پاگل خانہ

Submitted by Adnan sheikh on Mon, 01/05/2009 - 20:10

آواز
﴿پاگل خانہ﴾
بیٹا میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں نہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس لیے میرا بڑا بیٹا مجھے یہاں چوڑ گیا ہے۔پاگل خانے کا visit کے دوران ایک بزرگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نیں بتایا ان کہ ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں سب بچوں کی شادی ہو چکی ہے ۔وہ کسی فیکٹری میں کام کرتے تھے پھر بڑھاپے کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے اور کام چھوڑ دیا ۔کمزوری کی وجہ سے بہت بیمار رہنے لگے ان کا کہنا ہے کہ بیٹوں کی شادی کے بعد بیٹے انہیں بوجھ سمجھنا شروع ہو گئے ۔اور ایک دن ان کا بڑا بیٹا ڈاکٹر سے ددائی دلوانے کہ بہانے یہاں لے آیا ۔یہ کہ کر کہ آپ ڈاکٹر صاحب کہ پاس کچھ دیر بیٹھیں میں ابھی آتا ہوں ۔سات ماہ ہو گئے ابھی تک واپس نہیں آیا۔
اس طرح کہ بیشمار مظلوم افراد آپ کو ان پاگل خانوں میں ملیں گے جو شائد پاگل نہیں ہیں لیکن انہیں اس بے رحم معاشرے نے پاگل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ ’’والدین کو اف تک مت کہو ‘‘
ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ ’’والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے بیش آئو ‘‘
ایک اور جگہ فرمایا ’’ اور آپ کے رب نیں فیصلہ کر دیا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرواور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘‘
والدین کا اتنا درجہ ہے کہ ان کے دوستوں تک سے حسنِ سلوک اور احترام کا حکم دیا گیا ہے۔نبی ö نیں فرمایا کی’’ سب سے زیادہ نیک سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرے۔
کسی عاقل ،بالغ اور باشعور آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے والدین کہ ساتھ اس قسم کا نازیبہ سلوک کرے۔ان والدین کے ساتھ جنہوں نیں ہمیں جنم دیا ہماری پرورش کی ہمارے لیے زندگی کی سہولیات فراہم کیں خود تکالیف برداشت کر کہ ہمارے لیے آسائیشیں پیدا کیں ۔
ہمیں پہچان دی ۔ذرا سوچئے جس بندے کی کوئی پہچان نہ ہو جسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس کا والد کون ہے کیا بیتتی ہے اس بندے پار یہ تو خدا بتا سکتا ہے یا وہ بندہ جس پر گزرتی ہے والدین کے نہ ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے یہ اس سے پوچھئے جس کے والدین بچپن میں ہی اسے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔اور ہم انسانیت کے ٹھیکے دار جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں جب انھیں ہمارے سہارے کی سخت ضرورت ہوتی ہے تو ان کے ساتھ یہ بدسلوکی کہ انہیں پاگل قرار دے کر پاگل خانوں میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔حرص ،لا لچ او ر طمع کی کالی پٹی آنکھوں پر باندھے یہ ظلم ڈھاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک دن وہ بھی بوڑھے ہونے والے ہیں ۔کتنی ستم ظریفی ہے کہ ان محسنوں کو ہم پاگل قرار دیتے ہیں۔
لیکن کوئی بات نہیںوہ دوبارہ بولے میری زندگی ہی کتنی رہ گئی ہے ۔اور بھر ٹھیک ہی تو ہے وہ اپنی اپنی زندگی جی رہے ہیں میری دیکھ بھال کہاں کرتے میں بوجھ ہی تو تھا ان پر۔ بیٹا ملکی حالات ٹھیک نہیں اس منہگائی کہ دور میں ایک بیکار آدمی کا بوجھ کس کے پاس اتنا وقت ہے اور اتنا پیسہ جو برداشت کر سکے۔
وہ کہتے جا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا میں ایک پاگل سے بات کر رہا ہوں ۔ ؟
اتنے میں کسی دوسرے شخص نے ان سے میرے بارے پوچھا کہ بابا کون ہے کس سے باتیں کرر ہے ہو ۔
بابا بولے ’’ ہمارے ہمسائے ہیں وہ جو سامنے لال دیوارہے نا اس کے پار والے پاگل خانے سے آئے ہیں‘‘
بابا کی وہ بات آج تک سوچ رہا ہوں’’ کیا واقعی ہم دیوار کہ اس پار والے پاگل ہیں ؟ ‘‘
ADNAN SHEIKH
0321-4655154

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......