نذےر ناجی.... مےڈےا کی مقدس گائے !

Submitted by Mudassar Faizi on Sat, 05/02/2009 - 11:51

نذےر ناجی.... مےڈےا کی مقدس گائے !
لےڈر کے سابقہ شمارے مےں صفحہ اول پر اےک تےن کالمی خبر پاکستان کے سےنئر صحافی ، تجزےہ کار اور جنگ کے کالم نوےس نذےر ناجی صاحب کی اےک جوننےر صحافی محمد احمد نورانی، جو جنگ گروپ کے ہی انگرےزی اخبار ”دی نےوز“ سے وابستہ ہےں، کو گالےاں دےنے کے بارے مےں تھی۔ مذکورہ خبر مےں ےہ بتاےا گےا تھا کہ نذےر ناجی صاحب نے اسلام آباد مےں پلاٹ کی الاٹمنٹ کے بارے مےں محمد احمد نورانی کی جانب سے کی گئی فون کال کا بہت برا محسوس کےا اور ان کو گالےاں دےں۔ نہ صرف نورانی صاحب کو گالےاں دےں بلکہ ”فرزند راولپنڈی“ شےخ رشےد اور دی نےوز کے انصار عباسی کو بھی گالےوں سے سرفراز فرماےا۔ خبر مےں ےہ بھی بتاےا گےا تھا کہ مذکورہ آڈےو رےکارڈنگ انٹر نےٹ ”ےو ٹےوب “ پر بھی دستےاب ہے۔ چنانچہ مےں نے ےو ٹےوب پر وہ گالےوں والی آڈےو تلاش کی، وہاں اےک آڈےو نہےں بلکہ گالےوں سے بھرپور تےن اقساط موجود ہےں۔ پہلی رےکارڈنگ اس کال کی ہے جو نورانی نے ناجی صاحب کو کی تھی، جبکہ دوسری اور تےسری رےکارڈنگ ان کالز کی ہےں جو بعدازاں ناجی صاحب نے نورانی کو کےں! بچپن سے لےکر اب تک گھر سے باہر مختلف لوگوں کو گالےاں دےتے سن چکے ہےں لےکن جتنی فصاحت و بلاغت ناجی صاحب نے اپنے اےک ”پےٹی بھائی “ سے بات کرتے ہوئے دوسرے ”پےٹی بھائےوں“کے بارے مےں گالےوں کی صورت مےں بکھےری ہے اس کا تو جواب ہی نہےں۔ ناجی صاحب کے انداز تحرےر اور خےالات سے مجھ سمےت کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے لےکن مجھ ناچےز سمےت کوئی بندہ بھی اےسا نہےں سوچ سکتا کہ اےک ”اتنا بڑا“ لکھاری، جو ملک کے سب سے بڑے صحافتی ادارہ سے منسلک ہو، جس کے پچاس سال صحافت کی ”نذر“ہوگئے ہوں، وہ اتنی فصےح و بلیغ گالےاں دے سکتا ہے، وہ بھی کسی اور کو نہےں اپنے ہی ادارہ کے جونیئر ز کو!
بات ےہےں پر اختتام پذےر نہےں ہوئی بلکہ گوگل گروپس پر ”پرےس پاکستان“ کے نام سے اےک گروپ ہے جہاں پر کسی صاحب نے ان تےنوں آڈےو کالز کے ےو ٹےوب کے لنک دےدئےے، بس پھر کےا تھا پاکستان کا ہر تےسرا صحافی وہاں اپنے بے لاگ تجزئےے شامل کررہا ہے۔ بات تجزےوں تک محدود رہتی تب بھی کسی حد تک ٹھےک تھا کہ اپنے نکتہ نظر کا اظہار کرنا ہر انسان کا حق ہے ! ہوا کچھ ےوں کہ پہلے تو نذےر ناجی صاحب نے جنگ گروپ کے رﺅف کلاسرہ اور دےگر کچھ صاحبان سے اپنی گالےوں بھری ”محبت“ کی معافی مانگی اور اس کے بعد انہوں نے اسی ”پرےس پاکستان“ گروپ کے نام اےک ای مےل تحرےر کر دی جس مےں انہوں نے لکھا کہ وہ پچاس برس سے پاکستان کی صحافتی خدمات سرانجام دے رہے ہےں، وہ مےڈےا مےں سب سے زےادہ ”شرےف“ ہےں، انہوں نے آج تک جتنے بھی بےرونی سفر اعلیٰ حکومتی عہدےداروں کے ہمراہ بھی کئے ہےںوہ اپنے اخراجات پر کئے ہےں، نےز وہ واحد صحافی ہےں جنہےں بھارت کی آنجہانی وزےر اعظم اندرا گاندھی بھی اردو کی خدمات کے عوض اےوارڈ سے نوازچکی ہےں۔ انہوں نے مزےد تحرےر کےا کہ آڈےو رےکارڈنگز جعلی ہےں اور ان کو پاکستان آرمی کے ”بلنڈرز“ اور ان ”بلنڈرز“ مےں جماعت اسلامی کے کردار بارے لکھنے کی وجہ سے نشانہ بناےا جارہا ہے۔ مزے کی بات ےہ ہوئی کہ وہےں اےک صاحب نے دی نےوز مےں چھپنے والی خبر کا لنک دےدےا جس مےں ناجی صاحب نے اپنی فصےح و بلےغ گالےوں کی معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے تھے۔ اس کے بعد بھی ےہ سلسلہ چل رہا ہے اور جناب نذےر ناجی صاحب نے اب وہےں پر اقوام متحدہ کے جنرل سےکرٹری بان کی مون، انٹر نےشنل فےڈرےشن آف جرنلسٹس، انٹرنےشنل اےسوسی اےشن آف جرنلسٹس، پاکستان پرےس فاﺅنڈےشن، دی انٹرنےشنل سنٹر فار جرنلسٹس اور انٹرنےشنل پرےس انسٹی ٹےوٹ کے نام اےک اپےل ”دائر“ کی ہے جس کا سبجےکٹ "Character Assignation of an Eminent Asian Scholar, Philosopher, Thinker & Writer"ہے۔ راقم نے سبجےکٹ جےسا اپےل مےں ہے وےسا ہی انگرےزی مےں دےا ہے تاکہ انگرےزی سے اردو مےں ترجمہ کرتے وقت کسی قسم کا کوئی ابہام نہ رہے اور قارئےن انگرےزی تحرےر اور اس کے سپےلنگ پر بھی غور کرسکےں۔ غالباً ناجی صاحب Assignation کی بجائے Assassination کا لفظ استعمال کرنا چاہتے تھے لےکن چونکہ ان کی ”انگرےزی دانی“ بھی شائد مےرے جےسی ہی ہو اس لئے سپےلنگ مےں غلطی ہوگئی ہو ےا شائد ان کے نزدےک صحےح لفظ ہی Assignation ہو! بہرحال متذکرہ اپےل مےں انہوں نے نہ صرف بڑی خوبصورتی سے اپنی تعرےفوں کے پل باندھے ہےںبلکہ اپنے سابقہ ”پےر و مرشد “مےاں نواز شرےف کی جماعت پاکستان مسلم لےگ (ن) کے بارے مےں بھی اپنے ”محب زرداری“ خےالات کا اظہار کرکے آصف علی زرداری کی حماےت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی ےہ بھی تحرےرفرماےا ہے کہ ےہ ”لفافہ جرنلسٹس“ ہےں ، برےکٹ مےں لکھتے ہےں (Journalist on Government Payroll) ےعنی اےک طرف ےہ دعویٰ کہ ان پر زرداری صاحب کا قرےبی دوست ہونے کی وجہ سے کےچڑ اچھالا جارہا ہے اور دوسری طرف ان کی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہےں کہ ان پر کےچڑ اچھالنے والے گورنمنٹ کے پے رول پر ہےں! نےز مسلم لےگ اور جماعت اسلامی کے بارے مےں لکھتے ہےں کہ ےہ دونوں ”پرو طالبان“ جماعتےں ہےں اور آڈےو ٹےپس جاتی عمرہ اور منصورہ مےں تےار کی گئی ہےں۔ واہ! کےا بات ہے ناجی صاحب کی انفارمےشن کی، کتنی پکی اطلاع ہے ان کی اور کتنے پکے مخبر جنہوں نے انہےں اطلاع دی، اسی لئے اقوام متحدہ کی مدد لےنے جارہے ہےںتاکہ جاتی عمرہ اور منصورہ پر بھی ”ڈرون حملے“ ہوسکےں کےونکہ ان کے بقول مسلم لےگ (ن) اور جماعت اسلامی ”پرو طالبان“ بھی ہےں اور انہوں نے ”اےک جغادری“ اور پاکستان کے سب سے بڑے صحافی کے خلاف آڈےو ٹےپس بھی تےار کی ہےں، ان دونوں مجرموں کو ناجی صاحب برسرعام ”وہ والی “گالےاں تو نہےں نکال سکتے (کےونکہ دونوں کے پاس ان کا علاج موجود ہے) چنانچہ اب ان کی سزا ڈرون حملے ہی ہوسکتے ہےں۔
اب وقت آگےا ہے کہ ہر شخص اور ہر ادارہ کسی اور کو برا بھلا کہنے سے پہلے اپنے گرےبان مےں جھانک کر دےکھے، اگر صحافی جرنےلوں، ججوں، سےاستدانوں اور دےگر شخصےات اور اداروںپر تنقےد کرسکتے ہےں، اگر وہ فوج کے ”بلنڈرز“ کے بارے مےں لکھ سکتے ہےں تو وہ خود کےا اتنے ہی ”پوتر“ اور ”پاک“ ہےں کہ ان کو سوال کرنے والا اےک جونیئر صحافی بھی ان کی ”عالمانہ فصاحت و بلاغت“ سے بھرپور گالےوں سے محفوظ نہےں؟ کےا نذےر ناجی صاحب مےڈےا کی ”مقدس گائے“ ہےں؟ کےا اندرا گاندھی سے اےوراڈ ملنا ”جنتی“ ہونے کا سرٹےفکےٹ ہے کہ اب ناجی صاحب جو دل مےں آئے کرےں، ان کو جنت کا سب سے اونچا اور اعلیٰ مقام لکھ دےا گےا ہے! ہم سب کو تھوڑی بہت شرم تو کرنی چاہئے !

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......