!٘موجودہ پاکستانی سیاست

hashims's picture

افکارِ مشرق
موجودہ پاکستانی سیاست
ڈاکٹر خواجہ اکرام
اسسٹنٹ پروفیسر ،جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی ،بھارت

بے نظیر کا سفاکانہ قتل اور اس کے نتیجے میں ایک ہفتے تک پاکستان میں خون خرابے نے کس قدر عوامی سطح پر خوف و ہراس کو بڑھاوا دیا ہے، یہ ساری دنیا جان رہی ہے۔لیکن جس طرح موجودہ حکومت نے بھی کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے عناصر موجود ہیں ، حالانکہ پاکستان کے بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں اس کی جڑیں کافی مضبوط ہیں ۔پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات تو اب کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔حالانکہ صدر مشرف نے امریکہ کو یہ بھروسہ دلایا تھا کہ یہاں سے ایسے عناصر کا قلع قمع کر دیا گیا ہے ۔لیکن ان کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا محسوس ہورہاہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ پڑوسی ممالک اگر حقائق سے آگاہ کریں تو ان پر بہتان اور الزام تراشی کی تہمت لگائی جاتی ہے مگر امریکہ جب پوچھے تو ایک فرمانبردار ملازم کی طرح جواب دیا جاتا ہے۔سچائی یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ خطرناک صورت حال کا شاید پاکستان کو بھی ادراک ہوچکا ہے ۔اسی لیے پاکستان کی سیاسی جماعتیں تو اس بارے میں کھل کر بو ل بھی رہی ہیں لیکن اس کے بر عکس مسلم لیگ (قائدِ اعظم) اور پرویز مشرف حکومت نہ تویہ ماننے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی کاروائی اور موثر انسدادی کارروائی پر یقین رکھتی ہے۔بلکہ ا س سانحے پر سیاست شروع کر دی ہے اور جس طرح حکومت نے بے نظیر کی موت کے بعد اپنے بیانات کوبار بار تبدیل کیاہے اور جس طرح سے بے نظیر کے قتل کو ایک حادثہ بتانے کی کوشش کی ہے اس سے بھی اس شک کو تقویت ملتی ہے۔یہ ایک عام سی بات ہے کہ پاکستان میں بے نظیر کو شر پسندوں نے نشانہ بنایا ۔ بالفرض اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ بھی مان لیں کہ انھیں گولی نہیں لگی ،لیکن گولی چلنے اور دھماکہ ہونے کی وجہ سے ہی تو بے نظیر لڑکھڑا کر نیچے گریں ۔ تو کیا گولی نہ لگنے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ بے نظیر کے قافلے پر دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا۔ اگر یہ بھی مان لیں تو اس کا کیاجواب ہے کہ اس وقت ایک خود کش نے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں دو درجن لوگ ہلاک ہو گئے ۔کیا یہ بھی دہشت گردانہ واقعہ نہیں ہے۔بات وہی ہے کہ جس کے دل میں چور ہوتا ہے وہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کی طفلانہ کوشش نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ اس دہشت گردی کے واقعے میں کسی نہ کسی طور پر حکومت کا ہی ہاتھ تھا۔اور اگر یہ مان لیں کہ حکومت نے نہیں کیا تو یہ ماننا پڑے گا کہ دہشت گرودں نے کیا اور انہی دہشت گردوں نے کیا جو پاکستان میں موجود ہیں ۔یہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دیگر ممالک کے امن وامان کے لیے بھی خطرے کی علامت ہیں۔اسی لیے عالمی سطح پر بھی اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت میں شامل افراد کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس سے عالمی شخصیات کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔اور شاید اسی عالمی دبا¶ کے نتیجے میں صدر مشرف نے بیرونی اور غیر ملکی ادارے ، اسکاٹ لینڈیارڈسے اس قتل کی تحقیقات کرائی۔اور انھیں اپنے ملک میں بُلایا ۔ ورنہ وہ کہاں پی پی پی کے کہنے پر کسی غیر ملکی ادارے کو بلانے والے تھے ، کیونکہ وہ تو حقائق پر اب بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی لیے اس اندوہناک واقعے کے فوراً بعد پاکستان نے القاعدہ اور طالبان پر اس کی ذمہ داری عائد کر دی لیکن شروع میںامریکہ کا یہ بیان آیا کہ ”سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت میں اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے“۔ اس وقت واشنگٹن میں وائٹ ہا¶س کے نائب ترجمان ٹونی فریٹو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ بے نظیر بھٹو پر حملے کی ذمے داری القاعدہ نے قبول کرلی ہے۔ ٹونی فریٹو کاکہنا تھا کہ اس قسم کی کوئی رپورٹ ان کی نظروں سے نہیں گزری۔“ تاہم، اب امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس سازش میں پاکستانی آزاد قبائلی بیت اللہ محسود اور اس کے کارندے ملوّث ہیں۔ ان افراد کا تعلّق اور ہمدردیاں افغانی طالبان اور القاعدہ سے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں ان کی جانب سے کئی بار اس الزام کی تردید کی جاچکی ہے، جس کی سچّائی کے بارے میں بھی شبہات ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ غیرملکی تفتیشی ٹیم کو بھی کسی طرح متاءثر کر کے من چاہی رپورٹ حاصل کی جاسکے۔یہ تمام باتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ کسی نہ کسی طور موجودہ حکومت انتہا پسندوں کی سر کوبی نہیں کرپا رہی ہے ۔ جب کہ اس سے پاکستان کو ہی نقصان ہونے والا ہے ۔ ابھی پاکستان کو جو خسارہ ہواہے شاید اسے سیاسی حریف ہونے کی وجہ سے حکومت تسلیم نہ کرے مگر ساری دنیا میں اس کا سوگ منایا جارہاہے یہ اس لیے نہیں کہ لوگوں کو بے نظیر سے ذاتی انسیت تھی ۔وجہ صرف یہ ہے کہ بے نظیر پاکستان میں جمہوریت کی علامت تھیں اور کوئی بھی بڑی شخصیت اس طرح کے عناصر کی شکار ہوجائے تو افسوس تو ہوتا ہی ہے۔
OOOOO
This is an Urdu Article about "Current State of Pakistani Politics" by Dr. Khawaja Ekram

Share this
No votes yet