چیف جسٹس کیس

Submitted by arifmahi on Wed, 03/12/2008 - 19:49

18 اپریل کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست داخل کی گئی جس میں انہوں نے اپنی معطلی اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی پٹیشن کے فیصلے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روک دی جائے۔
درخواست میں صدارتی ریفرنس اور اس پر کارروائی کے حوالے سے ایک سو بتیس آئینی سوالات اٹھائے گئے۔ درخواست میں چیف جسٹس کا مؤقف تھا کہ نو مارچ کو جب انہوں نے مستعفیٰ ہونے سے انکار کر دیا تھا تو ان کو راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں حراست میں لے لیا گیا اور اس وقت تک ان کو وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک قائم مقام چیف جسٹس نے حلف نہیں اٹھالیا تھا۔

19 اپریل کو جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نےدرخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد صدرِ مملکت اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی چوبیس اپریل تک ملتوی کردی۔

24 اپریل کو آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس سردار محمد رضا خان نے درخواست کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو نو مارچ کو ’غیر فعال‘ کیے جانے والے صدارتی ریفرنس پر ان کے بھی دستخط ہیں اس لیے وہ اپنے ہی فیصلے کے خلاف درخواست نہیں سن سکتے اور انہوں نے اس معاملے کو قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو بھیج دیا کہ وہ کوئی دوسرا بینچ تشکیل دیں۔

28 اپریل کو سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے عملی طور پر معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر لوگوں کی آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیدیا جس کا سربراہ جسٹس ایم جاوید بٹر کو مقرر کیا گیا۔

2 مئی کو صدر جنرل پرویز مشرف کے وکلاء نے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو درخواست دی کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی پٹیشن کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔

اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ اسے چیف جسٹس کے خلاف حکومت کی کارروائی پر ویسا ہی ردِ عمل ظاہر کرنا چاہیے جیسا کہ جنرل پرویز مشرف کو فوج کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹائے جانے پر فوج نے کیا تھا

4 مئی کو قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے صدر کے وکلاء کی اس درخواست کو نظر انداز کر دیا۔

7 مئی کو سپریم کور ٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کو حکم دیا کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو روک دے۔ بینچ نے یہ بھی حکم دیا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کو سننے کے لیے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور جسٹس سردار رضا کے علاوہ تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

8 مئی کو قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دے دیا جس کے سربراہ سپریم کورٹ میں ججوں کی سینیارٹی لسٹ کے مطابق جسٹس خلیل الرحمن رمدے مقرر ہوئے۔

12 مئی کو سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے خلاف صدراتی ریفرنس کےحق میں دائر دو آئینی درخواستوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ درخواستیں مولوی اقبال حیدر نے داخل کی تھیں جنہیں سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے’غیر سنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے واپس کردیا۔

جسٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی بینچ کررہا تھا

14 مئی کو چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کے لیے تشکیل دیے گئے سپریم کورٹ کےچودہ رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس فلک شیر نے آئینی درخواست کی سماعت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ چیف جسٹس سمیت آٹھ جونیئر جج ان سے سینئر تصور کیے جاتے ہیں اور یہ نامناسب بات ہے کہ وہ اس فرد کا مقدمہ سنیں جس کے ساتھ ان کا تنازعہ ہے۔

15 مئی کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت شروع کی۔ بینچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس وقت تک جسٹس افتخار کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت نہ کرے جب تک سپریم کورٹ ان کی آئینی درخواست پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کر دیتی۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے دلائل شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے پاس چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ صدر اور حکومت کے وکلاء نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کے اپنے استدلال کے حق میں دلائل شروع کیے۔ صدر کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی بینچ جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سننے کا اختیار نہیں رکھتا اور یہ درخواست وقت سے پہلے ہی دائر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کی کارروائی کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی اور نہ ہی صدر کو مقدمے کا فریق بنایا جا سکتا ہے۔

16 مئی کو درخواست کی سماعت کے موقع پر حکومتی وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ صدر اپنے کسی فیصلے پر عدالت کو جواب دہ نہیں ہیں لہذا انہیں جنرل مشرف کا نام چیف جسٹس کی درخواست میں درج جوابداروں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے

16 مئی کو درخواست کی سماعت کے موقع پر شریف الدین پیرزادہ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے لگائے جانے والے اس الزام کو غلط قرار دیا کہ جب انہوں نے استعفی دینے سے انکار کیا تو انہیں کئی گھنٹوں تک صدر ہاؤس میں حراست میں رکھا گیا تھا۔ یہ مؤقف انہوں نے اپنے تحریری جواب میں اختیار کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ یہ الزام غلط ہے کہ صدر کی طرف سے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ’حقیقت تو یہ ہے کہ چیف جسٹس ہاؤس سیاسی مرکز بن چکا ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر اپنے کسی فیصلے پر عدالت کو جواب دہ نہیں ہیں لہذا انہیں جنرل مشرف کا نام چیف جسٹس کی درخواست میں درج جوابداروں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔

17 مئی کو وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم نے درخواست کی سماعت کے موقع پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان کو دوسرے ججوں سے مختلف تسلیم کر لیا گیا تو پھر وہ آئین میں ججوں کو دیے گئے تحفظ سے محروم ہو جائیں گے اور وفاقی حکومت ان کو ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے عہدے سے برخاست کر سکے گی۔’چیف جسٹس آف پاکستان بھی ایک جج ہیں اور وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی‘۔

’مولوی تمیز الدین کیس‘
22 مئی کو سرکاری وکیل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس کے بعد موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب سے اہم ہوگا۔ جسٹس خلیل الرحمان نے کہا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر کا فیصلہ عدلیہ کے لیے طعنہ بن گیا ہے اور اس کیس کا فیصلہ بھی کہیں یہی صورت نہ اختیار کر لے۔افتخار محمد چودھری کے وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ سارے ملک کی نگاہیں اس مقدمے پر لگی ہوئی ہیں اور سرکاری وکلاء عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں

21 مئی کو سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس (ریٹائرڈ ) ملک قیوم سارا دن عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ ملک قیوم نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 211 میں واضح طورپر لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کی کارروائی اور اس کی رپورٹ کو کسی عدالت میں زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔

22 مئی کو سرکاری وکیل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس کے بعد موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب سے اہم ہوگا۔ جسٹس خلیل الرحمان نے کہا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر کا فیصلہ عدلیہ کے لیے طعنہ بن گیا ہے اور اس کیس کا فیصلہ بھی کہیں یہی صورت نہ اختیار کر لے۔افتخار محمد چودھری کے وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ سارے ملک کی نگاہیں اس مقدمے پر لگی ہوئی ہیں اور سرکاری وکلاء عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

23 مئی کو مقدمے کی سماعت کے دوران جب وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری وقت سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست لے کر پہنچ گئے ہیں، تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل انتہائی خطرناک بات کر رہے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نےچیف جسٹس کے خلاف کوئی فضول حکم جاری کر دیا تو اس حکم کے خلاف کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی جا سکے گی۔ اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ بھی اتنا ہی فضول حکم جاری کر دے تو اس کے خلاف بھی کو ئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست تو دائر کی جا سکتی ہے۔

24 مئی کو اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ چیف جسٹس اپنے آپ کو
ہرگز احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے اور ان کا اعتراض صرف احتساب کرنے والے فورم پر ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ موجودہ مقدمے کے فیصلے میں شاید مقننہ کو یہ سفارش کریں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کے روشنی میں نکالے جانے والے جج کو اپیل کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔

25 مئی کو اعتزاز احسن نے اپنےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدالتوں نے ہمیشہ ایسے مقدموں کو سنا ہے جن میں لوگوں کا مفاد وابستہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلوں کے بعد یہ بے معنی ہو چکا ہے کہ صدر کے کسی فیصلے پر کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

28 مئی کو درخواست کی سماعت کے دوران خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کا فیصلہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر کیا جائے گا۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ ان کے فیصلے کے نتائج کیا ہوں اور انتظامیہ اس کو مانے گی یا نہیں تو پھر وہ ایسے ہی فیصلے کرے گی جیسا کہ جسٹس محمد منیر نے پہلی قانون ساز اسمبلی کے بارے میں فیصلہ کیا تھا۔

’بندوق لے کر بیٹھا ہو‘
30 مئی کو بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے سابق وزیرِ قانون اور سابق سینئر جج فخرالدین جی ابراہیم نے سپریم کورٹ کے اس تیرہ رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’جب صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت پر اعتراض اٹھایا جائے تو جواباً کہا جاتا ہے کہ جسے شوق ہو وہ انہیں عدم اعتماد کے ذریعے کرسیِ صدارت سے ہٹا دے۔ لیکن ایک ایسے شخص کو منصبِ صدارت سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے جو بندوق لے کر بیٹھا ہو‘

29 مئی کو چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا جس میں انہوں نے آرمی ہاؤس میں صدر جنرل مشرف سے ملاقات اور اس کے بعد پیش آنے واقعات کی تفصیلات بتائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ نو مارچ کو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہ مانا تو خفیہ ایجنیسوں کے سربراہ کئی گھنٹوں تک ان کو مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔’صدر مشرف نے کہا کہ اگر میں مستعفی ہو جاؤں تو مجھے اکوموڈیٹ کیا جائے گا ........ صدر مشرف نے کہا اگر میں نے استعفیٰ نہ دیا تو پھر مجھے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے مجھے زیادہ شرمندگی اٹھانا پڑے گی ........ جب میں نے استعفی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں بے گناہ ہوں اور ریفرنس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں توصدر مشرف غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے ......... جب خفیہ ادراوں کے سربراہ کمرے سے چلے جاتے تھے تو میں کمرے سے نکلنے کی کوشش کرتا لیکن ہر بار فوجی افسر روک لیتے تھے.......... مجھے میرے خاندان کے ہمراہ نو سے تیرہ مارچ تک حراست میں رکھا گیا اور جب میں تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلا تو گھر کے باہر پولیس اہلکاروں نے مجھے روکا اور میرے ساتھ بدسلوکی کی‘۔

30 مئی کو بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے سابق وزیرِ قانون اور سابق سینئر جج فخرالدین جی ابراہیم نے سپریم کورٹ کے اس تیرہ رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’جب صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت پر اعتراض اٹھایا جائے تو جواباً کہا جاتا ہے کہ جسے شوق ہو وہ انہیں عدم اعتماد کے ذریعے کرسیِ صدارت سے ہٹا دے۔ لیکن ایک ایسے شخص کو منصبِ صدارت سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے جو بندوق لے کر بیٹھا ہو‘۔ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے جب عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس اپنے آپ کو احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے اور ان کو صرف احتسابی فورم پر اعتراض ہے تو اس سے ان کی پریشانی ختم ہو گئی ہے۔

31 مئی کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ صدر سمیت تمام عہدیدار سپریم کورٹ کے سامنے جوبداہ ہیں۔

4 جون کو سینئر قانون دان اکرم شیخ نے سماعت کے دوران عدالت سے کہا کہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی اعلی ترین عدالت کے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر کی گئی ہے لہذا عدالت کو یہ بھی طے کرنا چاہیے کہ کیا ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پر ججوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

5 جون کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل سن سن کے تنگ آ چکے ہیں اور وکلاء کو چاہیئے کہ وہ اپنے دلائل جلد ختم کریں۔ وکلاء نے اسی انداز میں دلائل جاری رکھے تو اگلے چھ ماہ تک یہ مقدمہ ختم نہیں کر پائیں گے۔

’احتساب سے بالا تر نہیں‘
24 مئی کو اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ چیف جسٹس اپنے آپ کو ہرگز احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے اور ان کا اعتراض صرف احتساب کرنے والے فورم پر ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ موجودہ مقدمے کے فیصلے میں شاید مقننہ کو یہ سفارش کریں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کے روشنی میں نکالے جانے والے جج کو اپیل کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے

6جون کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اپنے اختتامی دلائل میں صدر پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے اصرار کیا کہ ان کے مؤکل نے ریفرنس وزیرِاعظم شوکت عزیز کے مشورے پر دائر کیا تھا اور صدر آئین کے تحت وزیراعظم کا مشورہ ماننے کا پابند ہے۔

7 جون کو چیف جسٹس کے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے بیان حلفی کے جواب میں حکومت نے جمعرات کو ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے سربراہوں سمیت کئی سرکاری اہلکاروں کے حلفیہ بیانات جمع کرائے جن میں اس بات کی تردید کی گئی کہ نو مارچ کو صدر نے چیف جسٹس کو ملاقات کے لیے بلایا تھا اور الزام لگایا گیا کہ چیف جسٹس سرکاری ملازمین کو اپنے دفتر میں طلب کر کے غیر قانونی کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔

11 جون کو تیرہ رکنی فل کورٹ نےوفاقی حکومت کی وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس اور ان سے متعلق دیگر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق حکومتی وکلاء کے دلائل ختم ہونے پر اعلان کیا کہ وہ چیف جسٹس کی درخواست کی باقاعدہ سماعت کرے گی۔ چیف جسٹس کی آئینی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے بارے میں سپریم کورٹ کی کارروائی انیس روز جاری رہی جس میں حکومت نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان درخواستوں کو سننے سے انکار کر دے۔

’دلائل سن سن کے تنگ آ چکے ہیں‘
5 جون کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل سن سن کے تنگ آ چکے ہیں اور وکلاء کو چاہیئے کہ وہ اپنے دلائل جلد ختم کریں۔ وکلاء نے اسی انداز میں دلائل جاری رکھے تو اگلے چھ مہینے تک یہ مقدمہ ختم نہیں کر پائیں گے

12 جون کو تیرہ رکنی بینچ نے ایک اخبار میں سپریم کورٹ کے مزید چار ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی خبر کی اشاعت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ صحافی کو عدالت میں طلب کر لیا جس نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

13 جون کو سماعت کےدوران اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس کو نو سے تیرہ مارچ تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور جب 10 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا نوٹس چیف جسٹس کے حوالے کیا گیا تو اس پر انہوں (چیف جسٹس) نے لکھا کہ ان کو وکلاء تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ سے اس بات کی تصدیق کرسکتی ہے۔ اس پر عدالت نے سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

14 جون کو اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ اسے چیف جسٹس کے خلاف حکومت کی کارروائی پر ویسا ہی ردِ عمل ظاہر کرنا چاہیے جیسا کہ جنرل پرویز مشرف کو فوج کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹائے جانے پر فوج نے کیا تھا۔

18 جون کو ماضی میں پاکستان کی عدالتوں نے زیادہ اچھے فیصلے نہیں کیے ہیں اور سپریم کورٹ کو ماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنی چاہیے۔

26 جون کو جسٹس خلیل رحمان رمدے نے سماعت کے موقع پر کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہی ملک کے تمام مسائل کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا:’مان لیا کہ ہم اتنے اچھے لوگ نہیں لیکن ہم ہی ملعون اور قابل طعنہ زنی نہیں۔‘

27 جون کو اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی فل کورٹ کو بتایا کہ چیف جسٹس نے عدالت کے لئے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ان کو بحال کردیا جاتا ہے تو وہ تمام تلخیاں بھلا کر عدلیہ کو متحد، متحرک اور مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔

مقدمے کا فیصلہ 20 جولائی تک
11 جولائی کو فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اعلان کیا کہ اس مقدمے کا فیصلہ بیس جولائی تک کر دیا جائے گا۔انہوں نے حکومتی وکلاء ملک قیوم، سید شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ اپنے دلائل اس انداز میں دیں کہ مقدمہ 20 جولائی سے پہلے ختم ہو جائے

28 جون کو حکومتی وکیل نے عدالت سے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتی تو پھر سپریم جوڈیشل کو از سر نو تشکیل دیا جائے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر حکومت کی پیشکش مان لی گئی تو صورت حال نو مارچ کی تاریخ پر واپس چلی جائے گی جب چیف جسٹس کے خلاف نہ تو ریفرنس دائر کیا گیا تھا اور نہ ہی چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکا گیا تھا۔

2 جولائی کو عدالت میں پیش کردہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ میں شامل بعض دستاویزات میں ججوں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس پر عدالت میں کشیدگی پھیل گئی اور عدالت نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کا لائسنس معطل کردیا اور وفاقی سیکریٹری قانون کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔ تاہم بعد میں عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کی درخواست کو مانتے ہوئے سرکاری حکومت کی جانب سے ایک لاکھ بطور ہرجانہ جمع کرانے کی صورت میں ریکارڈ واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔ عدالت نے یہ ایک لاکھ روپے سیلاب زدگان کے فنڈ میں جمع کرانے کا حکم جاری کیا۔

9 جولائی کو عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو ان کے ایک مبینہ بیان کی وضاحت کرنے کے لیے طلب کرلیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس مبینہ بیان کی وضاحت کریں کہ’اگر اس مقدمے کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا تو ہم عدالت کو جلا دیں گے۔‘ فل کورٹ کے سربراہ خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ عدالت ان حالات میں کام نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر یہ عدالت مقدمہ نہیں سنے گی اور وکلاء (کو چاہیئے) کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ عوام کی عدالت سے کروا لیں۔

11 جولائی کو فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اعلان کیا کہ اس مقدمے کا فیصلہ بیس جولائی تک کر دیا جائے گا۔انہوں نے حکومتی وکلاء ملک قیوم، سید شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ اپنے دلائل اس انداز میں دیں کہ مقدمہ 20 جولائی سے پہلے ختم ہو جائے۔

12 جولائی کو وفاقی حکومت کے وکیل نے فل کورٹ کو بتایا کہ حکومت کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ان ممبران کو تبدیل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جن پر چیف جسٹس نے متعصب ہونے کا الزام لگایا ہے۔

16 جولائی کو صدر کے وکیل نے فل کورٹ کو بتایا کہ وہ اپنے مؤکل کی ہدایت پر چیف جسٹس کے خلاف عدالتی بے ضابطگی سے متعلق الزامات واپس لے رہے ہیں جس میں کھلی عدالت میں سنائے گئے فیصلوں سے متضاد فیصلے تحریر کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔

’درمیانی راستہ‘
19 جولائی کو سماعت کے موقع پر اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی فل کورٹ سے کہا کہ وہ ’درمیانی راستہ‘ نکالنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ایک واضح فیصلہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو اگر بحال کیا جاتا ہے لیکن ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم نہیں کیا جاتا تو ملک میں عدم استحکام کی صورتحال جاری رہے گی۔

17 جولائی کو خلیل الرحمان رمدے نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے استفسار کیا کہ نو مارچ کو رات کے اندھیرے میں کس نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا جس میں چیف جسٹس کو سنے بغیر انہیں کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کے حلف لینے کے ایک گھنٹے کے بعد کونسل کے دو ممبران سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی میٹنگ میں شرکت کے لیے کراچی اور لاہور سے کیسے اسلام آباد پہنچ گئے۔

18 جولائی کو سماعت کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی کے بعض پہلوؤں پر ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں لیکن وہ ججوں سے بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب چیف جسٹس کےخلاف ایکشن لیا گیا تو ججوں نے کیا رد عمل ظاہر کیا تھا۔

19 جولائی کو سماعت کے موقع پر اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی فل کورٹ سے کہا کہ وہ ’درمیانی راستہ‘ نکالنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ایک واضح فیصلہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو اگر بحال کیا جاتا ہے لیکن ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم نہیں کیا جاتا تو ملک میں عدم استحکام کی صورتحال جاری رہے گی۔

20 جولائی کو عدالت نے آئینی درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس کی بحالی کا حکم جاری کیا۔

عارف قریشی

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......