پاکستانیوں کا انڈین وژن ۔ خواب یا حقیقت؟

Submitted by TeamAdmin on Fri, 10/05/2007 - 12:26

پاکستانیوں کا انڈین وژن ۔ خواب یا حقیقت؟

مُجھے شدت سے احساس ھو رھا ھے کہ میں انڈیا کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا۔ پاکستان میں رھنے والے اکثر افراد یہ سمجھتے ھیں کہ وہ انڈیا کو سمجھتے ھیں مگر کیا ایسا ممکن ھے؟

ھماری معلومات انڈین فلموں پر مبنی ھوتی ھیں۔ مگر کیا پاکستانی فلمیں پاکستانی معاشرے کی عکاسی کرتی ھیں؟

ھم سمجھتے ھیں کہ انڈیا اور ھندو ایک ھی ھیں مگر انڈیا میں بیس کروڑ تو مسلمان رھتے ھیں اور پھر نچلی ذاتوں کے بیس کروڑ ھندو بھی جو ایلیٹ کلاس سے اتنا ھی تنگ ھیں جتنا ھم اپنی ایلیٹ کلاس سے۔

پی ٹی وی اور مطالعہ پاکستان ھندووں کی ذھنیت کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں یہ تو پاکستانی سیاستدانوں کو بھی مسخ کر کے پیش کرتے رھتے ھیں۔

عوام کی معلومات اور نظریات کچھ بھی ھوں ایک خواص کا طبقہ ایسا ھے جو عوام کو تو انڈیا دشمنی کا سبق دیتا ھے مگر خود

ھمارے سیمنٹ ساز اداروں نے پانچ سال پہلے ھی پیداوار میں اضافہ شروع کر دیا تھا وہ لگائی ھوئی فیکٹریاں اب انڈیا سیمنٹ ایکسپورٹ کرنے کے کام آ رھی ھیں۔

۲۰۱۰ تک انڈیا کے ساتھ ھماری تجارت دس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی یہ کتنا بڑا عدد ھے کبھی آپ نے غور کیا؟

عوام سمجھتے ھیں کہ پہلے کشمیر کا مسئلہ حل ھو گا پھر انڈیا کے ساتھ دوستی بنے گی۔ مگر خواص کیا سمجھتے ھیں۔

پی ٹی وی کے ایک چئیرمین زی ٹی وی دوبئی میں اعلی عہدے پر فائز تھے انہیں وہاں سے اٹھا کر پی ٹی وی کا ھیڈ بنا دیا گیا۔ خواص کیا سمجھتے ھیں؟

میں خود بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا بس سوال کر رھا ھوں ۔ اگر انڈیا کی بہتی گنگا سے ھاتھ ھی دھونے ھیں تو اس میں عوام کیوں نہ شامل ھوں وھی چند گنے چنے خاندان اپنی تجارت بڑھا رھے ھیں اور ھم وھیں کے وھیں۔

اگر ھمیں اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ کے دھکے کھانے ھیں تو انڈیا کیوں نہ جائیں جہاں کی تین یونیورسٹیاں دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز میں شامل ھیں۔اور پھر وھاں زبان ، کلچر اور مھنگائی کا مسئلہ بھی درپیش نہیں ھو گا۔

کیا آپ کسی ایسے ملک کا تصور کر سکتے ھیں جس کے ایک بارڈر پر جاپان ھو اور دوسرے پر امریکہ جیسی اقتصادی قوت ۔ اگر کوئی ایسا ملک ھو تو وہ خوامخواہ ترقی کر جائے گا چاھے اس کے حکمران چاھیں یا نہ چاھیں۔

پاکستان کے ساتھ چائنہ اور انڈیا جیسی دو بڑی طاقتوں کے بارڈر لگتے ھیں اور توانائی کے تمام بڑے ذخائر پاکستان سے ھو کر گزریں گے تو آئندہ دس بیس سال میں پاکستان ھانگ کانگ اور سنگاپور کے لیول پر پہنچ جائے گا اور یہ ناگزیر ھے۔

میری اس ساری گفتگو کا مقصد یہ ھے کہ کیا ھم کو اپنے انڈیا وژن پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ھے یا ھم سمجھتے رھیں کہ ھم ٹھیک ھیں!

ھمارے انڈین دوست اس معاملے پر ھماری راھنمائی کر سکتے ھیں اور اگر وہ پاکستان کی حقیقت جاننا چاھیں تو ھم انہیں بتا سکتے ھیں جو ظاھر ھے دور درشن اور زی نیوز سے مختلف ھو گی۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......