پاکستانی سیاستدانوں کے ہاتھوں عوام کا استحصال ‘‘ کالم ‘‘ ڈاکٹر منیب احمد ساحل

muneeb ahmed sahil's picture

ریاست اور معاشرتی زندگی کی مادی حالتوں کے آپس میں رشتے کا نظریہ پیش کرتے ہوئے لیوڈ وگ فیور باخ نے کہا کہ قانونی رشتے اور معاشرت زندگی کے مادی حالات کی پیداوار ہوتے ہیں اپنی زندگی کی سماجی پیداوار میں انسان اپنے ناگزیر تعلقات استوار کرتے ہیں جو مل کر معاشرے کا اقتصادی ڈھانچہ تعمیر کرتے ہیں ،سماج کی مادی پیداواری طاقتیں اپنی نشونما کی ایک خاص منزل پر پہنچ کر پیداوار کے ذرائع سے ٹکرانے لگتی ہیں اور پھر معاشرہ طبقات میں بٹ جاتا ہے اور ایک طبقہ اشرافیہ نچلے طبقے کے وسائل پر قبضہ کر کے ان کو اپنا دست نگر بنا لیتا ہے اور ایک بار جب طبقہ اشرافیہ عوام پر حاوی ہو جائے تو وہ ان کا آخری قطرے تک خون نچوڑتا ہے ۔

پاکستان میں کہنے کو تو پارلیمانی جمہوری نظام ہے لیکن یہ درحقیقت نو آبادیاتی جمہوریت ہے کیونکہ ووٹ اور ووٹرز آزاد نہیں ،حقیقی جمہوریت اور خالص عوامی حاکمیت تو ان ممالک میں رائج ہے جہاں عوام اور عوام کے ووٹ آزآد ہیں اور عوام اپنی مرضی سے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں پاکستان میں تو عوام کے ووٹوں پر زرداریوں ،جتوئیوں ،مخدوموں، پگاراؤں، مِیاؤں، قاضیوں،رحمانیوں ،چوہدریوں، ولیوں، حق پرستوں، بھٹو، وڈیروں، سرمایہ داروں، سرداروں اور سرخ پوش جاگیر داروں کا قبضہ ہے اپنے اپنے علاقوں میں یہ جتنا چاہتے ہیں ان کو اتنا ووٹ پڑ جاتا ہے اور غریب و بے خبر عوام اسی میں خوش ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ ڈال کر آگئے ہیں اب ان کی تقدیر بدل جائے گی اور آٹا ،چینی، پانی ،تعلیم، انصاف اور روزگار سب ان کی دہلیز پر مفت پہنچ جائے گا ،دوسری طرف پاکستان میں ووٹ کاسٹنگ کی شرح بمشکل 22تا 25فیصد ہے وہ بھی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جبکہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ صرف 12سے 15 فیصد کو حق رائے دہندگی کا استعمال کرتے ہیں ،عوام 62 سال سے انتخابات کے نام پر منافقانہ تماشا دیکھ رہے ہیں قائد اعظم کے کھوٹے سکوں یعنی مسلم لیگ کے تمام دھڑے ،پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی جمعیت علمائے اسلام ، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ و دیگر کی سرمایہ دارانہ ،وڈیرانہ قیادتیں و موروثی و خود ساختہ جمہوری نجات دہندہ قوم کے غدار اور مجرم اعظم ہیں ،پاکستان میں انہی سیاسی جماعتوں اور ان جماعتوں کی موروثی قیادتوں نے ’’حقیقی عوامی جمہوریت ‘‘ کو ہمیشہ یرغمال بنائے رکھا ملک کی غالب اکثریتی آبادی کو تین وقت کی روٹی میسر نہیں ،عوام بھوک اور غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خود اپنے گردے اور لخت جگر فروخت کر رہے ہیں پورا ملک بھوک اور بیروزگاری کا قبرستان بن چکا ہے اور حکمران قوم کو خوشنما نعرے دے رہے ہیں اور سبز باغ دکھا رہے ہیں پاکستان کی تاریخ میں ہر انتخابات میں عوام کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ تک چھینے والے جاگیردار ،وڈیرے، مولوی اور سرمایہ دار ہی منتخب ہو رہے ہیں اور ممبر پارلیمنٹ بن رہے ہیں ہر ادارے، ہر شعبے میں مراعات یافتہ طبقے کے افراد ہی فائز ہو رہے ہیں ہر جانب استحصالی عوام دشمن مقتدری کی عمل داری ہے غریب عوام جائیں تو کہاں جائیں ؟کب تک غریب عوام کو حب الوطبی اور پاکستان پرستی کے فریب میں رکھ کر ان کا استحصال کیا جاتا رہے گا؟ کب تک 90 %پاکستانی 10 %غاصب ،جارح اور استحصالی طبقے کے ہاتھوں ’’پاکستان‘‘ کے نام پر لٹتے رہیں گے ،کب تک نان شبینہ ،آٹے ،بجلی ،پانی، انصاف اور روزگار سے محروم بے وسیلہ اور بے حال عوام حکمرانوں کی پاکستانیت کی ڈگڈگی پر ناچتے رہیں گے؟حب الوطنیت، پاکستانیت اور اسلامیت کی غریب عوام ہی کیوں مصلوب ہوں؟ حکمرانوں نے تو 62 سالوں کے دوران کبھی عوامی مسائل و مصائب کا کوئی مداوا نہیں کیا ہے بلکہ عوام کے سلگتے ،بلکتے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے اور پوری قوم کیلئے باعث ذلت، رسوائی و بربادی بنے ہوئے ہیں اس لئے سیاستدانوں سے ملک و ملت کی بہتری اور عوامی خیر خواہی کی مزید امیدیں رکھنا محض خود فریبی ہے ان سیاسی جماعروں کی موروثی قیادتوں نے نہ تو ماضی مقں ملک و قوم کی کوئی خدمت کی اور نہ کر رہے ہیں اور نہ ہی مستقبل کیلئے کوئی پیش بندی کی ہے ،لیکن پاکستان کی حالت اب فرشتے آکر بھی نہیں بدلیں گے ،جو کچھ کرنا ہے عوام ہی کو کرنا ہے ،ان منافقوں اور قومی مجرموں سے یہ توقع رکھنا کہ اب وہ ملک و قوم کیلئے کچھ کریں گے عوام کے مسائل حل کریں کے محض ایک خواب ہے ،ایسے ہی خواب پاکستانی 62 سالوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن خواب خواب ہوتا ہے حقیقت نہیں اور خواب دیکھنے سے حالات نہیں بدل جاتے اور نہ ہی مسائل حل ہوتے ہیں اگر ہو جاتے تو پاکستان کے آرمی چیف اور پولیس چیف کو اپنی زندگیوں کو تحفظ کیلئے سکیورٹی گارڈز اور کمانڈوز کی ضرورت ہوتی؟

عوام کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں کیونکہ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے جب افراد خراب ہوتے ہیں تب ہی معاشرہ خراب ہوتا ہے خود احتسابی کے عمل سے گزرنے کے بعد گلی اور محلے کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں جو کہ مارکیٹ میں دکانداروں کو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ازخود بڑھانے کی اجازت نہ دیں ،ہر یونین کونسل کی سطح پر قائم عوامی کمیٹی ناظم سے لے کر خاکروب تک سب کے عوامی احتساب کا بیڑہ اٹھا لے ،قوم کو پاکستان سدھارنے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے ازخود جدوجہد کرنی ہوگی یاد رکھیے ہمارے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں سوائے زنجیروں کے اور فتح کرنے کیلئے پوری دنیا ہے۔

Share this
No votes yet