ِِآئیں ایذاء رسانی کا تدارک کریں

lalikjan's picture

چہرے پہ سجا ایک معمولی تاثرواشارہ کسی دوسرے کی دل آزاری، اسکی عزت نفس کو مجروح کرنے یااسکے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرنے کا سبب بن سکتاہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نظر آنے اور نہ نظر آنے والے متعدد رویے ہم نظر انداز کردیتے ہیں جوکہ بالواسطہ طور پر دوسرے کیلئے تکلیف اور دل آزاری کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔نتیجتاً یہی رویے جب بڑھ جائیں تو طاقتور طلبائ و طالبات کمزور ساتھیوں کے لیے دہشت اور ایذائ رسانی کا مستقل ذریعہ بن جاتے ہیں۔اس صورتحال میں بہت سے کمزور طلبائ یا تو سکول جانے سے ہچکچاتے ہیں یا تعلیم کی طرف توجہ نہایت کم ہوجاتی ہے۔

اس سے قبل کہ ہم ایذائ رسانی "Bullying" کے منفی اور شخصیت شکن اثرات کا ذکر کریں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ایک طالب علم دوسرے ساتھی کو یہ ’’ایذائ رسانی ‘‘ کن مختلف طریقوں سیا بہم پہنچاتا ہے ۔ایک طالب علم اس وقت اس مشق ستم "Bullying" کا شکار ہوتا ہے جب ایک یا متعدد طلبائ ناقابلِ قبول رویوں مثلاًگالی گلوچ‘ دھکا دینا‘ دھینگا مشتی ‘ ہاتھا پائی‘ مختلف ناقابل قبول اشارے ،کسی کو کمرے میں بند کرنا،کسی گروپ سے دوسرے ساتھی کو نکال دینا یا اس کا سوشل بائیکاٹ کردینا شامل ہے ،کے ذریعے دوسرے کو ایذائ رسانی کرتے ہیں۔ یہ کاروائی مسلسل جاری رہتی ہے اور مفعول کیلئے یہ مشکل ٹھہرتا ہے کہ وہ اس کا دفاع کر سکے۔

بالعموم ہم بچپن کی معصوم شرارتوں اور معصومیت کو طفلی خوبصورتی کے خوبصورت الفاظ کے لبادے میں نظر انداز کر دیتے ہیںاور بھول جاتے ہیںکہ ان منفی رویوں کے دوسرے بچوں کی شخصیت پرگہرے اثرات ہیں۔بڑوں کو اس بات کا بخوبی احساس رہنا چاہیے کہ ان کاروائیوں کے مستقبل پر دور رس کیا نتائج و اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اس صورتحال کے جنم لینے کو کچھ زیادہ وقت بھی درکار نہیںہوتاجب شرارتی اور کم فہم طلبائ کا ایک گروپ کسی ایک طالب علم کو مسلسل نشانہ تنقید و تضحیک بنا سکتا ہے۔ اساتذہ کیلئے اس امر اور پہلو کا ادراک اشد ضروری ہے ۔

ایذائ رسائی کے مختلف طریقے اور انداز ہو سکتے ہیں۔یہ براہ راست یا مختلف غیر محسوس حرکتو ں و سرگرمیوںسے بھی ہو سکتی ہے۔براہ راست ایذائ رسانی ایک طالب علم زبانی کلامی یا فزیکل طریقوں سے دوسرے کو تکلیف دے سکتا ہے۔مثال کے طور پر ایک طالب علم جب کسی کو دھکا دے۔لات مارے،گھتم گھتا ہو، یا اس پر تھوکے تو یہ براہ راست ایذائ رسانی کے زمرے میں آتا ہے۔یہ براہ راست شرارت و ایذائ رسانی دوسرے کیلئے تاحیات افسوس ،بے سکونی ، اور جسمانی معذوری کا موجب بن سکتی ہے۔میرے ایک کلاس فیلو کاٹوٹا ہوا دانت ماضی کے اس ناخوشگوار واقعے کی یاد دلاتا ہے جب اس کو ساتھی طالبعلموں کی طرف سے ایذائ و تکلیف اور چھیڑ خانی کا نشانہ بنایا گیا۔ان منفی رویوں کے اثرات مخفی انداز میں دوسروں کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ایک تلخ اور تکلیف دہ حصہ۔

زبانی کلامی ایذائ رسانی بھی ہمارے سکولوں میں عام ہے۔اور اس میں دوسرے ساتھیوں کو جھاڑپلانا‘ ڈانٹنا‘ تنگ کرنا ہتک آمیز فقرے کسنا،برے برے ناموں سے پکارنا وغیرہ شامل ہے۔اس اہم مسئلے کی طرف اساتذہ اور والدین کی توجہ نہایت ضروری ہے۔ہمارے معاشرے میں لوگ نظریاتی اختلافات میں بہت کٹر اور شدید ہیںاور یہ انکی پسند ناپسند تقاریر و مباحثوں اور انکے مختلف انداز سے کی جانے والی گروپ بندی سے بھی عیاں ہوتی ہے ۔جب ایک ہی مکتبہ فکر کے سٹوڈنٹ اکھٹے ہوتے ہیںتو وہ دوسرے طلبائ کا مقابلہ اپنے اپنے انداز اور تلخ مکالمات سے کرتے ہیںاو ر یہ مکالمات بہت جلد "Bullying" ایذائ رسانی کا سبب بن جاتے ہیں۔

ایذائ رسانی کا ایک نہایت گھمبیر اور پیچیدہ انداز مختلف اشاروں کنائیوں سے کی جانے والی ایذائ رسانی ہے ۔اس طریقہ یا انداز میں جنسی خوف و ہراس ‘ دھمکیاں‘غیر اخلاقی اشارے اور غیر محسوس انداز میںکیے جانے والے ناقابل قبول انداز شامل ہیں۔یہ عوامل نہ صرف اخلاقی زوال کا سبب بنتے ہیںبلکہ غیر اخلاقی عادات کی پختگی کا موجب بھی ٹھرتے ہیں۔اس طرح ایذائ رسانی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ جس میں طلبائ ساتھی طلبائ کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیںکہ دوسرے ساتھی کی مارپیٹ کی جائے،اس کو تنگ کیا جائے ،اس کے خلاف مختلف افواہیں پھیلائی جائیںاور اسے دانستہ طور پر گروپ سے نکال دیا جائے یااس کے خلاف بدکلامی کی جائے۔

ایذائ رسانی کے یہ تمام طریقے اور قسمیں طلبائ کی شخصیت پر نہایت ناخوشگوار اور تباہ کن اثرات چھوڑتے ہیں۔یہ نہ صرف ان کو عدم تحفظ کا احساس دیتے ہیںبلکہ خوف و ہراس انکی شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ایک سکول میں اس منفی رویے سے خطرناک ہتھیار نہیں ہوسکتا۔یہ المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں یہ سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا موضوع ہے اور اس مسئلے کی طرف توجہ کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔یہ بات نہایت توجہ طلب ہے کہ ایذائ رسانی بچوں میں عزت نفس کو مجروع کرنے‘ بیماری‘ سکولوں سے غیرحاضری ،ڈپریشن اور اعصابی بیماریوں جیسے مسائل کا سبب بنتی ہے۔

ایذائ رسانی نہ صرف اس طالب علم کی شخصیت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے جسے براہ راست نشانہ بنایا جارہا ہوبلکہ ہمرائیوں کے لیے بھی تقصان دہ ہے ۔ وہ اپنے آپ کو کمزور اور کم حوصلہ متصورکرتے ہیں۔جیسے انکی شخصیت غیر معنی ہو اور نشانہ بننے وا لے سے عملی ہمدردی نہ کر سکتے ہوں۔ایک معمولی واقعہ سے تمام صورتحال پریشان کن اور گھٹی گھٹی بن جاتی ہے۔اساتذہ نہ تو پر اثر انداز میں پڑھا پاتے ہیںاور نہ ہی طلبائ کو پڑھائی کیلئے ایک موزوں ماحول میسر آتا ہے اور تمام کوششیں ضائع جاتی ہیں۔ ایذائ رسانی کا شکاربننے والے اور ایذا ئ رساںدونوں کو نفسیاتی طریقوں سے توجہ اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔انکو گائیڈنس اور کونسلنگ ﴿رہنمائی و مشاورت﴾ بہم پہنچانی چاہیے اور مختلف نفسیاتی طریقوں اور تکنیکوںسے ماہرین کو اپنا کردار بطور ’’بڑے‘‘ ادا کرنا چاہیے۔

ایذائ رسانی کے رحجان پر قابو پایا جاسکتاہے۔سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس منفی رویے کے مختلف ظاہر و مخفی طریقوں کی نشان دہی کی جائے اور ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔سکولوں کے اندر اس رویے کو قابو کرنے کیلئے نگران و ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیںاور نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایاجائے۔ان رویوں سے نمٹنے کیلئے نتائج و سزا کا عمل شفاف بنایا جائے تاکہ طلبائ درست و غلط، اچھائی و برائی اور نیکی و بدی کے درمیان ایک واضح حد مقرر کر سکیں۔سکول انتظامیہ کو طلبائ کی طرف سے ساتھیوں کو ایذائ رسانی کے معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ طلبائ کے ذہنوں میںسنگین نتائج کا واضح عکس ثبت ہو۔

ذہنی و جسمانی ایذائ رسانی نہ صرف والدین اور اساتذہ کیلئے توجہ طلب معاملہ ہے بلکہ سکول انتظامیہ، اساتذہ اور معاشرے کے تمام افراد اس منفی انداز عمل کو روکنے کیلئے ذمہ داریوں کے حامل ہیں۔بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑدینا دانشمندی نہیں۔ان کے گردنواح میں بڑوں کی موجودگی مثبت انداز میںر ہنی چاہیے۔یہ وقت کا نہایت اہم تقاضہ ہے کہ بچوں کی تعلیمی بنیادیںنہایت مضبوط اور جدت پر منبی ہوں جو کہ انکی شخصیت کے مثبت پہلوؤں اور رویوں کا احاطہ کر سکیں۔طلبائ کا ایک دوسرے کی طرف مثبت، صحتمندانہ رویہ و انداز عمل، معاشرے کی دور رس ترقی کا آئینہ
دار ہے۔ ایک آزاد اور ترقی یافتہ معاشرے کا آئینہ دار۔

زاہد یعقوب عامر
عامر ہائوس کالیکی منڈی تحصیل و ضلع حافظ آباد
ph 0333 5153370
lalikjan@yahoo.com

zahid.aamir@yahoo.com. This article is about the social and educational problems of students which become a psychological disorder. every body should give due attention to such negative behaviors of students when they bully each other. Elders should play their role for such common negative behaviors when students bully each other with taunting, hitting, negative gestures, calling names, etc

Share this
Your rating: None Average: 5 (2 votes)