نمایندگی کا حق

siaksa's picture

پاکستان میں لوڈشیڈنگ میں کب بند ھوگی اسکا تو جواب تو شاید کسی کو تو خواب میں بھی نظر نھیں اسکتا کیکونکہ اس کے لیے کوی مضبطوط پلاننگ ابھی تک کی ھی نھٰیں جاسکی ھے۔ اور نہ کوی امید نظر اتی ھے مستقبل قریب میں۔ کاش کسی کو ایران کی بجلی فراھم کرنے کی افر پر ترس اجاے اللہ سے امید ھے کہ حکمرانوں کو عقل سلیم عطا کرے گا کہ وقت کے تقاضوں پر عمل کرکے عوام کی ضروریات کا بھی احساس کریں۔ اگر احساس کی بات کریں تو اج پھر متحدہ قومی موومنٹ اس کارخیر پر بازی مارتی نظر اتی ھے ۔ گورنر سندہ جناب عشرت العباد جس دل جمعی اور محنت سے کراچی الیکڑک سپلای کمپنی کی بازپرس کررھے ھیں اور انکو کو پابند کررھے ھیں کہ اگر لوڈشیڈنگ واقعی طلب اور رسد کے فرق کو قابو کرنے میں ضروری ھے تو اسکو باقاعدہ کسی پروگرام کے تحت کیا جاے تاکہ عوام کے روز مرہ کے کاموں میں کوی دقت نہ ھو اور انکی محنت رنگ بھی لارھی ھے اور کراچی الیکڑک سپلای کمپنی کا قبلہ کافی حد تک قابو میں اتا جارھا ھے اور اسکی کورڈینشن دوسرے اداروں کے ساتھ بھی مالی اور سپلای کی مد میں اچھی جارھی ھے۔ اسکا سھرہ  عشرت العباد اور انکی جماعت کو جاتا کہ عوام کی نمایندگی کا حق ادا کررھے ھیں۔ اور خاص طور پر کراچی کے گنجان اباد اور پسماندہ اور غریب علاقوں کے مقین جو جنریڑز کو افورڈ نھیں سکتے انکوں مقرر کردہ تین گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر عوام کے نمایندے انکی بھلای کے لیے بھاگ ڈور کررھے ھیں تو عوام کا بھی بھت بڑا فرض ھے کہ بجلی کی چوری کے واقعات پر بھی نظر رکھیں اور اسکا کا قلعہ قمع کرنے میں کراچی الیکڑک سپلای کمپنی کا ساتھ دیکر حکومت کا بھی ساتھ دیں۔ اور ملک کے دوسرے صوبوں کے گورنرز اور وزیر اعلی حضرات پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری ھے وہ بھی  گورنر سندہ جناب عشرت العباد کے نقش قدم پر چلتے ھوے لوڈشیڈنگ کے مسلے کو اپنے موجودہ ذرایع کے مطابق حل کریں۔ اچھے کام خود ھی سر چڑھکر بولتے ھیں کیوں نہ انکوں اپنایا جاے تاکہ جس عوام نے منتخب کیا ھے انکے اگے تو سرخروں تو ھونگے ھی لیکن جو اجر اللہ کے پاس ھے عادل حکمرانوں کا اسکا کا اندازہ انسان کرھی نھیں سکتا۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />

Share this
No votes yet