ٹی ٹی پی کے نائب امیر کی برطرفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تجزیہ

anawazkhan's picture

ٹی ٹی پی کے نائب امیر کی برطرفی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تجزیہ

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کو حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی شوری کا اجلاس ہوا جس میں شوریٰ کے نو اہم کمانڈروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ شوریٰ کے اجلاس میں بُہت سے اہم فیصلوں کے علاوہ تحریک کے نائب امیر مولوی فقیر محمد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کیاگیا ہے۔
یاد رہے کہ فقیر محمد کا تعلق قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ہے اور ان کا شمار تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر کی حثیت سے فعال تھے لیکن کُچہ عرصے سے تنظیم کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہونے کی اطلاعات آ رہی تھیں۔ مولوی فقیر پاکستانی حکومت سے امن مذاکرات کے حامی اور حکیم اللہ محسود کے حریف ولی الرحمن محسود کے قریب ہیں۔ ملا عمر پاکستان میں دہشت گردانہ حملے روکنے کا حکم دے چکے ہیں مگر حکیم اللہ محسود، ملا عمر کے احکامات کو نہ مان رہے ہیں۔
تنظیم کے نائب امیر مولوی فقیر اللہ کی برطرفی کے بعد اقتدار کی اندرونی لڑائی کے باعث تحریک طالبان پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے ٹی ٹی پی کے اندرونی ذرائع کے مطابق مولوی فقیر کے حامی انہیں ہٹائے جانے کیخلاف احتجاج کررہے ہیں اور تحریک میں پڑنے والی اس دراڑ سے 40 سے زائد اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل ٹی ٹی پی میں اندرونی لڑائی چھڑجانے کا اندیشہ ہے مولوی فقیر تحریک طالبان میں دوسرے نمبر پر تھے اور تحریک کے اندرونی ذرائع کے مطابق وہ حکومت پاکستان اور اس کی ایجنسیوں سے روابط بڑھانے میں مصروف تھے۔
مبصرین کے مطابق مولوی فقیر کی برطرفی کے بعد طالبان اب پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوگئے ہیں اور اس کے کماندار بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے اور ٹی ٹی پی کا سٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ٹی ٹی پی کمزور تو ہو گئی ہے مگر کلی طور پر ختم نہ ہوئی ہے اور اب بھی پاکستانی شہریوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کئی دھڑوں میں تقسیم ہو کر 130سے زائد گروپوں میں بٹ گئی ہے، پاک فوج نے آپریشن اور امریکی ڈرونز حملوں نے اس کو کو کمزور کر کے رکھ دیا ہے ، پاکستان حکومت کے ساتھ ان کی کمزوری کے بعدامن مذاکرات کے بیانات آرہے ہیں ،مالی لحاظ سے عسکریت پسند انتہائی مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔
فاٹا میں ایک سینئر محقق منصور محسود نے کہا ہے کہ "آج تحریک طالبان کا ڈھانچہ تقسیم اور کمزور ہوچکا ہے او ر انکے پاس رقم ختم ہوچکی ہے۔ یہ صورت حال پاک فوج اور حکومت کے لئے وسیع پیمانے پر معاون ثابت ہوئی ۔ یہ گروپ 2009میں اپنے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد زوال کا شکار ہے۔ ان کی تقسیم میں پاک فوج کے آپریشن اور امریکی ڈرونز حملو ں نے اہم کردار ادا کیا ہے، دوسری بڑی وجہ عسکریت پسندوں کو تقسیم اور قابو کرنے کی پاک فوج کی حکمت عملی تھی ، کمانڈرو ں نے تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کرکے اپنے گروپ بنا لیے ہیں جس سے ان کی تنظیم کمزور ہو چکی ہے۔ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جیسے بیانات اسی پس منظر کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں۔
تحریک طالبان کے گروپوں میں تقسیم ہونے سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر دباؤ میں ممکنہ کمی واقع ہو گی اور یہ تنظیم اب اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی اور یہ مزید ٹکروں میں تقسیم ہوجائے گی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں مستقبل میں کمی واقع ہو گی ۔
دہشت گرد تنظیموں کو ان کے لیڈر ہی متحد و منظم رکھتے ہیں مگر قیادت میں اختلافات کی وجہ سے مختلف گروپ آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں جس سے تنظیم یقینی طور پر کمزور ہو جاتی ہے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ تحریک طالبان جو پہلے ہی ۱۳۰ دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور اب اس میں مزید دھڑے پیدا ہو جائینںگے۔ ویسے بھی اس طرح کی اطلاعات تھیں کہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن میں حکومت پاکستان سے بات چیت اور تحریک طالبان کے طریقہ کار اور دوسرے معاملات کے موضوع پر ناقابل اصلاح اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان کو اس وقت سامنا ہے قیادت کے بحران کا سامناہے۔ تحریک طالبان پاکستان کو پہلے اس قسم کے مشکل حالات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا ، جو اب اسے درپیش ہیں۔ ٹکروں میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
بریگیڈیر محمود شاہ نے تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے عسکریت پسند گروپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ اس وقت ان عسکریت پسند گروپوں کی کیا تعداد ہے۔ رہی سہی کسر امریکی ڈرون حملوں نے پوری کر دی اور طالبان کی قیادت اور دوسرے لیڈروں کو چن چن کر نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں طالبان سو سے زیادہ گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال فوج اور پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے لئے فائدہ مند ہے کیونکی طالبان اب تقسیم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کی ۔ تقسیم کرو اور فتح کروـ کی پالیسی بھی اس معاملے بڑی ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے بہت سے کمانڈر طالبان سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور مختلف ایریاز میں، اپنی کمزوری کی وجہ سے حکومت سے بات چیت کر رہے ہین یا کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس سے تحریک طالبان مزید کمزور ہو رہی ہے۔ طالبان کی اس کمزوری کا اثر افغانستان کی جنگ پر ہونا ایک لازمی امر ہو گا۔

Share this
Your rating: None Average: 5 (4 votes)

Comments

procekc's picture

При поступлении скорбных в

При поступлении скорбных в клинику во часы исходной собеседования до начала лечения оценивалась степень их уверенности в ожидаемом результате. Б. В итоге все скорбные были разъезжены на 2 группы: с личным результатом проводимого лечения ( те, какие на протяжении не менее 2 недель твердо регистрировали позитивный результат лечения и могли сформулировать, в чем именно он заключается ) и без него ( лица либо не отмечавшие в своем состоянии никаких изменений, либо оценивающие их как кратковременные и нестабильные ). Первым критерием предназначалось воззрение самого скорбного, уточнявшееся в процессе собеседования по соблюдающим позициям: в чем именно выразился результат проводимого лечения, как изменилось самочувствие, сетования, беспристрастные проявления заболевания, каковы ожидания от проводимого лечения. А. Самым величественным моментом изыскания была отметка личной эффективности проводимого лечения.