چین کی تشویش بڑھ گئی؟ ‘‘ کالم ‘‘ زبیر احمد ظہیر

Submitted by imkanaat on Sat, 05/02/2009 - 16:01

چین کی تشویش بڑھ گئی؟ ‘‘ کالم ‘‘ زبیر احمد ظہیر

چین کو تشویش کیوں ہوئی ؟ یہ چونکا دینے والا سوال ہے پاکستان کا ہر شہری بخوبی جانتا ہے کہ چین پاکستان کا گہرا دوست ملک ہے یہ عوامی تاثر قطعی جذباتی نہیں۔ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیکر دلوں میں جگہ بنائی ہے مگر اب صدر آصف علی زرداری کو بھی چین میں بتایا گیا ہے اور مشاہد حسین سید نے بھی انکشاف کیا ہے کہ چین کو ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ایتم) کی جانب سے انقلاب چین کی 60 ویں سالگرہ تقریبات پر حملوں کا خطرہ ہے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر قبائلی علاقوں میں ہونا بتایا جارہاہے چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس سوال نے ہمیں تنہا کر دیا ہے اور چین کے حوالے سے رہی سہی امید بھی دم توڑتی جارہی ہے چین کی یہ تشویش بجا ہے چین امریکا کی اس خطے میں آمد کو امریکا کی جانب سے اس کے خلاف گھیرا تنگ کیاجانا سمجھ رہاہے اور ساری دنیا جانتی ہے چین کی یہ سمجھ بوجھ محض خام خیالی نہیں ۔امریکا ،بھارت کے سفارتی آداب سے باہر نکلتے ہوئے مراسم چین کی اس سمجھ بوجھ کو اس کی دانش مندی اور دور اندیشی ثابت کر رہے ہیںچین ایک امن پسند اور صلح جو ملک ہے یہ مداخلت خودکرتاہے اور نہ برداشت کرتاہے چین کی امریکا نے لاکھ کمزوریاںڈھونڈنے اور ہزار دکھتی رگیں ٹٹولنے کی کوشش کی مگر اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی چین کی ایک کمزوری سنکیانگ ہے یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے چین کی اپنی پالیسیاں ہیںاور ان پالیسوں نے بجاطور پر مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں خلل ڈالا ہوگا اس کاردعمل مسلمانوں میں پیداہونا فطری امر ہے اور اس ردعمل پر چین کاسختی کرنا بھی اس کی ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے عالمی حالات کا چین نے بھی اثر لیا ہے اور پہلے جو مذہبی آزادی مسلمانوں کو حاصل تھی القاعدہ اور طالبان کی زیر زمین سرگرمیوں کے بعد چین نے اس کے تدارک کے لیے مسلمانوں پر سختیاں شروع کر دی ہیں یہ چین کی دوراندیشی کا تقاضا ہے اور ملکی سلامتی کے لیے دوراندیشی کے اقدامات سے کسی کو روکا نہیں جاسکتا ۔چین مسلم مزاحمت سے بخوبی واقف ہے یہ ساری صورت حال رہی ایک طرف. اصل معاملہ کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ اگلا سپر پاور کون ہوگا اس وقت دنیا کے ذہین دماغوں نے اس معاملے پر غور شروع کردیاہے اب امریکا کی طاقت گنوانا اور اس کا دنیا بھر میں پھیلاہوا حجم ماپنے کی ضرورت نہیں رہی امریکاکا زوال شروع ہو چکا ہے اور اسے اب دلائل سے ثابت کرنا بھی مشکل نہیں رہا ۔لے دے کر دنیا کے سارے ذہین دماغ چین کو دنیا کی اگلی سپر پاور طاقت سمجھ رہے ہیں چین کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے اس کی آبادی اور افرادی قوت سے لے کر اسکی معاشی مضبوطی تک ،اس کی ایٹمی طاقت سے لے کر فضائی بالادستی تک سپر پاور کی ساری بنیادی خصوصیات بتدریج چین نے پوری کرنی شروع کردی ہیں خود امریکا کو بھی اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کا احساس ہے اور اس کایہی احساس بھارت سے دن بدن بڑھتے ہوے تعلقات میں نظر آرہاہے جتنا جتنا چین سپر پاور بننے کے قریب ہے اتنا اتنا بتدریج اس کے لیے ایک گمنام القاعد ہ نے زمین سے سرنکالنا شروع کر دیا یہ سب کچھ غیر محسوس انداز میں ہورہاہے تشویش ناک بات یہ ہے کہ چین کا غیرمحسوس اور نظر نہ آنے والا دشمن بھی اسلام کو بنانے کی عالمی سازش رچائی جارہی ہے اس سازش کوچین کے دماغ میں ڈالنے کے لیے تاریخی ثبوت بھی خود بخود مل رہے ہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ماضی کی دوسپر طاقتوں کے زوال میں مسلمانوں کا کہیں نہ کہیں کردار رہاہے برطانیہ کے برصغیر سے زوال کی بنیاد 1857میںپڑی اور آخر کار اسے 1947میںبرصغیر سے بے نیل و مرام نکلنا پڑا ۔ برطانیہ برصغیر سے کیا نکلاسپرطاقت اسکے ہاتھوںسے نکل گئی دوسری طاقت روس تھا اسے واضح طور پر افغان جہاد میں مسلمانوں نے شکست دی اور آج امریکا ہے اس وقت اس کی دہشت گردی کے خلاف سب سے خطرناک جنگ وسائل کے لحاظ سے سب سے کمزور اور نتائج کے لحاظ سے سب سے مضبوط مزاحمت بھی مسلمان کر رہے ہیں یہ اتفاق نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخی حقیقت ہے دنیا کی تمام اقوام کی بنسبت مسلمانوں نے ظلم کے خلاف ہرزمانے میں مزاحمت کی ہے اس وقت دنیاکی حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی شکل میںامریکاہے اور دوسری طرف القاعدہ اور طالبان کی شکل میں سول عسکریت پسند ۔امریکا کی ساری ٹیکنالوجی کاغرور اس سویلین آرمی نے خاک میں ملادیاہے اہم بات امریکاکے خلاف مزاحمت کی کامیابی نہیں اہم بات اس کامیابی سے پیدا ہونے والے خوف کو چین کے دماغ میں بٹھانا ہے اس معاملے پر امریکا اسرائیل سے بھارت تک ساری طاقتوں کا اتفاق دکھائی دیتاہے کہ ایک دشمن کو دوسرے دشمن سے لڑادوالقاعدہ جیسی زیر زمین خفیہ تنظیموں کو ایک مضبوط دشمن سے طویل جنگ لڑنی ہوتی ہے اوریہ جنگ جیت کے لیے نہیں بلکہ دشمن کی جیت کو دن بدن ٹالنے کیلے لڑی جاتی ہے اور اس طویل جنگ میں غلط فہمیاں آسانی سے پیداہو جاتی ہیں امریکہ کے خلاف طویل ہو تی مزاحمت نے چین کو تشویش میں مبتلاکر دیاہے ترکستان اسلامک موومنٹ کون ہے یہ بات تشویش ناک نہیں اس کا قبائلی علاقوںسے جوڑا جانا تشویشناک ہے ۔امریکا بھارت سے اسرائیل تک یہ ساری طاقتیں القاعدہ کو چین کے لیے خطرہ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیںچین کی یہ تشویش صرف تنہاپاکستان کا معاملہ نہیں یہ عالم اسلام کا مسئلہ بھی ہے سنکیانگ کے مسلمانوں کو ان سازشوں سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے ترکستان اسلامک موومنٹ کانام پاکستانی میڈیا میں پہلی بار آیاہے مگر سنکیانگ کا معاملہ بار باراٹھایا جاتارہے گا چین کی تشویش عالمی حالات کی واضح سنگینی ہے اور یہ پاکستان کو تنہائی کے غاروں میں دھکیلے جانے کا کھلا اعلان ہے پاکستان اور چین کے مابین ہزاروں باتیں سینہ بہ سینہ رازدارری سے حل ہو جایا کرتی رہی ہیں یہ پہلا راز ہے جو سینوں سے نکل کر میڈیا تک آیا ہے لہذاحکومت پاکستان اس پر سنجیدگی سے نوٹس لے، چین کے سینے میں دفن ہزاروں رازوں میں سے یہ بات نکل کر سامنے آئی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتااور نہ ہی چین کو مستقبل کے سپر پاور سے الگ کرکے دیکھاجاسکتا انہی حالات کے پیش نظر چین نے صدرآصف زرداری کواپنی تشویش سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......