نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

tahanizami's picture

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دِیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

اُمت مسملہ کی پاسبانی اور عالم اسلام کی شمع کو تاباں رکھنے کے لییے ہر دور میں خانقاہوں نے وہ جواہر قدسیہ عطاء فرمائے ہیں کہ آج تک اُن نفوس متبرکہ کی کرنیں پوری اُمت کے لییے رہنمائی کا روشن مینار ہے۔

مگر افسوس موجودہ معاشرہ جس ڈگر پر گامزن ہے، اُس کیے لییے یقیناً ۔۔۔۔نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری۔۔۔ کا فریضہ انجام دینا فرضِ کفایہ بن چکا ہے، کہ اگر بستی میں سے کوئی بھی یہ فریضہ انجام نہ دے سکا تو وبال پوری بستی پر آئے گا۔ اِدھر یہ حال ہے کہ ہم خانقاہی لوگوں پر ایک چھاپ یہ آگئی ہے کہ بس مٹھائی پھل جمع کئے ،کچھ قوالی سنی، کچھ دم پھونک کیا زیادہ ہمت ہے تو سالانہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ بھی اہتمام کرڈالا۔بس اِسی کا نام خانقاہی نظام یا تصوف رکھ چھوڑا ہے۔

ایسا ہرگز نہیں ہر سچی خانقاہ مذکورہ بالا رسوماتِ یاد آوری کے ساتھ ساتھ اپنے وابستگان اور مریدوں کے لییے مکمل نہ سہی جزوی تربیت کا بندوبست ضرور رکھتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مریدین اور وابستگان اپنے شیخ کی صحبت کو روزانہ اور ہفتہ وار معمولات کے بجائے ماہانہ اور سالانہ حاضری پر موقوف رکھیں۔

درآنحالیکہ ، مذکورہ بالا شعر میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے طنزاً حالتِ مرید اور شانِ پیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جعلی پیروں کے طلسماتی نظامِ آستانہ کو اُجاگر کیا ہے۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر موجودہ دور میں کچھ سیاسی پیروں اور خود ساختہ مرشدوں کی وجہ سے ، واقعی آج کا مسلمان مذکورہ بالا سوچ پر دل برداشتہ ہوچکا ہے، تو کیا خالص اسلامی تصوف کو ہندوانہ نظامِ خانقاہیت (ویدانتی)،آتش پرستانہ نظامِ خانقاہیت(زرتشتی)،بھکشو نظامِ خانقاہیت(بُدھا)،کلیسائی نظامِ خانقاہیت (پادری) اور صیہونی نظامِ خانقاہیت (رِبّی) سے علیحدہ اور صاف ستھرا کرکے پیش کرنے کا وقت نہیں آگیا ہے؟

اگر ایسا ہے! تو آیٔیے مرشدِ اصحاب صل اللہ علیہ والہ وسلم کے سوۂ حسنہ اور محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر نظام المدارس صوفیائ کے تحت خالص اسلامی خانقاہی نظامِ تدریس و تربیت کو اپنا کر زبانِ غیر کو بند کردیں جو یہ کہہ رہی ہے کہ

قم بازن اللہ جو کہتے تھے وہ رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

خیراندیش
خواجہ طہ عامر نظامی ۔۔۔۔نائب ِ امینِ ملت
درگاہِ خاص محبوبِ الٰہی ۔دہلی شریف

tahanizami@hotmail.com

Share this
AttachmentSize
Ghar Peer Ka Bijli kay Caragoon say hai Roshan.gif109.78 KB
Your rating: None Average: 5 (1 vote)