پاکستان میں تباہیوں کا نہ ختم ہونےوالا سلسلہ

Submitted by atifsaeed on Wed, 11/24/2010 - 15:11

پاکستان میں تباہیوں کا نہ ختم ہونےوالا سلسلہ
کالم نگار: عاطف چودھری
کالم کا نام: حیاتِ جاوداں
ای میل: [email protected]
قارئےن! پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک نہ ختم ہونیوالہ تباہیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس میںسب سے پہلے دہشتگردی، پھر خود کش حملے اور پھر اس سال میں جو سب سے زیادہ تباہی پھیلی وہ ہے سیلاب کی وجہ سے پھیلی ہے۔ ےہاں پر آکر تباہیوںکا سلسلہ ختم نہےں ہوا ہے اور اب پچھلے پندرہ دنوں کے درمیان پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں میں زلزلہ کے شدید قسم کے جھٹکے محسوس کےے گئے ہےں،جس کی وجہ سے وقتی طور پر پاکستانی عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مگر ان زلزلوںکیوجہ سے ابھی تک کوئی تباہی نہ ہوئی ہے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاکستان اپنے بندوں پر رحم و کرم فرمائے۔
قارئےن کرام! غور طلب بات ےہ ہے کہ ےہ زلزلے،سیلاب اور دیگر تباہ کاریاں ہوئی کیوں ہےں؟دہشتگردی پھیلی کیسے ہے؟ سیلاب کیوںآیا؟اور زلزلے کے شدید جھٹکوںکا نہ ختم ہونےوالا سلسلہ کیوں شروع ہو گیا ہے؟
گزشتہ روز ایک ایک انگریز سائنسدان نے نجی ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے چند الفاظ کہے وہ کہتے ہےں ( ےہ زلزلے اور سیلاب کی بڑی وجہ انسانوں کی Behavioral Changing ہے۔) ان کا تو اللہ پر ایمان نہےں،اس لےے وہ اس کو روےے کی تبدیلی کہتے ہےں، مگر ہم اللہ اوراس کے رسولﷺپر ایمان رکھتے ہےں تو میںکہوںگا کہ ان زلزلوںاورتباہ کاریوںکی سب سے بڑی وجہ ہم میںسے ایمان کی کمی ہے۔ ہم نے اللہ پاک اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے رستوں کو چھوڑ دیا اور غیر اللہ اور شیطان کے بتائے ہوئے رستے پر چل نکلے ہےں۔ پاکستان کے کسی گاﺅں،کسی شہر یا کسی قصبے میںچلے جائےںبے حیائی اور عریانی آپ کو عام نظرآئے گی اور ہم آج اسلامی کلچر اور سنتِ رسولﷺ اپنانے کی بجائے ہم ہندوﺅں اور انگریزوں کا کلچر اپنانے کی کوشش کرتے ہےں۔
قارئےن کرام! آج ہماری مائےں،بہنیں، بیٹیاں سر پر چادر نہ لینے کو فیشن کہا جاتا ہے، مردوں نے عورتیں والی عادات اپنا لیں ہےں، آج ہم میں وہ کوئی بھی خاصیت موجود نہےںہے جو ایک مسلمان میںہونی چاہئےے۔ نماز ہم نہےںپڑھتے، روزہ ہم میں سے بہت سے لوگ نہےںرکھتے۔
سب سے جو بڑی ہمارے ایمان میںتبدیلی آئی وہ ےہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺنے فرمایا کہ اے مسلمانوں آپس میںبھائی بھائی بن جاﺅ، مگر آج ہم نے اس رشتہ کو ہمیشہ کے توڑ دیا ہے، آج آپ کو پوری دنیا میں مختلف فرقوں کے لوگ تو ملیں گے، مختلف قوموںکے لوگ توملیںگے،مگر کوئی بھی شخص ےہ کہتاہوا نہےںملے گا کہ میںمسلمان ہوں۔ وہ ہمارے آباﺅ اجداد ہی تھے کہ جب مشرق میںکسی مسلمان کو تکلیف ہوتی تو مغرب کا مسلمان اس تکلیف کا درد محسوس کرتا تھا،مگر آج ایک ہی شہر میںحتیٰ کہ ایک ہی محلہ میں ایک مسلمان بھائی تکلیف میںہوتاہے اور اس کے دوسرے مسلمان بھائی کو اس کی تکلیف کا پتا بھی نہےںہوتا، میںتو ےہاں تک کہوں گاکہ اس کے پڑوسی کو بھی نہےں پتا ہوتا کہ اس کے پڑوسی نے رات کو کھانا کھایا بھی ہے یا نہےں یا رات ساری بھوک میں ہی گزار دی ہے کیا ہم ےہ مسلمان ہےں؟ آج روزانہ پاکستان میں، کشمیر، فلسطین، عراق اور دیگر اسلامی ممالک میںکتنے بے قصور ہمارے مسلمان بھائےوںکو بے دردی سے شہید کردیا جاتا ہے اور جب کوئی مسلمان اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو بھی دہشتگرد قرار دےکر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
قارئےن کرام! آج ہماری مسجدیں ویران پڑیں ہےں، آئے روز ہماری مسجدوں اور امام بارگاہوں میں دھماکے ہو رہے ہےں، ہمارا ایمان دن بدن کمزور سے کمزورہوتا جارہا ہے اورہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھنے کی بجائے انسانی بنائی ہوئی اشیاءپر بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔ ےہاں پر ایک اور غور طلب امر کی جانب اشارا کروں گا، جس سے آپ سمجھ سکیں گے کہ ہمارا ایمان کس حد تک کمزور ہو چکا ہے۔
حضورپاک ﷺ کے زمانہ میںجب آپﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مساجد میںنماز پڑھ رہے ہوتے تو اس وقت ےہودو نصاریٰ مسجد کے باہرڈھول بجاتے، سیٹیاں مارتے تھے اور آج ہم مسلمان ےہی ڈھول، میوزک اور سیٹیاں بجانے کام نماز کے دوران مسجد کے اندر کرتے ہےں۔ اب آپ کہےںگے جناب! وہ کیسے؟ تو قارئےن آج آپ اپنے ارد گرد بغور ملاحظہ کر سکتے ہےںکہ نماز کے دوران ہمارے موبائل فون کی رنگ ہوتی ہے تو اس پر عجیب عجیب آوازوں،گانوں والی رنگ ٹونز لگی ہوتی ہےں، جو مسجد کے اندر اور دوران نماز بجنا شروع ہو تی ہےں،تو خود اندازہ لگائےںکہ وہ ےہود ونصاریٰ ہم سے تو اچھے تھے کیونکہ وہ مسجد کے باہر کھڑے ہوکر ےہ سب کام کرتے تھے اور آج ہم مسجد کے اندر کھڑے ہو کر ےہ سب کام کر رہے ہےں۔
آج وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر ایمان کی شمع کو دوبارہ سے روشن کریں اور دنیامیںاپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں اور اللہ پاک سے استغفار کریں۔

Guest (not verified)

Wed, 02/02/2011 - 09:52

I guess that you’re the most distinguished writing’ about this good topic or about custom written essay creator. Moreover, you must be hired by the essay writing service to create such kind of great pre written essay.

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......