ٓٓآ ئین غلامانہ حق بات کو جھٹلانا

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 06/23/2009 - 18:53

عوام کی راے کی اپنی اہمیت ہے جو اسے جھٹلانے کی حماقت کرتے ہیں وہی اس کی سب سے بڑی قیمت بھی ادا کرتے ہیں۔عوام کی مرضی معلوم کرنے کے مختلف طریقہ فی زمانہ رائج ہیں ان میں ایک معروف طریقہ انتخابات ہیں اور دوسرا استصواب جو گاہے بگاہے منعقد ہوتے رہتے ہیں قرآن مجید کاحکم کہ تم فیصلے باہم مشورے سے کیا کرو کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کہ حکومت کے انتظامی امور کو بہتر طور پر چلانے کیلئے مناسب ترین شخص کے انتخاب کی خاطریہ طرزعمل اختیار کیا جاے۔ مغربی ملوکیت و جمہوریت نے بھی اسے اپنایا ہے۔برطانوی ملوکیت میں ملکہ الزبتھ انتخاب کروا کر حکومت کرنے کا کام پارلیمان اور وزیراعظم کو سونپ دیتی ہیں اور خود مہارانی بن کر عیش کرتی ہیں جس سے عوام بھی کسی قدر بہل جاتے ہیں۔ انتخابات کے بھی مختلف اندازہیں مثلاً ہندوستان اور لبنان میں سربراہ مملکت کا انتخاب بلاواسطہ ہوتا ہے لوگ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور اکثریتی جماعت وزیراعظم کا تعین کرتی ہے لیکن امریکہ اور ایران میں لوگ بلواسطہ صدر کو منتخب کرتے ہیں اور دونوں طریقوں کی یکساں پذیرائی ہوتی ہے۔

عوام کی رائے تو خیر انتخابی عمل سے حاصل کی جاتی ہے لیکن رائے ہموار کرنے کی ذمہ داری اور اسے عوام تک پہونچانے کا کام ذرائع ابلاغ سے لیا جاتا ہے۔ میڈیا کوویسے تو آزادیٔ اظہار رائے کا سر چشمہ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے الاماشائ اللہ چند استثنائ کو چھوڑ کر باقی کا بہت برا حال ہے۔میڈیا فی زمانہ اپنے آقائوں کا زر خرید غلام بن گیا ہے اسکا عوام کی رائے سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔اس کا کام اپنے سیاسی و معاشی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ان کی حمدوثنا بیان کرتے رہنا اور ان کے مفاد کی خاطر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے۔ یہ لوگ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ جو امیدوار ان پر روپئے لٹانے سے قاصر رہتے ہیں انہیں کوئی جان ہی نہیں پاتا امریکی انتخاب میں اسبار بارک اوبامہ اور جان میک کین کے علاوہ مزید چار امیدوار تھے جن کا نام تک لوگ نہیں جان پائے ان کی قابلیت و صلاحیت میں کوئی کمی نہیں تھی بلکہ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ کا پیٹ بھرنے کیلئے ضروری چندہ جمع کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اگر یقین نہ آتا ہو تو مندرجہ ذیل ٹیبل کو دیکھیں

امیدوار
جمع شدہ چندہ ﴿ڈالر﴾
خرچ ﴿ڈالر﴾
حا صل شدہ ووٹ
خرچ فی ووٹ ﴿ڈالر﴾
بار ک ا وبامہ
۱۱۵،۶۴۹ ، ۲۳۵
۸ ۱۲،۷۵۵،۳۱۵
۵ ۱ ۲، ۸۹۴، ۹۶
۹۳ئ ۷
جان میک کین
۵۸۴، ۶۰۰، ۹ ۷ ۳
۲۲۴، ۶۶۶، ۶۴ ۳
۰۴ ۲، ۸۴۹،۹۵
۸۷ئ ۵
رالف ناڈر
۰۸۱، ۶۹۴ ، ۴
۸ ۲۶، ۷۸۱، ۴
۰۲۷، ۸ ۳۷
۷۶ئ ۵
باب بار
۱ ۸۶، ۳۸ ۳، ۱
۲۰۲، ۵ ۴۳، ۱
۳۱۷، ۳ ۲۵
۷۵ ئ ۲
چک بالڈون
۳۷۶ئ ۱۶ ۲
۹۰۳ئ ۴ ۳۲
۷ ۳۴ئ ۹۹۱
۷۱ئ ۱
سنتھیا میک کنی
۰۳۱ئ ۰۴ ۲
۸۶۹ئ ۸ ۳۲
۰۸۶ئ ۱۶۱
۸ ۴ئ ۱

امریکی انتخابات میں دولت کا جادو کس طرح سر چڑھ کر بولتا اس کا یہ نمونہ ملا حظہ کرنے کے بعد میڈیا کا کردار اپنے آپ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ یہو دیوں کے پاس اگرچہ دولت اور روپیہ ہو تووہ اسے کیوں نہ چندہ کے طور پر امیدواروں پر لگائیں اس لئے کہ اسکو مڑ کر میڈیا کے ذریعہ انہیں کے جیب میں آنا ہے لیکن اس کے ساتھ اقتدار پر اثر و رسوخ بھی آئیگاجس کے ذریعہ استحصال کی مزید سہولتیں حاصل ہونگی اور بدعنوانی کے خلاف تحفظ بھی فراہم ہو جائیگا۔ کسی بھی عقلمنددنیادار سرمایہ دار کو اور کیا چاہیے؟ میڈیاکا تو یہ ہے کہ جس سے پیسہ پائے اسکے گن گائے اور جس سے نہ پائے اسے بھول جائے اس سے قطع نظر کے کون کیسا ہے؟اقبال نے کہا تھا ò
آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
حق اور باطل کو خلط ملط کر کے سب کچھ مشکوک کردینے والے ذرائع ابلاغ کا اقبال کے اس شعر سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس کا حال تو یہ ہے کہ ò
آئین غلامانہ سچ بات چھپا جانا
دولت کے پجاری کا پیشہ شرر افشانی

لبنان میں گذشتہ ماہ انتخابات ہوے اس میں دو محاذوں کے درمیان مقابلہ تھاایک کی رہنمائی سعد حریری کر رہے تھے جسے مغرب نواز کہا گیا اور دوسرے میں حزب اللہ شامل تھی اس لئے اسے قدامت پرست قرار دیا گیا۔حریری کی نام نہاد مستقبل تحریک کے پاس نہ تومستقبل کا کوئی منصوبہ تھا اور نہ کوئی نظریاتی بنیاد تھی خو د حریری کا تعلق سعودی عرب کے شاہی خاندان سے ہے اور یہ بہت بڑا سرمایہ دار خاندان ہے لیکن ان کے محاذ میں نہ صرف ترقی پسند اشتراکی جماعت تھی بلکہ طرابلس بلاک کے اشتراکی بھی شامل تھے۔ یہ محاذ کسی نظریہ کے بجائے مفاد کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اسلام کے بغض میں اشتراکیوں نے حسب معمول سرمایہ داروں کا ساتھ گوارہ کر لیا تھا۔یہ لوگ اسرائیلی حملے کے وقت خاموش تماشائی بنے رہے یاآنسو بہاتے رہے تھے رفیق حریری کے قتل کے حوالے سے لگاے گئے سارے بے بنیاد الزامات کو بین الاقوامی عدالت نے مسترد کر دیاتھا اس لئے ان کے پاس منفی پروپگنڈہ اور سیاسی جوڑ توڑ کے علاوہ کوئی چارئہ کار نہیں تھااور انہوں نے یہی کیا عین انتخاب سے قبل مخالف محاذ کے عیسائی صدر کو لالچ دیکر اپنے ساتھ ملا لیا۔ اس کے مقابلے میں حرکت عمل تھی جس کے محاذ میں حزب اللہ شامل تھی حزب اللہ جدید ترین اسلحہ سے لیس وہ جماعت ہے جس نے حکومت کی امداد کے علی الرغم ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی اسرائیلی فوج کے دانت کھٹے کر دئیے اس شکست کے زبردست اثرات اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی پڑے اور بالآخر یہود اولمرٹ کو رسوا ہوکر جانا پڑا اسکی قدیمہ پارٹی کوانتخاب میں منہ کی کھانی پڑی۔ لیکن لبنان انتخاب کے نتائج حزب اللہ محاذ کے حق میں نہیں آئے۔ باوجود اس کے کہ اس محاذ نے اپنے مخالفین سے دس فی صد زیادہ ووٹ حاصل کئے یعنی کل گیارہ لاکھ انچاس ہزارمیں سے آٹھ لاکھ پندرا ہزار وو ٹ اسے ملے اس کے باوجود اسکے منتخب شدہ نمائندوں کی تعداد ۹۶ کے مقابلے صرف ۷۵ ہی رہی۔اس کے ساتھ شریک عرب قومی جماعت کو نو فی صد سے زیادہ ووٹ ملے مگر وہ ایک سیٹ پر بھی کامیابی درج کرا نے میں ناکام رہی۔کرناٹک میں بھی گذشتہ چنائو میں یہ ہوا تھا کہ کانگریس مجموعی طور پر زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ہار گئی تھی۔ حزب اللہ نے پوری کی پوری چودہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی اس کے باوجو د قومی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرلیا۔ لیکن کسی نے اسکی رواداری و کشادہ دلی کو نہیں سراہا بلکہ سب کے سب اسکی شکست کی خوشی مناتے رہے اور کہتے رہے کہ لبنان کی عوام نے حزب اللہ کو رد کر دیا حالانکہ حقیقت اس کے خلاف تھی۔مستقبل محاذ کو صرف ایک تکنیکی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

لبنان میں تو اسلام پسندوں نے رواداری کا ثبوت دیا لیکن ایران میں اس کے ب رخلاف ہوا۔ انتخابات میں محمود احمدی نزاد نے ترسٹھ فی صد ووٹ حاصل کئے جبکہ تجدد پسند میر حسن موسوی کو چونتیس فی صد پر اکتفا کرنا پڑا۔اس کے باوجود موسوی نے نہ صرف دھاندلی کا بے بنیاد الزام لگایا بلکہ اپنے حامیوں کے ساتھ سڑک پر اتر آئے اور تہران کی گلیوں میں فساد برپا کر دیا۔ سرکاری گاڑیاں جلنے لگیں ناحق خون بہنے لگا امریکہ نے ایران میں بد امنی پھیلانے کیلئے جو کثیر رقم کی تھی وہ رنگ لانے لگی ایران کی سپریم کائونسل نے تحقیق کرنے کا بلکہ دس فی صد ووٹوں کی پھر سے گنتی کا یقین دلایا لیکن موسوی نہ سپریم کائونسل کے بلانے پرآتے ہیں اور نہ غیر قانونی مظاہرے بند کرتے ہیں وہ دوبارہ انتخاب کی اپنی ضد پر اڑے ہوے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ انتخاب کے باوجودہار جائیں گے تو کیا اسے تسلیم کریں گے یا پھر ہنگامہ شروع کردینگے اور یہ سلسلہ نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ کیا بلیک میلنگ نہیں ہے ؟ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سارے مغرب کی ہمدردیاں میر حسن کے ساتھ ہیں۔میر حسن کی حمایت میں آنے والے چند ہزار کو خوب سراہا جاتا ہے اور ان کے ذریعہ کی جانے والی آیت اللہ علی خامنہ آئی کی نافرمانی کی جی بھر کے تعریف و توصیف کی جاتی ہے جبکہ آیت اللہ کا خطبہ سننے کی خاطربن بلائے جولاکھوں لوگ جمع ہوجاتے ہیں ان کا کوئی ذکر تک نہیں ہوتا کیا ان کی رائے کوئی معنی نہیں رکھتی؟میڈیا کا حال یہ ہے کہ وہ کوریا میں ایران کے فٹ بال میچ میں ہونے والے مظاہرے کی تصویر شائع کرتا جس میںسارے سارے کورین دکھائی دیتے ہیں دو لوگ جن کی ناک چپٹی نہیں ہے وہ بھی حلیہ سے امریکی معلوم ہوتے ہیں اس کے باوجود مگرمچھ کے آنسو جاری ہیں برطانوی حکومت نے ایرانی عوام کے حقوق کی پامالی کا بہانہ بنا کرکروڈوں کی ایرانی املاک کو غصب کر لیا کیا یہ کھلے عام حق تلفی نہیں ہے ؟

نرسمھا راو کی قیادت میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بنکر سامنے آئی تھی لیکن وہ اکثریت سے محروم رہ گئی تھی صدر مملکت نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی اٹل سرکار تیرہ دنوں میں ٹل گئی پھر تیسرے نمبر کی جماعت جنتا دل کے دیوے گوڑہ وزیراعظم بنے کانگریس نے حمایت کی لیکن بی جے پی نے انہیں تسلیم کر لیا سڑک پر نہیں اتری۔۰۰۰۲ ÷ کے امریکی انتخاب میں الگورے نے مجموعی طور پر بش سے پانچ لاکھ چالیس ہزار زائد ووٹ حاصل کئے۔نمائندگی کے لحاظ سے بش کے ساتھ ۱۷۲ تو الگورے کے ساتھ ۶۶۲ ممبران تھے لیکن ان کوصرف ایک کی بڑھت حاصل تھی اسلئے کہ امریکی دستور کے لحاظ سے ۱۷۲ ممبران کی حمایت لازمی تھی جسے حاصل کرنے کیلئے بش نے فلوریڈا میں بڑے پیمانے پر دحاندلی کی وہاںان کا بھائی جیب گورنر تھا۔الگورے کی شکایت پر فلوریڈا کی عدالت نے دوبارہ ہاتھ سے گنتی کا حکم دیا اس لئے کہ فرق صرف ۲۳۵ ووٹ کاتھا لیکن بش اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ پہونچ گئے جہاں چار کے مقابلے پانچ ججوں نے فلوریڈا عدالت کے حکم کو مسترد کر دیا وقت کی تنگی کا بہانہ بنایا گیا جو غلط تھا اس لیے کہ کئی ریاستوں کے نتائج ظاہر ہونا باقی تھے اور کافی وقت تھا اس کے باوجود الگورے نے عدالت کے غیر منصفانہ فیصلے کوتسلیم کرلیا اور سڑک پر نہیں اترے دنیا نے انہیں جمہوریت نواز قرار دیا لیکن موسوی نے نہ صرف عوام کے فیصلے کو ٹھکرایابلکہ سپریم کائونسل کے بلانے پر حاضر ہونے سے انکار کیا اس کے باوجود انہیں ہیرو بنایا جا رہا ہے۔کیا یہ رویہ مبنی بر انصاف ہے؟ اور ایسا کرنے والا میڈیا ا ٓزادیٔ اظہار رائے کا نقیب ہے؟ذرائع ابلاغ کے لوگوںکو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا کرنے سے خود اسکی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ عوام کا اعتماد اسپر سے اٹھ رہا ہے وہ وقت دور نہیں ہے جب اسکی سچی بات پر بھی کوئی کان نہیں دھرے گا اس طرح مصنوعی خبروں کی یہ دوکان خود اس کے اپنے بوجھ تلے ڈھ جائے گی۔لوگ ذرائع ابلاغ سے اشتہار بازی کی نہیں سچائی کی توقع رکھتے ہیں اور جب یہ توقعات خاک میں مل جائیں گی تو تماشہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ بقول شاعر ò
آئینہ خا نئہ تشہیر کی سج دھج پہ نہ جا
سب تماشہ ہے تماشہ کو دوامی نہ سمجھ

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......