پھنس گئی جان شکنجے اندر

Atif Aliem's picture

پھنس گئی جان شکنجے اندر
عاطف علیم

محبتیں، دعائیں اور مایوسیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔

خود کش حملوں کی گرم بازاری میں اور اس سے بھی بڑھ کر بے نظیر کی شہادت کے بعد ہمارے اعصاب بے حس ہوتے جارہے ہیں۔اب سٹیٹ بینک بھلے اپنے تئیں اقتصادی صورتحال کے بارے میں کیسی ہی وحشتناک رپورٹیں پیش کرے،ماہرین معاشیات بھلے خطرے کے گھڑیال بجاتے رہیںاور سٹاک ایکسچینجوں میں بھلے روزانہ اربوں کھربوں روپے ڈوبتے رہیں۔ہم تباہیوں کے عادی ایک بے بس تماشائی کی طرح سب کچھ دیکھنے جاننے اور سمجھنے پر مجبور ہیں۔ان میں سے کچھ بھی ہمارا دل دہلانے کو اب کافی نہیں رہا۔

ہمارے مہربان حکمران اور ہمارے کامیاب منصوبہ ساز ہمیں دھکیل کر پتھر کے زمانے میں لے جانے میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ان کی ملک سے کمٹمنٹ اور عوام سے دوستی اس سے عیاں ہے کہ ہمارے ارد گرد اندھیرے ہیں اور ہمارے چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں اور ان کے ماتھے پر عرق انفعال کاشائبہ تک نہیں ہے۔اکیسویں صدی میں بجلی کے بغیر زندگی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا لیکن ہم ہاتھوں میں لالٹینیں اور موم بتیاں پکڑے ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔کیا بوالعجبی ہے کہ ہمارے گودام گندم سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ہمارے نصیب میں آٹا نہیں ہے۔ہمارے ذخائر قدرتی گیس سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ہمارے گھروں میں یخ بستہ حسرت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ہمارا نظام عدل اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن ہمارے لئے انصاف کی ایک رمق تک نہیں ہے۔ہماری معیشت ہچکیاں لے رہی ہے ، صنعتیں بند ہورہی ہیں،،ہماری سٹاک ایکسچینجوں سے سرمایہ غائب ہورہا ہے اور ہمارا روزگار ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے لیکن یہ بدترین صورتحال بھی ہمارے دلوں کو دہلانے کیلئے کافی نہیں ہے کہ یہ ہمارے ساتھ پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔ہم پہلے بھی کئی بار اپنے حکمرانوں کی فیاضیوں سے لطف اندوز ہوچکے ہیں۔

تمام تر مایوسیوں کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ اگر اب بھی ہمارے ہاں جمہوریت کا چلن ہوجائے تو رفتہ رفتہ سہی سب کچھ درست ہوسکتا ہے۔یہ تو ہوا دو اور دو چار والا معاملہ لیکن سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے چہرے سے گھونگھٹ اٹھاتے اٹھاتے جانے ہمیں اور کتنے خون کے دریا پار کرنا پڑیں گے؟۔ابھی جام اور ہونٹوں کے درمیان بہت سے مراحل باقی ہیں اور ابھی ہمارے اور اٹھارہ فروری کے درمیان بہت سی صدیاں حائل ہیں۔سو سوال یہ ہے کہ کیا کبھی یہاں جمہوریت کا چلن ممکن ہوپائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو ہمارے دلوں کو دہلائے دے رہا ہے۔

گذرے دسمبر کی ستائیس تاریخ تک معاملات سیدھے سبھاؤ چل رہے تھے۔بے نظیر اور نواز شریف کے درمیان بڑھتی ہوئی انڈر سٹینڈنگ کے باعث ایک مضبوط پارلیمنٹ کے امکانات ہویدا ہورہے تھے۔خیال تھا کہ اس انڈر سٹینڈنگ کے نتیجے میں ایک مخصوص تہہ بازاری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ہر کوئی اپنی اپنی حدود میں سمٹنے پر مجبور ہوگا۔قومی اداروں کو تہہ تیغ کرنے کا مکروہ عمل رک جائے گا اور قوم ایک ہیجانی حالت سے نکل کر ترقی کے دھارے میں شامل ہوجائے گی۔شاید یہی وہ وجہ تھی جو بے نظیر کی شہادت کا سبب بنی۔اگر پرانے منصوبوں کے مطابق آٹھ جنوری کے انتخابات کے نتیجے میں ایک ٹوٹی بکھری ، کمزوراور جھگڑالو پارلیمنٹ کا وجود عمل میں آنا ممکن رہتا تو شاید ستائیس دسمبر کے ڈوبتے سورج کوبے گناہ لہو سے لتھیڑنا ضروری نہ ٹھہرتا۔شاید وفاق کی جڑوں پر کلہاڑا چلانا آئندہ کسی ’’موزوں‘‘ وقت پر موقوف کردیا جاتا۔لیکن جن وجوہات کی بنا پر قوم کو مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد دوسرے عظیم ترین صدمے سے دوچار کیا گیا ۔انہیں بے نظیر کے بے گناہ خون کی تابناکی نے مزید اجاگر کردیا ہے۔اگر آٹھ جنوری کے انتخابی نتائج واضح تھے تو اٹھارہ فروری کے نتائج واضح تر ہیں۔بے نظیر کی شہادت پر نواز شریف کی آنکھ سے بہتے آنسوؤں اور آصف زرداری کے ’’ پاکستان کھبے‘‘ کے واشگاف نعرے نے ایک خوش کن منظر نامے میں امید کے رنگ بھر دئیے ہیں۔سندھ اور پنجاب کی نمائندہ قوتوں نے باہم ایکا کرکے چاروں صوبوں کی زنجیر کو ٹوٹنے سے بچا لیا ہے اور زخم رسیدہ قوم کو امید کا ایک نیا سندیس بھیج دیا ہے۔قوم کی نمائندہ سیاسی قوتوں نے اپنے عمل سے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ صرف وہی پاکستان کی بقاء کی ضامن ہیں اور انہی کے وسیلے سے حقیقی تبدیلی کا عمل ممکن ہوسکتا ہے۔اب دیوار پر لکھی تحریر پہلے سے زیادہ روشن اور جلی ہوچکی ہے اور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ یہ طے ہوچکا ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج ایک ایسی پارلیمنٹ کی تشکیل پر منتج ہوں گے جس میں سیاسی آلائش کم سے کم ہوگی اور جو مضبوط ہی نہیں ہو گی بلکہ اپنے وقار اور خود مختاری پر بھی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔سو جب یہ تحریر لکھی جاچکی ہے اور یہ طے پاچکا ہے توکوئی اٹھارہ فروری کے سورج کو طلوع ہونے کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے؟ اور اگر کسی نے آمدہ خطرات کو ٹالنے کیلئے ایسا کچھ کرنے کا سوچ رکھا ہے تو بے پناہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کی صورت میں ایسا ہونا کیونکر ممکن ہوسکے گا؟صوررت یوں ہے کہ اٹھارہ فروری کسی کو وارا نہیں کھا سکتی لیکن اسے ٹالنا بھی ممکن نہیں ہے ۔دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنس چکی ہیں اور ایک ایسی گرہ پڑچکی ہے جسے دانتوں سے بھی کھولنا مشکل ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد فطری طور پر پیپلز پارٹی کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہا اور دوسری بات یہ کہ اس بات پر عوام کی ایک غالب اکثریت کا اتفاق رائے ہوچکا ہے کہ فی الوقت مسائل کے حل کی واحد دانشمندانہ صورت یہ ہے کہ اگلے پانچ سال کیلئے ، جی ہاں پورے پانچ سال کیلئے پیپلز پارٹی کے حق اقتدار کو تسلیم کرلیا جائے اور نواز شریف کو قائد حزب اختلاف کے طور پرپارلیمنٹ میں موثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کردیا جائے۔یہ دونوں قوتیں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ٹھہریں یا کامیاب، ہر دو صورتوں میں صبر اور ضبط کے ساتھ پانچ سال بعد ہونے والے عام انتخابات کا انتظار کیا جائے ۔یہ تو ہوئی عقلی بات لیکن سوال وہی ہے کہ اگر مستقبل کا یہی منظر نامہ تشکیل پانا ہے تو جس کسی نے بھی شہید بے نظیر کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں اسے ایسا کرکے بھلے کتنے نفلوں کا ثواب ملا؟ ۔وہ کیوں چاہے گا کہ بات پاور شیئرنگ سے آگے بڑھ کر پاور ٹرانسفر تک چلی جائے؟۔وہ یہ خطرہ کیوں مول لے گا کہ پرانے بہی کھاتے ایک ایک کرکے کھلنے لگیں؟۔پچھلے ساٹھ سالوں کا کیا دھرا سب کے سامنے آجائے؟۔لیکن یہ بات بھی ہے کہ کیا وہ ہونی کو ان ہونی میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے؟حالات کا یہی الجھاؤ ہے جو ہمارے دلوں کو دہلائے دے رہا ہے۔

جمہوریت کی گاڑی چل پڑے توبجلی اور گیس کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔تھوڑی سی دانشمندی سے آٹے کی فراہمی دوبارہ ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ہم اپنی ساری کمیوں اور کوتاہیوں پر قابو پاسکتے ہیں ۔سو ان بحرانوں پر ہم پریشان تو ہیں خوف زدہ نہیں ہیں۔ہمارے دل اگر دہلے ہوئے ہیں تو اس خوف سے کہ اگر وقت کے تقاضوں اور عوام کی خواہشات کا احترام نہ کیا گیا تو کیا ہوگا؟اس صورت میں ہم چاروں صوبوں کی زنجیر کی تمام کڑیوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے میں کس طرح کامیاب ہوپائیں گے؟۔

Phass Gai Jaan Shakanjay Andar by Atif Aliem

Share this
Your rating: None Average: 5 (1 vote)