے گی۔ امن امن امن ۔ اور یہی درد میں ڈوبی ہوئی آواز اس ماں کے ایک غیرتمند بیٹے منیر نے سنی جس نے اس آواز کی، اپنی ماں کی اس بے تابی کو سمجھتے ہوئے قلم اٹھا کر لفظوں کی شکل میں لکھ ڈالا کہ اے ڈیرے والو یہ میری نہیں، یہ ہم سب کی سانجھی ماں کی آواز ہے اسے پڑھو، سمجھو اور اس پر عمل کرو کہ ہماری ماں کیا چاہتی ہے ۔

میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب ڈیرہ ایک دفعہ پھر پھلاں دا سہرا ہو گا اور ہم سب اپنی ماں کی گود میں بیٹھ کر، سندھ کنارے ایک ہی آواز میں کہیں گے۔ کوکلے چھپاکے جمعرات آئی ہے ۔ جیڑھا ساڈو اکھ ڈیکھسی اوندی شامت آئی ہے

انشاء اللہ منیر کو صداقت کا ہیرا بھی ملے گا جس کی تڑپ نے اسے آمادہ سفر کیا ہے

______________________________________________________
عباس سیال

تکلم آدمیت کا شرف ہے ، قوت اظہار بنی نو ع انسان کااعزاز ہے مافی الضمیر کو الفاظ کے روپ میں پیش کرنا انسان کی ضرورت ہے اور ضروریات خواہشات سے متصل ہو تی ہیں لہذا انسان خواہ کسی نسل ، کسی مذہب اور کسی خطے سے تعلق رکھتا ہو اپنی خواہشات کو حسب َ ضرورت گفتگو کا لباس پہناتا رہتا ہے ۔

لیکن فکر کے اظہار کا ایک عنوان ایسا بھی ہے جو پوری طرح خالص ہے اور نہ اس کا محرک دنیا کی ضرورت ہے اور نہ اسکا باعث انسان کی زاتی خواہشات ہیں اور وہ عنوان ہے صرف اور صرف ڈیرہ

میں نے جب بھی کسی اخبار میں ، انٹر نیٹ پر یا دوستوں کی لائبریری میں اگر عباس سیال کی کوئی تحریر پڑھی ہے تو وہ صرف اور صرف ڈیرہ والوں کے اردگرد گھومتی ہے ۔ جس میں عباس سیال کی بے لوث اور زاتی مفادات ہے ہٹ کر ڈیرہ اور ڈیرہ والوں کی چاہت نظر آتی ہے کہں سینے میں بے گناہوں کے خون کا درد، کہیں ڈیرے والوں‌کی حق تلفی کے آنسو، کہیں سرداروں وڈیروں کے ڈرائنگ رومز میں ہونے والی ڈیرہ وال کُش پالیسی کی دھمک ، کہیں زاتی مفادات کی آڑ میں اپنی ماں کی بولی لگانے والوں کے خلاف اپنی صحت اور طبیعت سے زیادہ بلند صدا، کہیں داڑھی اور مذہب کی آڑ میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کے چہروں سے اپنے نفیس و نازک ہاتھوں سے بھر پور طریقے سے بے نقاب کرنا، کبھی ڈیرہ کے گمشدہ خزانے “ سچے تے کھرے ڈیرے والوں کی تلاش“ کبھی ڈیرہ کے ماتھے کا رنگین جھو مر بننے والے اختر ظوفان اور قادا کرڑی، کہیں ڈیرہ کی غیرتمند مٹی میں پلنے والے بھائی لوگ، کہیں ڈیرہ کو پھلاں دا سہرا بنانے والے لالہ بھوانی داس پپلانی ، لالہ رام داس بھگائی ، نواب اللہ نواز سدوزئی کا زکر ملے گا۔ میرے علم کے مطابق عباس سیال کا قلم صرف ڈیرہ ہی لکھنا جانتا ہے اور اسکی زبان صرف ڈیرہ ہی بولنا جانتی ہے اور اسکا دماغ صرف ڈیرہ کے ہی گرد گھومتا ہے ۔ کیوں نہ ہو۔ یہی تو ایک احساس میں ڈوبے ہوئے غیرتمند سپوت کی نشانی ہے کہ چاہے وہ کہیں پر ، کیسا بھی ہو اپنی مٹی کی عزت کرنا اور کروانا خوب جانتا ہے ۔ شرط غیرت ہے اور ایسے ہی لوگوں پر ماں فخر کرتی ہے اور اتراتی ہوئی ہر جگہ پر کہتی ہے ابھی میرا لال زندہ ہے ۔ وہ اپنی قلم کی دھار سے میرے دشمنوں کو چیرتا ہوا۔پھاڑتا ہوئے مجھے فرقہ واریت کی آگ سے، تعصب کی بدبودار فضا سے، گندی سیاست میں الجھی ہوئی میری جوانی، زاتی مفادات کی جنگ میں میرے ترقی کے پھنسے ہوئے قدم، مزہب کے نام پر میرے بیٹوں کی جوانیوں سے کھیلنے والے، اپنی ہوس کے لیئے قید کی ہوئی میری خوشبو، مجھے پھلاں دا سہرے بنانے والے کی کردار کشی کرنے والوں سے چھڑا کر لے جائے گا اور پھر میری گود میں اپنا سر رکھ کر میرے بال سلجھاتے ہوئے ، مسکراتے ہوئے، مجھ سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے کہے گا ۔۔۔ ماں ۔۔۔۔ اج پولو گراونڈ وچ میلہ اسپان لگے میں ونجاں ۔۔ اج ساڈے سنگتیاں نے دریا تے دھاونی دا پروگرام بنڑائے جلدی ونجنڑیں جو وت جھاہ نہ ملسی

وجاہت علی عمرانی

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......