پیکچر ابھی باقی ھے میرے دوست

siaksa's picture

میثاق جمھوریت کے تحت ﴿پھلے تڈای باری پھر ساڈی باری فارمولے ﴾ کے مطابق پاکستانی سیاست میں جو سیاسی میچ کھیلا جارھا ھے ۔ اس میں زداری صاحب کا کردار گلی محلے کے اس شرارتی بچے کا ھے جو بیٹینگ پچ پر کھڑے ھونے کے بعد بلا چھوڑنے کا نام نھیں لیتا ۔ اس بات کا ادراک شای،د اپنی باری کے انتظار میں کھڑے شریف بچوں کو بھی ھوگیا ھے کہ شرارتی بچہ ﴿زرداری﴾ اتنی آسانی سے انکوباری نھیں دے گا۔ ایک انڈین فلم میں شاھ رخ خان نے خوب کھا ھے کہ پیکچر ابھی باقی ھے میرے دوست ۔ جناب شریف بردران جھاں اتنا صبر کیا ھے تھوڑا اور کرلو۔ آپ لوگوں کی بھی باری لگنی ھے پھر ایک طرف آپ لوگوں نے ھونا اور بدبودار سیاست کا یہ باب چلتا رھنا ھے۔ جھاں اقتدار کے منصب پر ایک دودھ کا دھلا بن جاتا اور دوسرا کرپشن اور ظلم کا سائن بورڈ بن کر جگلمگتا ھے۔ آپ لوگوں کی باریوں نے ملک کو تباھ برباد کردیا ھے شائد یہ پاکستان کی بدقسمتی ھے ھم اپنے رب کی رضا میں صابر و شاکر ھیں کہ کبھی تو کسی اایسے انسان کی بھی باری لگے گی جو صرف صرف پاکستان کو سوچے گا اس کو قائد اعظم کا پاکستان بناے گا۔ ھم بھی صبر کرھے ھیں تو آپ بھی صبر کا مشورہ ھی دے سکتے ھیں۔ صبر کا پھل سنا ھے میھٹا ھوتا ھے پر انتظار کی سولی بھی بڑی صبر آزما ھوتی ھے۔ کہ انسان اپنا سار ا وقار بھول جاتا ھے۔ شھباز شریف صاحب ایک نھایت فرض شناش اور محنتی وزیر اعلی ماننے جاتے ھیں۔ جنکی محنت اور صوبے کے لیے کچھ کردکھانے کی خواھش کا پنجاب اور ملک کے دیگر افراد دل سے قدر کرتے ھیں۔ اللہ انکو مزید ھمت دے کہ پنجاب کے لوگوں کی داد رسی کرسکیں۔ انسان کو جوش میں ھوش نھیں کھونا چاھیے۔ کل کو جب انکی باری اے تو دوسرا بھی ھوش کا مظاھرہ کرے۔ زرداری صاحب ذاتی طور پر جو بھی ھیں یا انکا جو کردار ماضی میں رھا ھو اس بات سے قطعہ نظر پاکستان کے ائین نے جو عزت صدر پاکستان کو عطا کی ھے اس آئین میں عمل کرنا ھر پاکستانی کا فرض ھے۔اور جب وہ پاکستانی وزیر اعلی کے منصب پر فائز ھو تو اس پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ھوتی ھے۔ نہ ھمیں نہ زرداری سے پیار ھے۔ بلکہ محبت اس عھدے سے ھے جس کو صدر پاکستان کھا جاتا۔ یہ عھدھ ھمارے ملک کا سب سے بڑا عھدھ ھے۔ اب وہ بھلے سے کسی کو بھی مل گیا۔ ھمیں اپنے ملک کے سب سے بڑے عھدے کی ھی عزت کا پاس کرنا ھے ناکہ اس کو دنیا میں رسواہ کرنا۔ خاص طور پر سیاست دانوں کو اس کو خیال رکھنا چاھیے کیونکہ آج کے سیاسی اداکار کل جب سیاسی مداری بنے گے تو سیاسی انتقام سلسلہ نہ چلتا رھے۔

Share this
Your rating: None Average: 1 (1 vote)