٭ پاکستان میں تعلیمی نظام کی ابتر حالت ٭

atifsaeed's picture

٭ پاکستان میں تعلیمی نظام کی ابتر حالت ٭
کالم نگار: عاطف چودھری
پاکستان میں جہاں پر دیگر شعبہ جات، کاروباری نظام، معیشت اور انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، وہیں پر پاکستان کا تعلیمی نظام ابتر حالت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کو اتنی ترجیح نہےں دی جاتی جتنی دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں دی جاتی ہے۔ پاکستان میں طلباءکا مقصد علم حاصل کرنا نہےں ہوتا، بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف ڈگریاں حاصل کرکے نوکریاں حاصل کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کےلئے سب سے رحم طلب بات ےہ ہے کہ پاکستان میں جو تعلیم کے سربراہ ہےں وہ خود اتنے پڑھے لکھے نہےں ہےںکہ وہ پاکستانی تعلیم کے لئے کوئی بہتر لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
قارئےن کرام! اس بات سے آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ گزشتہ چار ماہ سے پاکستان میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے ہےں، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہےں ہے جہاں پر سال کا چوتھا حصہ سکول، کالجز اور انسٹی ٹیوٹ بند رہتے ہوں۔ آپ خود اندازہ لگائےںکہ جو بچے چار ماہ تک سکول نہ گئے ہوں، جنہوں نے چار ماہ تک کتابیں نہ پڑھیں ہوں،جب وہ چار ماہ کے بعد سکول آئےں گے تو ان کے دماغ تو بالکل صاف ہوں گے، انہےں نہ ےہ پتا ہوگا کہ انہوںنے پہلے کیا پڑھا تھا اور نہ ہی ےہ علم ہو گا کہ انہےںآگے کیا پڑھنا ہے اور سب سے بڑی بات ےہ ہے کہ پاکستان میں تو تعلیمی نظام ایسا ہے کہ طلباءکو صرف کتابی کیڑا بنا دیاجاتا ہے۔ پرائمری تعلیم سے لیکر ہائر ایجوکیشن تک ہرجگہ ٹیچرز طلباءکو کتابیں اورنوٹس دے دیتے ہےں اورکہہ دیا جاتا ہے کہ ان کو تیار کر لیں، پاس ہو جائےں گے اور طلباءبھی صرف ان کو تیار کر لیتے ہےں اور پاس ہو جاتے ہےں۔ ان کو خود اعتمادی اور لائبریری اور کتابوںسے بالکل دور کر دیا جاتا ہے۔
قارئےن کرام! آج بھارت جسے ہم اپنا حریف سمجھتے ہےںجہاں وہ دیگر شعبوںمیں تو ہم سے آگے نکل ہی گیا ہے،وہیں ان کا تعلیمی نظام بھی اتنا بہترین ہو چکا ہے کہ کہ جو کتاب بھارت میں مڈل سکول کے طلباءکو پڑھائی جاتی ہے، وہی کتاب پاکستان ہائر ایجوکیشن کے طلباءکو پڑھائی جاتی ہے۔
قارئےن کرام! آج مسلمانوں کی بدقسمتی دیکھئےے کہ ایک وقت تھا کہ ہمارے آباﺅ اجداد پوری دنیا کے استاد کہلایا کرتے تھے اور ہمارے آباﺅ اجداد کی کتابیں پوری دنیا میں پڑھائی جاتی تھیںاور آج وہ وقت بھی آچکا ہے کہ دنیا کے کسے ملک میںحتی کہ پاکستان میں بھی ہائر ایجوکیشن میں کسی بھی مسلمان کی کتاب نہےںپڑھائی جاتی بلکہ بھارتی رائٹرز کی کتابیں پوری دنیا میںپڑھائی جاتی ہےں۔ وہ آج ہم سے بہت آگے نکل گئے ہےں اس کی وجہ صرف اور صرف ےہ ہے کہ ان کے طلباءمیں خود اعتمادی ہوتی ہے۔ ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ ےہ کورس ہے اور آپ نے خود پڑھنا ہے اور خود تیارکرنا ہے اور پھر وہ خود ہی لائبریری میں سے کتابیںڈھونڈ کر تیار کرتے ہےں ٹیچر کا کام صرف گائےڈ کرنا ہوتا ہے نہ کہ سبق یاد کرانا۔
قارئےن کرام! پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی ےہ ہے کہ جو بھی پڑھے لکھے لوگ ہےں وہ پاکستان میں نہےں رہتے، کیونکہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوںکی ضرورت ہی نہےںہے۔ آج ہمارے حکمران کہتے ہےں کہ ہم نے تعلیم کو عام کیا، کیا ےہ تعلیم کو عام کیا کہ پاکستان میں میٹرک سے آگے کوئی علم حاصل نہےںکر سکتا کیونکہ یونیورسٹیوںمیں فیسز اتنی زیادہ ہےں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہےں۔ آج وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کیا جائے اور طلباءمیںخود اعتمادی پیدا کی جائے تاکہ ہماری لائبریریز دوبارہ سے آباد ہو سکیں اور طلباءدوبارہ سے کتابوں سے محبت کرنے لگیں۔

Share this
Your rating: None Average: 5 (1 vote)

Comments

Guest's picture

reply

Do you understand that suppose to be possible to find writitg specialists in the internet and get information: "how to do my essay "? It will increase your possibilities to succeed.

Guest's picture

Atif Chauhdary you are right.

Atif Chauhdary you are right. But agr aap apny surroundings main nazr dalain to aap ko her gali muhally main bht sy Schools milain gy. but kya un schools main Qualified Teachers hain? Wahan Jis Teacher ny Matric ya Inter kiya hota hy wo Matric ky studentds ko tamam subjects parha raha hota hy. Agr aisy hi teacgers Students ki base bnaiyen gy to student kya parhy ga.
Sb sy pehly hmain aik Education policy bnani hogi jo pury mulk main impliment ho but unfortunately ye kaam hm 60 years main bhi nhn kr saky.