پارلےمنٹ: اےلےٹ کلاس کا ڈےبےٹنگ کلب!

Submitted by Mudassar Faizi on Wed, 05/20/2009 - 01:14

پارلےمنٹ: اےلےٹ کلاس کا ڈےبےٹنگ کلب!
پوری دنےا مےں جہاں کہےں بھی، کسی بھی ملک مےں پارلےمانی نظام حکومت رائج ہے، وہاں پارلےمنٹ اےسا مقتدر ادارہ ہوتا ہے جہاں نہ صرف ملکی پالےسےاں مرتب کی جاتی ہےں بلکہ ملک کی قسمت کے فےصلے بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ارکان کثرت رائے سے کرتے ہےں۔ جمہورےت کا حسن ہی ےہ ہوتا ہے کہ ملک و قوم کی تقدےر کے فےصلے کوئی فرد واحد نہےں کرتا بلکہ بحث و تمحےص کے بعد اس ملک کے منتخب لوگ اتفاق رائے سے ےا کثرت رائے سے اےسے فےصلے کرتے ہےں اور اےسی پالےسےاں تشکےل دےتے ہےں جو سراسر اس ملک اور عوام کے حق مےں ہوتی ہےں۔ دنےا کی اکثرےتی ممالک کی طرح پاکستان مےں جمہوری نظام حکومت رائج ہے، آئےن و قوانےن موجود ہےں۔ جب کبھی فوج اپنا سانس درست کرنے کے لئے عنان حکومت سوےلےن اور سےاسی لوگوں کے سپرد کرتی ہے تو الےکشن بھی ہوجاتے ہےں، الےکشن ہوجائےں تو مرکز اور صوبوں مےں سےاسی حکومتےں بھی قائم ہوجاتی ہےں۔ تھوڑی دےر کے لئے ہی صحےح، ٹرےلر کے طور پر ہی صحےح، جب کبھی بھی سےاسی حکومتےں قائم ہوتی ہےں، اس وقت ہی جمہورےت کی روح پر عملدرآمد ہوجانا چاہئے کہ تمام پالےسےاں پارلےمنٹ مےں مکمل غور و فکر اور بحث کے بعد مرتب کی جائےں اور بعد ازاں ان پر مکمل عمل کےا جائے۔ پاکستان شائد اس کرہ ارض کا وہ واحد بدنصےب ملک ہے جہاں جب جب فوج نے کمال مہربانی اور شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سےاستدانوں کو موقع مرحمت فرماےا، نہ صرف سےاستدانوں نے قوم کو ماےوس کےا بلکہ قوم کا بےڑہ غرق بھی کرنے کی کوشش کی۔ سےاستدانوں نے اگر کوئی کام کےا تو وہ ےہ کہ اقرباءپروری کی، رشوت اور لوٹ مار کا بازار گرم کےا، سےاسی مخالفےن کو نشان عبرت بنانے کی کوشش کی اور سب سے بڑھ کر اپنی جےبےں بھرنے پر لگے رہے۔ پاکستان کے ارکان پارلےمنٹ نے اگر کبھی اپنے ذاتی کاموں سے توجہ ہٹا کر ملک و قوم کے بارے مےں سوچا بھی اور کسی قسم کی کوئی پالےسی بنائی بھی تو اس پر عمل کرنا گناہ سمجھا گےا۔ اول تو ارکان پارلےمنٹ کے پاس اتنا وقت ہوتا ہی نہےں کہ وہ کسی قسم کے عوامی مفاد کی بات بھی کرےں کےونکہ انہوں نے اپنے عزےز، رشتے داروں اور دوستوں کے اسلحہ لائسنس بنوانے ہوتے ہےں، پرمٹوں کے پےچھے بھاگنا ہوتا ہے، من پسند افراد کو ٹھےکے لے کر دےنے ہوتے ہےں، بچوں کو امتحان پاس کرانے ہوتے ہےں، نوکرےوں کا بندوبست کرنا ہوتا ہے، اپنی مراعات بارے غور و فکر کرنا ہوتا ہے، کسی کو بےرون ملک علاج کے لئے جانا ہے تو کسی کو سےر و تفرےح کے لئے، کسی وزےر کو نئی گاڑی چاہئے تو کسی کو بنگلہ، قصہ مختصر ےہ کہ ان بےچارے ارکان پارلےمنٹ کے پاس وقت ہوتا ہی کب ہے کہ وہ عوامی بکھےڑوں مےں پڑےں، اور عوام انکے کوئی سگے تھوڑے ہی ہوتے ہےں، عوام تو ہےں ہی کاٹھ کے الو، بلکہ الو کے ........!
بات ہورہی تھی پارلےمنٹ کی، تو پاکستان کی پارلےمنٹ مےں اراکےن نے اکثر و بےشتر مواقع پر صرف دھواں دھار تقارےر کی ہےں اور آمروں (فوجی ہوں ےا سےاسی) نے ربڑ سٹمپ کا کردار ادا کےا ہے۔ کبھی آٹھوےں ترمےم جےسا کلہاڑا اےجاد کےا گےا، کبھی چودھوےں ترمےم سے راتوں رات امےر المومنےن بننے کی کوشش کی گئی اور کبھی سترھوےں ترمےم سے آمرانہ اقدامات کو تحفظ دےا گےا۔ پاکستان کی موجودہ پارلےمنٹ کا حال بھی پہلے سے بہتر نہےں ہے بلکہ شائد اس سے بھی زےادہ ابتری آگئی ہے۔ پارلےمنٹ کا مشترکہ اجلاس اےک قرارداد پاس کرتا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے پر حملے کو پاکستان کی آزادی اور خودمختاری پر حملہ سمجھا جائے گا اور امرےکہ سے مطالبہ کےا گےا کہ پاکستانی سرزمےن پر حملے فوری طور پرروکے جائےں، لےکن اثر کےا ہوا، پارلےمنٹ کی قرارداد کو ٹشو پےپر سمجھا گےا، جس سے غلاظت صاف کی اور گند کی ٹوکری مےں پھےنک دےا! پارلےمنٹ نے نظام عدل رےگولےشن بل کثرت رائے سے منظور کےا، پس و پےش کے بعد صدر نے بھی بالآخر دستخط کردئےے، لےکن اس کے بعد کےا ہوا؟ سوات مےں اس نظام کو جان بوجھ کر ناکام بنا دےا گےا، امرےکی اور بھارتی اےجنٹوں نے طالبان کا بھےس بدل کر کارووائےاں شروع کردےں، اگر بہ امر مجبوری حکومت نے نظام عدل رےگولےشن منظور بھی کرلےا اور نافذ بھی کردےا تھا تو تھوڑا سا وقت بھی دےنا چاہئے تھا، اب تو لگتا ہے کہ ےہ سارا کھڑاگ صرف اس لئے پھےلاےا گےا تھا تاکہ بعد مےں فوری کارروائی کے لئے گراﺅنڈ بنائی جا سکے۔ چنانچہ فوجی کارروائی کا جواز پےدا کےا گےا، فوجی آپرےشن شروع کر دےا گےا اور اب ماشاءاللہ قومی اسمبلی مےں سوات اور باقی شورش زدہ علاقوں کی صورتحال پر بحث ہورہی ہے، بڑی دھواں دار قسم کی تقرےرےں ہو رہی ہےں، تقرےروں پر ڈےسک بجائے جا رہے ہےں، واہ واہ اور بلے بلے کا شور ہے....! ارے بھائی اگر تقرےروں کا اتنا ہی شوق ہے تو موچی دروازہ ےا لےاقت باغ مےں جلسے رکھ لئے جائےں، مزار قائد ےا تبت سنٹر مےں رےلی مےں تقارےر کا شوق پورا کرلےں، آپ خوامخواہ اپنا اتنا قےمتی وقت برباد کررہے ہےں۔ اسی وقت مےں اچھے بھلے دوسرے ”کاروباری“ امور نپٹائے جا سکتے تھے۔سےر و تفرےح کے لئے اسلام آباد تشرےف لے جانے کی کےا ضرورت تھی، جہاں پہلے ہی طالبان طالبان ہورہی ہے، ارے بھائی لوگ! آپ سب کو تو کسی دور دراز ملک کے پر فضا مقام پر ہونا چاہئے، جہاں تک بم دھماکے وغےرہ نہ پہنچ سکےں، آپ سب کو تو کسی پر امن ملک مےں ہونا چاہئے، ہو سکتا ہے آپ کے ”وہاں“ جانے سے ”ےہاں“ کے حالات مےں کوئی اچھائی پےدا ہوجائے، ڈےبےٹنگ کلب تو وہاں بھی بن سکتا ہے، آخر مشرف بھی تو وہاں جا کر لےکچر دےتا ہے....!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......