نقطہِ نگاہ از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Mon, 07/07/2008 - 05:02

نقطہِ نگاہ نقطہ سے نہیں، نگاہ سے ہوتا ہے۔ نگاہ کا معاملہ اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ منفرد زاویہِ نظر انوکھی بات سے نہیں، متاثر کن انداز سے نہیں، دِل کے خیال کی کشش کی تاثیر سے ہوتا ہے [١] ۔ انداز بیاں یہ نہیں کہ حقیقت سے پَرے ہو، انداز تو یہ ہے کہ اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن ہو۔ منفرد نقطہِ بیان مایوسی میں جلتا ہوا چراغ ہے تو عروج میں زوال کے خطرات سے تنبیہہ بھی۔ دانشور کی نظر خامیوں کی تلاش نہیں ہوتی۔ بلکہ خامی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ علاج کا نسخہ بھی پیش نظر ہوتا ہے۔ بلا وجہ نقطوں میں نکتہ نکالنا، اُلجھے ہوئے اذہان کا اُلجھے رہنا ہے۔ دانشور اُلجھا نہیں کرتے سلجھا دیا کرتے ہیں۔ یہی دانش کی حقیقت ہے سچائی کے ہمراہ بہتر سے بہتر کی تلاش میں غوروفکر۔

نکتہ وروں نے ہم کو سکھایا ہے، خاص بنو اور عام رہو۔
محفل محفل صحبت رکھو مگر دُنیا میں گمنام رہو۔(١)
ایک تصویر کے کئی رُخ ہوتے ہیں، ہر رُخ چہرہ کی طرح جُدا ہوتا ہے، چہرے لفظوں کی بناوٹ کی مانند مختلف الاشکال ہوتے ہیں؛ نہ صرف بناوٹی بلکہ خاصیتی و تاثیری اعتبار سے لفظ، الفاظ سے منفرد ہوتے ہیں۔ انسان کی ظاہری اور باطنی کیفیات و حالات سے آگاہی صرف وُہ ( خاص) نگاہ والا ہی جان سکتا ہے، جسکو اللہ کی جانب سے خاص بصر سے بصیرت عنائیت ہو جائے۔ ہماری حد لفظوں کی عام معنٰی کی ظاہری حد تک رہتی ہے۔ یونہی خواص کے لیئے الفاظ خاص معنی اور خاص الفاظ مخفی معنی بھی رکھتے ہیں۔ اِن پوشیدہ معنوں کا (خاص بندوں پر ) کھل جانا، اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اکثر انسان اسی کوشش میں غلط ترجمہ کر کے غلطی بھی کھا جاتا ہے۔ ’عنائیت ہو جانا‘ اور ’عنائیت کی توقع کرنا‘ یہی فرق ہے۔
”دلوں کےحال اللہ ہی جانتا ہے۔“ کسی کی نیکی اللہ کی رضا کے لیئے ہیں تو کسی کی ظاہری نمود کے لئے۔ ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہیں۔“ ہم کسی کے دِل کا حال اور نیت نہیں جانتے لہذا رائے قائم کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے جو دوسروں کی نگاہ میں گناہگار ہو، وُہ اللہ کے ہاں عالی مرتبت کا مقام رکھتا ہو۔ یہ صرف خاص اشخاص اللہ کی مرضی سے جان پاتے ہیں۔ مگر یہ بھی ہر شخص کی حد کی حدود تک ہی رہتی ہے۔
کسی کی نیت کیا ہے؟ اُس نیت سےعمل کیا ہے؟ کونسا ردعمل رونما ہوگا؟ اُس عمل کی صورت میں’وقتی نتیجہ‘ اور ’حاصل نتیجہ‘ کیا ہوگا۔ ہم نہیں جان سکتے۔ بیشمار وقتی کامیابیوں کا حاصل نتیجہ ناکامی بھی ہوسکتا ہے اور زندگی بھر کی تمام ناکامیوں کا آخر نتیجہ بہت بڑی کامیابی بھی ہوسکتا ہے۔ ایجاد انسان کے تحفظ کے لیئے بنائی جاتی ہے (وقتی کامیابی)، مستقبل میں وہی ایجاد اِنسانی بقاء کے لیئے خطرہ ہو سکتی ہے (حاصل نتیجہ)۔ شادی دو خاندانوں کو قریب لاتی ہے، مگر طلاق دوری کا سبب بنتی ہے۔ کیا کوئی شادی کا انجام ناکامی سوچ سکتا ہے؟ وقتی نتیجہ کےثمرات تو ہر کوئی اپنی سمجھ بوجھ سے بیان کر سکتا ہے۔ مگر اُس معاملہ میں ہماری زندگی کی فی الحقیقت کیا تربیت ہوئی؟ کیا مقصد تھا؟ حاصل نتیجہ کیا ہوگا؟ وُہ آگاہی ہمیں اللہ وقت کے ساتھ ساتھ کرتا ہے۔ ہم نقطہ نگاہ مخصوص زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ ہر انداز اپنے مخصوص حالات کے تحت بڑے مضبوط دلائل، جاندار قواعد، اور عمدہ کلیات کی مدد سے پیش کرتا ہے۔ ہر زاویہ اپنی اپنی جگہ درست مگر اللہ کے معاملات کسی مخصوص دائرہ کے ماتحت نہیں۔ اُسکی مشیت کیا ہے۔ اُس راستے پر ہم اپنی رائےقائم نہیں کر سکتے۔ اللہ کی منشاء اللہ ہی سے ہے۔
ہم ہر روز مختلف مقامات سے منزل کا تعین کرتے ہیں۔ مقصد کی راہ میں سفر کا آغاز کہاں سے کرتے ہیں۔ منزل کیا سے کیا ہوگئی۔ توجہ کیا تھی۔ تبدیل ہوتے ہوتے کہاں تبدیل ہوگئی۔ کہ اس تبدل نے زندگی بدل ڈالی۔ سفر کہاں سے شروع کیا؟ کدھر جا پہنچا، تصور بھی نہ تھا۔ یہ اللہ کی جانب سے بڑے ہی بانصیب کے نصیب کی بات ہے۔ کوئی مجازی عشق سے عشق حقیقی تک جا پہنچتا ہے۔ تو کوئی مجازی سے بربادی تک کا سفر اختیار کرتا ہے۔
ایک ہی نقطہ پر نگاہِ زاویہ مختلف ہوتے ہیں۔ اُس ہی نقطہ کے نتائج مختلف افراد کے لیئے بیک وقت متضاد بھی ہو سکتے ہیں۔ بارش ایک فصل کی آبیاری ہے تو دوسری فصل کی بربادی بھی ہوسکتی ہے۔ سانپ کا زہر انسان کی موت کا سبب تو دوسری جانب زہر زہر کا تریاق ہے۔ ایک ہی پھل کا چکھنا کسی کی حیات ہے تو دوسری جانب کسی کی موت بھی۔ کل جو نکتہِ خیال تھا آج اُس میں خامیاں نظر آتی ہیں۔ آج کا نکتہ نگاہ آئندہ مزید بہتر بھی ہوسکتا ہے۔
لیجئیے ایک کہانی سن لیں: ایک صاحب نے ایک صاحبہ سے دوران گفتگو کچھ سوال کیئے جس میں دونوں کو دورانِ شام ٹہلنا پسند تھا، فارغ اُوقات میں کتابیں پڑھنا مشغلہ تھا، اچھا لباس اور شائستہ گفتگو دونوں کو پسند تھیں۔ یکایک صاحب کے دِل میں خیال آیا کہ نوجوان لڑکا اور لڑکی ان ہی باتوں کو اپنی common understandings سمجھتے ہیں وجہ یوں ہے کہ صاحب اور صاحبہ کے مزاج بظاہر تو بڑےہ ی یکساں تھے۔ مگر حقیقتاً اطوارِ مقاصد مکمل طور پر یکسانیت کے باوجود متضاد تھے۔ کیا بات ہی! ایک ہی چیز کسی کے لیئے مزاج شناسی بنا رہی ہےاور کہیں بگاڑ رہی ہے۔
کبھی ہم اپنی نگاہ سے دیکھتےہیں، رائےقائم کرتے ہیں۔ یونہی جب کبھی ہم دوسروں کی کیفیت اور حالات میں سےگزرتے ہیں۔ تو پھر خود کو دوسروں کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔ کوئی مجبوری کے تحت سوال کرتا ہے، تو ہم اُس سے حقارت کرتے ہیں۔ جب ہم خود مجبوری میں مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں تو ہمار ااندازِ نگاہ بدل جاتا ہے۔ ہم حالات کے تحت اُس کو درست سمجھتے ہیں۔ یوں ہماری رائے پہ رائےقائم ہوتی ہے۔
جیسا کہ ہر کردار دوسرے کردار سے مختلف ہے۔ اسی طرح ہر کردار کی دوسرے کردار کے بارے میں رائے بھی اُسکی سمجھ کے مطابق ہے۔ جسطرح بھانت بھانت کی بولیاں ہیں، اسی طرح ہر نگاہ کے نکتہ کا اپنا اپنا نقطہ اور اپنا اپنا زاویہ ہے۔ جو سب جُدا جُدا ہیں۔ انسان ہر رشتہ کو مختلف نگاہ (رشتہ کی نگاہ) سےدیکھتا ہے۔ ایسے ہی انسان کو ہر نظر اپنے اپنے رشتہ سے دیکھتی ہے۔ یہی کائنات کا حسن ہے کہ ہر نگاہ کا اپنا ہی نظارہ ہے۔ منظر ایک ہی مگر اُسکا لطف ہر نظار (ناظر کی جمع) کا اپنا ہی ہے۔ یونہی نقطہ نگاہ یکساں نہیں ہو سکتے جیسا کہ مشترکہ مشاہدہ مشترک نہیں ہوسکتا۔
نقطہِ نگاہ ٹھہرتی نہیں ہے۔ بلکہ یہ نظر بڑھتی ہی رہتی ہے۔ ہم زاویوں کی تلاش میں رہتے ہیں، نئے رُخ آشکار ہوتے ہیں۔ وقت کےساتھ ساتھ ایک ہی بات کے نئے نئے پہلو اُجاگر ہوتے ہیں۔ میں نے ہر عام اِنسان کی طرح حضرت یوسف کا واقعہ بھائیوں کی زیادتی ہی جانا۔ جس سےنتیجہ یہ اَخذ کیا صبر کا پھل میٹھا ہے۔ میرے بڑوں نے رہنمائی کی، کنواں میں ڈالا جانا ایک آزمائش تھی، میرے بڑوں نے اپنے بڑوں سے جانا۔ کنواں بدنصیبی نہیں تھا۔ نصیب کا آغاز تھا۔ مجھے فی الوقت یہی سمجھ آیا اللہ پر کامل بھروسہ ہی ایمان ہے۔ کچھ نکتہ جات صدیوں کی مسافت طے کر چکے ہیں اور کرتے ہی رہیں گے۔ اُنکی وسعت کا سلسلہ ہمیشہ چلتا رہےگا۔ جو مسلسل انسان کی رہنمائی کا وسیلہ بھی رہےگی۔ میرا انداز نظر بڑا ہی محدود تھا۔ رہنمائی کرنے والوں نے میری سوچ کو نیا رنگ دیا۔ زندگی کا مشاہدہ نئے راستے کھولےگا۔ یہ ایک نکتہ زندگی بھر مختلف اُوقات ہماری رہنمائی کرتا رہےگا۔ صرف ایک زندگی نہیں۔ صدیوں کی زندگیاں بیت چکی، بیشمار زندگیاں اَن گنت حالات، مختلف الاحوال صورتوں میں بسر ہو رہی ہیں۔ یونہی یہ آب رواں جاری و ساری رہےگا۔ نظریات بدل جاتے ہیں، سوچ بدل جاتی ہے، عقائد بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں۔ اللہ کی رہنمائی باقی رہتی ہے۔ اللہ کی رہنمائی کامل بھروسہ ہے۔
ہرانسان کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے۔ یہی نقطہ نظر ہمارے رویہ طےکرتا ہے۔ ایک شخص کا عِلم سے متعلق نظریہ اُسکی ذاتی وقعت ہے تو کسی کی عِلم کی وسعت۔ یہی سے رویے بدلتے بھی ہیں اوربنتے بھی ہیں، اکثر بگڑتے بھی ہیں۔
آج بیشتر نقطہ نظر حاسد کی بو رکھتے ہیں۔ تبھی ہم کسی کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم نقطہ نظر سے اختلاف کو ذات کا اختلاف بنا لیتے ہیں۔ ہم برے انسان کی برائی سے نہیں، انسان سے نفرت کرتے ہیں۔ نقطہ نظر بد نظر کو بے نظر کرتا ہے، بانظر کو بے نظیر بناتا ہے۔ آج نکتہ سے نقات نکلتے ہیں۔ نقاط میں سے نقاد نقطوں سے نکتے نکال کر لطف کی لطافت کو کثیف بھی کرتے ہیں۔ اور لطیف بھی۔ مایوس خیال مایوسی پھیلاتا ہے، اُمید خوشی کا مظہر ہوتی ہے۔جیسا کوئی چہرہ خوشگوار ہوتا ہے تو کوئی پریشان حال یونہی خیال بھی ہوتے ہیں۔ آج چہروں کی اکثریت پریشان ہے۔ خیال مایوس ہے تو نقطہ نگاہ غصّوں سے بھرپور ہیں۔ فطرت پہ غوروفکر کرنے والی، اذہان میں تازگی و خوشگواری بیدار رکھتے ہیں۔ ایسے مفکر قوموں کو ذہنی خوشحالی میں رکھتے ہیں۔ نقطہ نظر کیا ہے؟ یہ انسان کے اندر کا حالات کے مطابق اظہار خیال ہے۔ نقطہ نگاہ مختلف زاویوں سے دیکھ لینے کی بات نہیں، بلکہ یہ انسان کے فہم کے ادراک اور پھر اعلیٰ ہستیوں کی سمجھ اور فکر کے درجات سے بھی ہوتی ہے۔ اسی کو نگاہ کہاجاتا ہے۔
وردھامنا مہاویر کا بیان کرنے سے متعلق یہ نظریہ تھا کہ ایک سچائی سات طرح سے بیان کی جاسکتی ہے۔
١ سیاد آستی: ہے۔
٢ سیاد ناستی : نہیں ہے۔
٣ سیاد آستی ناستی: ہے اور نہیں ہے۔
٤ سیاد آویکتیا: ناقابل بیان
٥ سیاد آستی آویکتیا: ہے اور ناقابل بیان
٦ سیاد ناستی آویکیتا: نہیں ہے اور ناقابل بیان
٧ سیاد آستی ناستی آویکتیا: ہے، نہیں ہے اور ناقابل بیان
ہر نقطہ نظر ایک خاص پیرائے کے پیرہن کے تحت ہوتا ہے۔ایک نگاہ قبول کرتی ہے۔ تو دوسری ردّ بھی کر دیتی ہے۔ میں اپنےایک مخصوص انداز سے رائے پیش کرتا ہوں۔ آپکا حق ہے مجھ سے اختلاف کرنا۔ نہ صرف اختلاف بلکہ اپنی رائے سے آگاہ بھی کر کے میری دُرست سمت میں رہنمائی بھی فرمانا۔ ہوسکتا ہے میں خیالات کے ایک مخصوص بہاؤ کے دوران آپ سے متفق نہ ہو سکوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ہی کی کوئی رہنمائی گھنٹوں، دنوں کی رہنمائی کے باوجود میں تسلیم نہ کر پا رہا ہو، مگر ایک ہی نسیم [٢] کا جھونکا میرے خیال کو شمیم [٣] کر جائے۔ یوں میں راہ سلیم [٤] پر آجاؤ۔ یہی معاملہ نقطہ نگاہ سے نکتہ نظر ہے۔
نوٹ:
نقطہ (مرکز، صفر) اور نکتہ (باریک بات) میں فرق ہے۔ بہت بڑا فرق۔ ہوسکتا ہے لفظ نقطہ نظر یا نقطہ نگاہ پر اعتراض ہو۔ مگر لغت میں مجھے نکتہ نظر اور نکتہ نگاہ نہیں ملی۔
(فرخ)

توضیح:
[١] ۔ دل سے نکلی ہوئی بات اثر رکھتی ہے۔
[٢] نسیم: ہوا،
[٣] شمیم: خوشبو
[٤] راہِ سلیم: سیدھی راہ

حوالہ جات:
(١)۔ معلوم نہیں یہ کس کا شعر ہے۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.