چھ درہم ميں دو چانٹے [حکایات رومی کی ایک اور داستان]۔

Submitted by kurdupk on Sat, 09/05/2009 - 13:23

ايک شخص مدتوں کا بيمار زندگي سے لاچار و بيزار طبيب کے پاس گيا اور کہنے لگا جناب مجهے کوﺋي دوا ديں تاکه صحت پاٶں اور آپ کي جان و مال کو دعاﺋيں دوں۔ طبيب نے نبض پر انگلياں رکهيں اور سمجہ گيا کہ اس کے بدن سے جان نکل چکي ہے اب محض چلتي پهرتي لاش ہے۔ صحت کي اميد زره برابر نہيں۔ دوا دارو کر کے مفت ميں اس غريب کو اور ہلکان کرنا ہے لہٰذا اس نے کہا مياں تم يہ سب دوا دارو ايک قلم موقوف کرو انہي کي وجہ سے تمهاري صحت برباد ہورهي ہے۔ جو تمہارے جي ميں آۓ وه کرو۔ ہرگز ہرگز اپني خواہش کو مت کچلو۔ آہسته آہسته تمام بيمارياں جاتي رہيں گي۔ طبيب کي يہ بات سن کر مريض نے کہا اللہ آپ کو سلامت رکهے کيا خوب مشوره عطا هوا ہے۔ آج سے اس مشورے پر دل و جان سے عمل کروں گا۔ طبيب کے مطب سے نکل کر مريض ٹہلتا ٹہلتا ايک نہر کے کنارے جانکلا وہاں ايک صوفي بيٹها منہ دهو رہا تها اس نے اس روز سر پر تازه تازه استرا پهروايا تها۔ دهوپ ميں چنديا خوب چمک رہي تهي۔ مريض کي ہتهيلي کهجلاﺋى اور بے اختيار جي چاها کہ صوفي کي چاند پر ايک زور دار چپت مارے۔ دل ميں کہا اس وقت مجهے اپني اس خواہش کو دبانا نہ چاهيے۔ ورنه مجهے صحت نہ ہوگي۔ اور طبيب کي بهي يہي ہدايت ہے کہ جو جي ميں آۓ وه کرو۔

يہ خيال آتے ہي بے تکلفي سے آگے بڑها اور تڑاخ سے ايک زناٹے دار تهپڑ صوفي کي کهوپڑي پر رسيد کي۔ اس غريب کا دماغ بهنا گيا۔ تڑپ کر اٹها اور اراده کيا که چانٹا مارنے والے کے دو تين گهونسے اس زور سے لگاۓ کہ سب کهايا پيا بهول جاۓ۔ ليکن نظر جو اٹهاﺋي تو سامنے ايک نحيف و نزار شخص کو پايا جس کي ايک ايک پسلي نماياں تهي۔ صوفي نے ہاته روک کر جي ميں کہا اگر ميں اس کے ايک گهونسا بهي ماروں تو يہ اسي وقت ملک عدم کا رسته لے گا۔ مرض الموت نے تو اس بے چارے کا پہلے ہي کام تمام کررکها هے۔ مرتے کو کيا ماروں۔ لوگ سارا الزام مجہ پر ديں گے۔ ليکن اسے يوں چهوڑ دينا بهي ٹهيک نه ہوگا۔ نہ جانے کس کس کو چپت مارتا پهرے گا۔ غرض اس بيمار کا بازو پکڑا اور کهينچتا هوا قاضي شہر کي عدالت ميں لے گيا۔ دہاﺋي دي کہ حضور اس بدنصيب شخص کو گدهے کي سواري کراﺋي جاۓ يا دروں کي سزا هو۔ اس نے بلا وجہ مجهے چانٹا مارا ہے۔

قاضي نے کہا کيا بکتا ہے؟ يہ سزا آخر اسے کيوں دي جاۓ تيرا يہ دعويٰ تو ابهي ثابت ہي نہيں ہوا۔ پهر يه تو ديکه کہ شروع کے احکام زندوں اور سرکشوں کے ليے ہيں مردوں اور بے کسوں کے ليے نہيں۔ اس شخص کو گدهے پر بٹهانے سے کيا حاصل ارے کبهي سوکهي خشک چوب کو بهي کسي نے گدهے پر سوار کيا هے۔ ہاں لکڑي کا تابوت اس کي سواري کے ليے بہترين چيز ہے۔ قاضي کي يه بات سن کر صوفي کو جلال آيا۔ تڑخ کر بولا واه صاحب واه يه عجب منطق ہے۔ يہ شخص مجهے چپت بهي مارے اور اس بے هوده حرکت کي کوﺋي سزا بهي نہ پاۓ۔ کيا آپ کي شريعت ميں يہ جاﺋز ہے کہ هر راستہ ناپتا بازاري لفنگا ہم جيسے صوفيوں کو خواهي نخواهي چپتياتا پهرے۔ اور کوﺋي اس کا هاته پکڑنے والا نہ ہو؟ قاضي نے نرمي سے کہا تيري يہ بات درست ہے۔ ايسے شخص کو ضرور سزا ملني چاهيے ليکن يہ تو ديکه کہ وه بے چاره زندگي کے آخري دن پورے کررها ہے۔ خون کا ايک قطره اس کے بدن ميں نہيں ہے۔ بجاۓ سزا کے يه تو همدردي اور رحم کے لاﺋق ہے۔ اچها يہ بتا کہ اس وقت تيري جيب ميں کتنے درهم ہيں۔ صوفي نے جيب ٹٹول کر جواب ديا کہ کوﺋي چه ساته هوں گے۔

قاضي کہنے لگا کہ ايسا کر کہ تين درہم ان ميں سے اسے دے دے يہ بے حد کمزور بيمار اور مسکين غريب ہے۔ تين درہم کي روٹي کها کر تجهے دعاﺋيں دے گا۔ يہ سن کر صوفي بہت آتش زيرپا ہوا اور قاضي سے تلخ کلامي کرنے لگا کہ سبحان اللہ اچها انصاف فرمايا ہے۔ چپت بهي ہم کهاﺋيں اور چپت مارنے والے کو تين درہم بهي ہم اپني جيب سے ادا کريں۔ يه کے نفلوں کا ثواب ہے۔ غرض قاضي اور صوفي ميں تکرار هونے لگي۔ ادهر اس بيمار کي عجب کيفيت تهي جب سے قاضي کا شہر کا گهٹا ہوا سر ديکها تها۔ اس وقت سے هاته ميں چُل هورہي تهي۔ اس کي چاند صوفي کي چاند سے بهي زياده چکني اور صاف تهي۔ آخر دل کي بات مانني پڑي ايک ضروري بات قاضي کے کان ميں کہنے کے بہانے سے مسند کے نزديک آيا اور اس زور سے قاضي کي چنديا پر چپت رسيد کي کہ اس کا منہ پهر گيا۔ پهر بولا وه چه درهم تم دونوں آپس ميں بانٹ لو اور مجهے اس مخمصے سے رہاﺋي دلاٶ۔ يه کہ کر وهاں سے چلا گيا۔ قاضي مارے غصے سے ديوانہ ہوگيا۔ چاها کہ اس کو پکڑ کر غلاموں سے درے لگواۓ که صوفي چلايا ہاﺋيں ہاﺋيں يہ کيا غضب کرتے ہو جي حضرت آپ کا حکم تو عين انصاف ہے اس ميں شک و شبہ کي کہاں گنجاﺋش ہے۔ جو بات آپ اپنے ليے پسند نہيں فرماتے وہي ميرے حق ميں کيسے پسند فرما رہے ہيں۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......