چہرہ از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Mon, 06/08/2009 - 13:04

لفظ اثر دیتے ہیں، آواز اثررکھتی ہے اور چہرہ اثر قائم رکھتا ہے۔
کائناتِ حُسن کا عظیم شاہکار چہرہ ہے۔ ہر چہرہ اپنے اندر کئی داستانیں رکھتا ہے۔ زندگی کی کتاب میں تمام ابواب چہرہ ہی ہیں۔ ہر چہرہ دوسرے چہرہ سے منفرد بھی ہے اور جدا بھی۔
حسنِ کائنات یہ ہے کہ چہرہ کے تاثرات چہرہ بدل دیتا ہے۔چہرہ چہرہ کا رویہ بناتا بھی ہے اور بگاڑتا بھی۔ ظالم کا چہرہ، مظلوم کا چہرہ، محبوب کا چہرہ، شفیق کا چہرہ یہ چہرہ ہی ہے جو ہمارے ہر لمحہ کا حال بتا رہا ہے۔ چہرہ پل میں حال بدل دیتے ہیں، اندر کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ہر چہرہ نگاہ کرم کا منتظر
چہرہ شناسقلب شناس ہوسکتا ہے، قلب شناسروح شناس ہوسکتا ہے۔ قلب شناس حال شناس ہوسکتا ہے۔ حالِ کیفیت سے ہی کشف ِراز ہوتا ہے۔ مگر چہرہ فروشکبھی مزاج شناس نہیں ہوسکتا ۔
کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جو اپنے اصل چہرہ کونقاب کو میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، چند چہرے ایسے بھی ہیں جو اپنے آپکو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؛ چہرہ چھپانے سے چُھپ نہیں جاتا ۔ چہرہ شناس وُہ سب کچھ جان جاتا ہے جو کچھ چھپایا جا رہا ہو۔ چھپانے والے یہ سمجھتے ہیں، وُہ چھپانے میں کامیاب رہے مگر اُنکے چھپانے کا مسلسل عمل اُنکو نگاہ والوں کی نظر میں بُری طرح سے بے نقاب کرتا ہے۔
آج چہرے چہروں کا ساتھ نہیں دے رہے۔اکثرلوگوں کی زبان اور چہرہ اُنکا ساتھ نہیں دیتا،یہ تو اُلجھے ہوئے خوف کی علامت ہے۔
منافق کے بیک وقت دو چہرے ہوتے ہیں مگر مومن کا چہرہ ہر حال میں ایک ہی ہوتا ہے۔ جو وُہ اندر سے ہے وہی باہر سے، وفا کا چہرہ۔ وُہ نیک و بد کی تمیز سے باہر شیرکی طرح دلیر فطرت۔
چہرہ کئی چہروں کو دیکھتا ہے۔کچھ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور چندتو نگاہ کے اسیر ہو جاتے ہیں، کوئی چہرہ اُسکو فراموشی سے دیکھتا ہے، تو کوئی پھسر پھسر کے انداز میں سرگوشی کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ کسی کی سرگوشی ہم مزاجوں سے ہوتی ہے تو کسی کی اپنے آپ سے ۔اکثر کچھ لوگ جانتے ہوئے بھی چہروں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ چہروں کی نظر اندازی نفرت نہیں، ناظر کے خوف کی علامت ہے۔ ایسا چہرہ آپکے چہرہ کو بے چین رکھے گا؛ صورت سے،ملاقات سے، انداز سے، آواز سے،لفظوں سےچہرہ میں بے چینی’ خبررکھنے کے تجسس‘ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ خود پہ طاری کردہ ایسا خوف ہے جو حقیقت کو تسلیم نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ چہروں کو نظر انداز کرنے کی بجائے اُنکے مزاج کو درگزر فرمائیے۔
چہرے سجائے بھی جاتے ہیں توجہ حاصل کرنے کے لیئے، جب نظر انداز ہوجائے تو چہرے بنائے جاتے ہیں۔آج ایسا چہرہ اگر ignoreکر دیا جائے تو وُہ چہرہ قوت برداشت نہیں رکھتا۔وُہ تو frustrateہوجاتا ہے۔
دُنیا کی سب سے بڑی گویائی خاموشی ہے۔ چہرہ خاموش ہوتے ہوئے بھی قوت گویائی رکھتے ہیں؛ چہرہ کی گویائی۔ چہرہ کی زبان چہرہ کے تاثرات ہیں جو صرف چہرہ شناس ہی جان سکتا ہے۔
زندگی میں لفظ چہروں سے بنتے ہیں، چہرے الفاظ سے نہیں۔ یوں ہی انسان کی ذات کا بھی ایک چہرہ ہوتا ہے، پہچان کا چہرہ۔
گمنام چہرہ خدمت گزاررہتے ہیں، انجان چہرہ خوف رکھتا ہے،اَن دیکھے چہرے قابل یقین حالات ہوتے ہیں۔ سخی چہرہ وسعتِ خیال،مزاج ہوتا ہے، بخیل وحاسد چہرہ خطرہ ہی خطرہ آتشِ خیال، کنجوس چہرہ سوکھا ہوادریا، پریشان حال چہرہ مرجھایاہو ا درخت حالات کی حقیقت سے فرار قیدی، خوشحال چہرہ پُر اُمید، خوش مزاج چہرہ کامل بھروسہ، غرض والا چہرہ مسلسل تعداد کی گنتی میں مصروفِ عمل، بے غرض گنتی سے بیگانہ، بے لوث نتائج سے بے پرواہ، بیمار حالخیالات کی افسردگی، صحتمند چہرہ شکر الحمداللہ، صابر چہرہ عمل میں برداشت رکھتا ہے۔بھرپور ناکامیوں والا چہرہ اطمینان رکھتا ہے، تازہ ناکامیوں والا چہرہ افسردگی رکھتا ہے؛ ایسا حالات کو قبول کر لینے پر ہوتا ہے۔
کبھی مغرور چہرہ پر غور کیجئیے۔ مغرور چہرہ کی آنکھیں تکبر سے ماتھے پہ پہنچی محسوس ہوتی ہے۔ چہرہ بے رونق، افسردہ محسوس ہوگا۔ ایک بے بس صورت میں معصوم چہرہ دکھائی دے گا۔کبھی کبھی ایسے ’بے بس معصوم متکبر‘ چہرے حالات کی آسانی میں بندے مارتے ہیں۔
معصوم بچہ کے چہرہ کو دیکھ کر ایک عجب سا سکون ملتا ہے۔ آپ راہ چلتے کسی چھوٹے بچہ کو دیکھیئے اُسکے چہرہ پہ مسکان آپکے مزاج پر خوشی چھوڑ جاتی ہے۔ باپ جب گھر آتا ہے تو وُہ بچے کے چہرہ کی خوشی اور اٹھکیلیاں دیکھ کر اپنی تمام دِن بھر کی تھکان بھول جاتا ہے۔بچے کےلیئے ماں کا چہرہ نعمت سے کم نہیں۔
ارشاد رسولﷺ ہے: صبح اُٹھ کر والدین کے چہرہ کو دیکھنا ثواب ہے۔
دُنیا میں کچھ چہرے ایسے بھی ہے جن کو صرف ایک چہرہ پسند ہے اور وُہ چہرہ اُنکا اپنا چہرہ ہے۔ وُہ اپنے چہرہ کے سواءکوئی اور چہرہ برداشت نہیں کرسکتے۔ ایسے چہرے فنا ہوجایا کرتے ہیں۔ چہروں کی موجودگی میں ایسا چہرہ چہرہ نہیں رہتا۔
کچھ چہروں پر اللہ کی پھٹکار ہوتی ہے مگر اللہ اُن میںسے چند چہروں کے عیوب پر پردے بھی ڈالے رکھتا ہے۔ مرتبت کا پردہ ڈال کر، دُنیا کے نزدیک معزز کہلاتے ہیں مگر اُنکے کردار مقربین والے نہیں ہوتے ۔ یوں اللہ ایسے چہروں کی لاج رکھ کر اُن کو موقع دیتا ہے۔ غنیمت جاننے والے چہرے بدل جاتے ہیں۔
کئی چہرے دوسرے مکھڑا کو دیکھ کر حسرت کا شکار ہوتے ہیں ، بیشتر افرادحسرت میں رہتے ہیں۔ خدا نے ہر چہرہ کا حسن بڑے ہی حسنِ ترتیب و توازن سے قائم کر رکھا ہے بس یہی خوبصورتی ہے۔
چہرہ چہرہ کا آئینہ ہوتا ہے، عکس ہوتا ہے، وجود ہوتا ہے اور تاثیرکی حقیقت رکھتا ہے۔یونہی چند چہرے بڑے ہی بارعب ہوتے ہیں۔
چہرے بکتے بھی ہیں، بنتے بھی ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، بگڑتے بھی ہیں، کھلتے بھی ہیں، بنائے جاتے بھی ہیں، چہرے چہرے بھی بناتے ہیں، رنگ بناتے ہیں، مزاج بناتے ہیں، زندگی کے رستے بناتے ہیں اکثر اِک ہی چہرہ معاشرہ کی تشکیل میں قوم کو جان(قوتِ اخوت ِعوام) دے دیتا ہے، رہنما چہرہ۔
چہرہ چہروں کے ردعمل کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں، چہرے حالات کی ستم ظریفی کا شکار بھی ہوتے ہیں۔
زندگی کے طوفان ، آندھیوں اور حالات کی سختیاں چہرہ کی جھریوں میں نمایاں ہوتی ہے۔ حالات کی سختی آہستہ آہستہ انسان کے مزاج کو سخت بنا دیتی ہے۔ چہرہ پر جھریوں کی گہرائی کٹھن دور کی بیشمار کہانیاں لیئے ہوتی ہے۔ خشک پتھریلا علاقہ کے چہروں پر بہت جلد جھریوںکا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔ بلکہ پتھر سی سختیاں چہروں کو جھری دار بنا دیتی ہے۔
انسان عمر بھر چہروں کی تلاش میں رہا ہے۔ آج ہم چہروں کی تلاش سرگرداں ہےں مگر چہروں کی تاثیر سے محروم۔ انسان نے چہرہ کی تلاش میں ہی اصل چہرہ کو مسخ کرنا شروع کردیا ہے۔ کثیر الجہت نسلی چہروں میں رہتے ہوئے پہچان سے نابلدانسان، صرف چہرہ کی خوبصورتی تک محدود ہوگیا۔ آج کا انسان چہرہ کے حسن سے واقف نہیں رہا۔ حقیقی چہروں کی موجودگی میں خیالی چہرہ کا منتظر انسان معاشرہ میں تنہا ہورہا ہے۔ انسان معیار طے کر رہا ہے۔ حسن کاکوئی معیار نہیں۔ چہرہ تو خالق کائنات کی تخلیق ہے۔ خالق کی تخلیق مقابلہ ئِ حسن کا معیار نہیں۔ وُہ تو اپنے حُسن میں حسین ہے۔
چہرہ صرف انسانی صورت تک محدود نہیں۔ درخت، پھول، آسمان، چاند ، دریا غرض قدرت کی ہر شے اپنا ا ِک چہرہ رکھتی ہے۔ بارش کا قطرہ اِک چہرہ ہے، چاند کی چاندنی ہمارے چہروں کو،اندر کی کیفیات کو کس طرح بدلتی ہے۔ غور کیجیئے یہ دُنیا چہروں سے بھری پڑی ہے۔
اللہ نے ہر شے کا چہرہ بنایا ہے ہر نوع کے چہرہ میں گوناگونی نظر آئے گی۔ چوپائے مویشیوں میں ساخت کی قدر مشترک مگر پھر بھی ایک ہی نسل کے دو مویشیوں کی صورت مختلف۔
خط تحریر کا بھی اِک چہرہ ہوتا ہے؛ جو بڑا ہی نمایاں ہوتا ہے۔ جوانسان کا اندر کا چہرہ عیّاں کرتاہے۔
ایک چہرہ عمارت کا بھی ہوتا ہے، اگواڑہ۔ جو قوم کی تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کبھی مسلم عمارات کے چہروں پہ غور کیجئیے نگاہ، خیال اور دِل ٹھہر نہ پائے گے۔ یکدم خیالات کا سیلاب اُمڈ پڑے گا۔ خیال سے خیال ،توجہ بدلنے لگے گی۔ اپنے وجود کے احساس سے خیالات کے احساسات میں کھو جائیں گے۔ نگاہیں چکا چوند ہوجائیں گی مگر حقیقی حسن کی تاب نہ لاسکیں گی۔ حسین چہرے انسان کی سوچ کو خیال کے تصور سے یوں ہی بدل دیتے ہیں۔
آپ سڑک کے کنارے چلتے جائیے آپکو بیشمار چہرے ملیں گے۔ افسردہ چہرہ، مطمئن چہرہ، مایوس چہرہ، پُر اُمید چہرہ، پریشان حال چہرہ، آسودہ حال چہرہ، بدحال چہرہ، قناعتی چہرہ، لاپرواہ چہرہ فکرمند چہرہ ، نیک چہرہ، بد چہرہچہرے دیکھنا شروع کیجیئے، چہرے پڑھنا سیکھ جائیں گے۔ چہرہ شناسی کے لیئے کسی کتاب کی ضرورت نہیں، دِل کی آنکھ ہی اصل چہرہ شناس ہے۔ معاشرہ اُستاد ہے، ضمیر مشیر ہے۔
جب ہم پریشان ہوتے ہیں کچھ چہرے ہمارے سامنے آتے ہیں، ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں اُلجھنوں سے نجات دِلاتے ہیں۔ چند چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیں تصور میںآتے ہیں۔ یہ چہرہ دراصل ہمارا ’مافی ضمیر‘ ہوتے ہیں۔ جو ہم میں احساس انسانیت جگاتا ہے، اُبھارتا ہے۔بعض واُوقات ضمیر کی یہ آوازہمیں جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اکثر دِل کی یہ آواز سنگ دِل کو احساس والا بنا دیتی ہے۔
ہم اکثرجب تنہا ہوتے ہیں۔ ہماری نگاہوں کے سامنے بیشمار چہرے آتے ہیں۔ خواب میں چہرے، زندگی میں چہرےچہرے ہی چہرے۔ کبھی کبھی انسان پر ایک کیفیت سی طاری ہوجاتی ہے۔ اُسکو ہر حال اِک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ ہر چہرہ ایک سا ہوتا ہے۔ اِس کیفیت میں انسان کو دُنیا سے بیزاری سی معلوم ہوتی ہے۔ بس وُہ ایک خاص چہرہ کے تصور میں کچھ عرصہ موجود ہوتا ہے۔ چہروںمیںایک کیفیت اور بھی ہوتی ہے۔ چہروں پہ کیفیت نہیں بلکہ چہرہ کیفیت میں موجود ہوتاہے۔یہ حال وہی جان سکتا ہے جو عشق رسول ﷺ سے محبت کے جذبہ کے تصور میں موجود ہو تو وُہ چہرہ تصور میں نہیں۔بلکہ تصور چہرہ میں ہے۔
وسواس(وسوسہ کی جمع) میں انسان کو اکثراِک چہرہ میں کئی چہرے نظر آنے لگتے ہیں۔ نہ سمجھ آنے والے چہرے۔ مایوس ناقابل حالات کے بعد ناقابل اعتماد چہرے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ قابل اعتماد کا ناقابل بھروسہ ہوجانا۔ ہماری یادداشت میں چہروں کی افراط بڑھاتا ہے۔ اُنہی بیشمار چہروں میں سے ایک مخلص چہرہ پر ہم اعتماد کرتے ہیں۔ یہ مخلص چہرہ اندھا اعتماد نہ صرف قائم رکھتا ہے بلکہ ہمارے چہروں کو حقیقی نگاہ عطاءبھی فرماتے ہیں۔ یہ چہرے اکثر ہمارے والدین اور محبوب افراد ہوتے ہیں۔
چند لوگوں کی بیمار زندگی کے آخری ایام چہروں کی یاد سے بھرپور ہوتے ہیں۔ حالت بیماری میں بیشمار چہرے اُنکی نگاہوں اور یادداشتوں میں repeat ہورہے ہوتے ہیں۔ ذہن میں کسی فلم کی ریکارڈنگ چل رہی ہوتی ہے۔ اُس دوران بیش بہاءانجان چہروں کے نام بھی زبان سے نکلتے ہیں۔ یونہی کبھی کبھی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کچھ چہرے بیتے واقعات کو تازہ کر چھوڑتے ہیں۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی کا نام یاد آجا تا ہے۔ نام سے چہرہ اور چہرہ سے ملنے کی تڑپ دِل میں جاگ جاتی ہے۔ مگر کبھی ہمیں ملاقات کے لیئے کوئی وسیلہ مل بھی جاتا ہے اور اکثر ہم محروم بھی رہتے ہیں۔
چہروں میں کچھ چہرے غائبانہ چہرے بھی ہوتے ہیں۔ غائبانہ تعلق برقرار رہتے ہیں۔ مگر زندگی بھر ملنے کی تمنا بےقرار ہوتی ہے۔ غائبانہ چہروں سے تعلق محبت کا تعلق ہوتا ہے۔غائبانہ چہروں کی محبت حلیّہ بیان کردیتی ہے ۔ محبت انسان کو گمنام چہرے دِکھا دیتی ہے۔
چہرہ کی محبت فراق سے ہے۔محبوب چہرہ کا رخصت ہو جانا انسان کو مسافر بنا دیتا ہے۔ موت کا منتظر مسافر۔
ہماری زندگی میں کچھ چہرے لمحہ بھر کے لیئے وارد ہوتے ہیں اور سب کچھ بدل جانے کا سبب بن جاتے ہیں۔ منزل کی راہ ہی بدل جاتی ہے۔ اکثر اِک چہرہ کی جدائی میں کوئی دوسرا چہرہ اور پھر کئی چہرے یوں چہرہ بدلتے بدلتے اصل منزل کا اصل راہ حاصل ہوجاتا ہے۔
محبوب کا چہرہ ہماری پیاس کی تشنگی دور کرتا ہے۔ بس دیدار ہی ہمارے دِل میں موجود بیشمار سوالوں کا جواب دے دیتا ہے۔ ہم پریشان ہوتے ہیں، اُلجھے ہوئے ہوتے ہیں تو جس سے محبت کرتے ہیں۔ اُسکی صحبت ہمیں آسودہ حال کر دیتی ہے۔ زندگی کے کٹھن مراحل میں کوئی نہ کوئی چہرہ اللہ کی وساطت سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ انسان کو ٹوٹنے سے پہلے کوئی نہ کوئی سہارا عطاءکر دیتا ہے۔
چہرہ چہرہ سے محبت کرتا ہے۔ یہ محبت اپنے اندر ایسی تازگی رکھتی ہے۔ جیسے پھول کا کِھل جانا، خوشبو کا مہک جانا، فضا کا خوبصورت ہوجانا۔ کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر ماتھے پر شِکن پڑ جاتے ہیں، آنکھوں کی ہیت بدل جاتی ہے۔ چہرہ دیکھتے ہی دِل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ جیسا چہرہ ہوتا ہے ویسی ہی کیفیت ہو جاتی ہے۔
کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جن کو ہم جانتے نہیں مگر اُنکی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ گمنام چہرے گمنام نام کے گمنام چہرے ،نامور نام کے گمنام چہرے۔ جب اِن چہروں سے کبھی ملاقات ہوجائے تو کبھی کبھی دِل کی تسکین ہوتی ہے۔ کہنے کو الفاظ نہیں ہوتے۔کچھ چہروں سے شناسائی محبت میں بیزارگی واقع کرتی ہے تو کچھ میں بے چینی۔ مگر اِن چہروں میں ایک چہرہ ایسا بھی ہے جو انسان میں محبت کی تڑپ کو بڑھا دیتا ہے وُہ چہرہ رسول پاک ﷺ کا ہی ہے۔ تمام چہروں میں نمایاں چہرہ منفرد چہرہ، پُر تاثیر چہرہ رسول پاک ﷺ کا چہرہ مبارک ﷺ ہے۔ خوش نصیب ہی نہیں بانصیب بھی ہیں وُہ انسان جن کو حضرت محمدﷺ کے چہرہ مبارک کی زیارت نصیب ہوئی۔
کچھ چہرے چاند نما ہوتے ہیں تو کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وُہ نور ہوتے ہیں اللہ کے برگزیدہ بندے وہستیاں۔ ایک چہرہ ایسا بھی ہے نورالنور،رسول پاک ﷺ کا چہرہ اقدس مبارک۔
(فرخ نور)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......