میری ڈگری بھی چیک کروائیے کہیں جعلی تو نہیں

Submitted by Baig on Wed, 07/14/2010 - 11:30

Normal
0

false
false
false

EN-US
X-NONE
AR-SA

/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:"Table Normal";
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-qformat:yes;
mso-style-parent:"";
mso-padding-alt:0cm 5.4pt 0cm 5.4pt;
mso-para-margin-top:0cm;
mso-para-margin-right:0cm;
mso-para-margin-bottom:10.0pt;
mso-para-margin-left:0cm;
line-height:115%;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:11.0pt;
font-family:"Calibri","sans-serif";
mso-ascii-font-family:Calibri;
mso-ascii-theme-font:minor-latin;
mso-fareast-font-family:"Times New Roman";
mso-fareast-theme-font:minor-fareast;
mso-hansi-font-family:Calibri;
mso-hansi-theme-font:minor-latin;
mso-bidi-font-family:Arial;
mso-bidi-theme-font:minor-bidi;}

میری ڈگری بھی چیک کروائیے کہیں جعلی تو نہیں

از۔محمد عثمان قاسمی [email protected]  

اگر مقتدی امام کے پیچھے کھڑا ہو کر بھی امام کی پیروی نہ
کرے تواسکی نماز ٹوٹ جاتی ہے اسی طرح اگر صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے
اتفاق نہ کرے تو حکومت ٹوٹنے کا خطرہ لاحق  ہوجاتا ہے۔ پنجاب حکومت آج کل کچھ ایسی ہی صورت
حال سے دوچار ہے چنانچہ انہوں  حکومت کو
خطرات سے بچانے کیلئے فی الفور ایک حیرت انگیز امن فارمولا وضع کیا ہےجس کی
تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ ذرائع کے مطابق "حکومتی احکامات کی روشنی میں شیڈول
فور میں شامل تمام افراد کو حراست میں لینے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے جن کی
تعداد  صوبہ پنجاب میں چار ہزار کے قریب
ہے"

اس فارمولا کی برکت سے کس قدر امن قائم ہو گا یہ فیصلہ تو
آنے والے وقت پر چھوڑ دیتے ہیں فی الحال فور شیڈول  کا تعارف پیش خدمت ہے کہ یہ کس بلا کا نام ہے ؟

کیو نکہ بندہ بنفس نفیس عرصہ چار سال سے "فور شیڈول
ڈگری "ہولڈر ہے  اور مسلسل اسکے فیوض  وبرکات سے مستفیض ہو رہا ہے چنانچہ اپنے مشاہدات
و تجربات کا خلاصہ پیش خدمت ہے

            فورشیڈول
دہشت گردی ایکٹ 1997 کا شاخسانہ  ہے جو ہر
اس شخص پر عائد کیا جا سکتا ہے "جو افغان ٹریننگ یافتہ ہو۔کسی کالعدم جماعت
کا باقاعدہ رکن  یا عہدیدارہو ۔کسی دہشت
گرد نیٹ ورک کا حصہ ہو۔کسی جہادی تنظیم کیلئے کام کرتا ہو۔ مذہبی منافرت پھیلانے
میں ملوث ہو یا کسی بھی قسم کی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہو"

            اور جب
کسی شخص کا نام فور شیڈول لسٹ کا حصہ بن جاتا ہے 
تو پھر وہ شخص اپنے مقامی تھانے کو اطلاع دئیے بغیر کہیں شہر سے باہر نہیں
جا سکتا ۔یعنی کسی ضرورت کیلئے جانے سے قبل ایس ایچ او سے ویزا لگوانا ضروری ہے ۔
اسکے علاوہ اس شخص کو مسلسل نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔

بعض حالات میں اس کے لئے 
روزانہ تھانہ یاترا (روزانہ حاضری ) ضروری قرار دی جاتی ہے۔ہر چھ آٹھ ماہ
کے بعد 5لاکھ کے ذاتی اور 5
لاکھ کے ضمانتی مچلکے   جمع کروانا بھی
معمولات کا حصہ ہے۔اور سب سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ "اوپر کے آرڈر
"کے بعد اس شخص کے پاس بچاؤ کیلئے کوئی چارہ کار نہیں ہوتا کیونکہ پولیس کی
گھر تشریف آوری پر آنجناب کو گھر موجود ہونے کی صورت میں بغیر وارنٹ۔ بغیر مقدمہ
۔بغیر جرم بتلائے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اگر موصوف بد قسمتی سے گھر دستیاب نہ
ہو سکیں تو زیارت نہ کروانے کی پاداش میں دہشت گردی  ایکٹ کی دفعہ 11-EE کے تحت مقدمہ درج کردیا جا تا ہے ۔

یہ تو تھا فور شیڈول اور اسکی برکات کا مختصر تذکرہ

اب پڑھئیے میری کہانی کہ میرا نام کیسے اس لسٹ کا حصہ بنا ؟

۱۹۹۸ کی بات ہے کہ جب میری عمر صرف 17 سال تھی اورمیں جامعہ
قاسمیہ فیصل آباد میں دینی تعلیم حاصل کرتا تھا  ان دنوں مدرسہ کے مہتمم  حضرت مولانا محمد ضیأ القاسمیؒ حیات تھے(جو اس
وقت سپریم کونسل سپاہ صحابہ ؓ پاکستان کے چئرمین 
ہونے کے ساتھ ساتھ تا دم آخر اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بھی رہے اور
اتحاد بین المسلمین کیے لئے ان کی مساعی تاریخ کا زریں باب ہیں )

مولانا ضیأالقاسمی ؒ سے بندہ کو قرآن مجید کی تفسیر پڑھنے
کی سعادت حاصل ہوئی۔اسی دوران حضرت قاسمیؒ نے بندہ کو اپنی خدمت کے لئے منتخب
فرمایا۔میں نے حضرت استاد کی خدمت کو بحیثیت شاگرد اپنی ذمہ داری اور سعادت سمجھا۔
کبھی حضرت کو بروقت دوائی کھلا دی کبھی بازار سے کوئی ضرورت کی چیز لا کر دیدی
وغیرہم ۔  لیکن عام طور پر جو کام حضرت مجھ
ناچیز سے لیتے وہ یہ تھا کہ حضرت مولانا ضیأ القاسمیؒ  اپنے اخباری بیانات اپنے لیٹر پیڈ پرخود مجھے
لکھوا دیتے اور میں اس کے آخر میں خانہ پوری کے لئےپریس سیکرٹری کے طور پر اپنے
دستخط کر کے اخبارات کے دفاتر میں دے آتا ۔مجھے کیا خبر تھی کہ میرا یہ دستخط کرنا
اتنا بڑا جرم ہے کہ ایک دن اسکی برکت سے مجھے فور شیڈول کی اعزازی ڈگری سے نواز
دیاجائے گا۔حیرت تو سرکاری فرشتوں کی پھرتیوں پر ہے کہ نامعلوم ان کے ہاں اخباری
بیان جاری کرنا بھی جرم ہے۔اور اگر ایسی بات ہےتو بڑا مجرم کون ہے ؟ بیان لکھوانے
والا یا کتابت کر کے اخبارات کو دینے والا؟

  جہاں تک حضرت
قاسمیؒ سے علمی اور خادمانہ نسبت کی بات ہے تو یہ تعلق میرے لئے سرمایہ افتخار اور
اثاثہ حیات  تھا ہے اور رہے گا انشااللہ۔

بہر حال خدمت قاسمیؒ کا یہ سلسلہ تقریباً دو سال تک جاری
رہا ۳۱ دسمبر۲۰۰۰ٔکو حضرت مولانا ضیأ القاسمی ؒ کا انتقال ہو گیا اور خدمت کا
سلسلہ وہیں ختم ہو گیا۔میں نے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ۲۰۰۲ میں دورہ حدیث
شریف کر کے باقاعدہ سند یافتہ مولوی بن گیا الحمد للہ۔

اسکے بعد اپنی محلے کی مسجد میں  امامت خطابت 
کے فرائض سر انجام دینے لگا۔حضرت قاسمی ؒ کی وفات کے 6 سال بعداچانک سرکار
کونامعلوم کیا یاد آگیا کہ 28 اکتوبر 2006 کوفور شیڈول کے فارم بھیج دئیے ۔آئی
بلا کو ٹالنے کی بہت کوشش کی مگر بدقسمتی سے سرکاری دھوکہ دہی کا شکار ہو گیا
۔فارم پر دستخط کروانے کیلئے یہ کہا گیا کہ اگر آپ کا دامن صاف ہے تو اشٹام پر
اپنی صفائی لکھ کر سرکار کو مطمئن کرنے میں کیا حرج ہے۔

چنانچہ لمبا چوڑا فارم پر کروایا گیا جس کے کوائف پر کرتے
وقت خود سرکاری اہلکار حیران ہو رہے تھےکہ یہ کیسا دہشت گرد ہے جو سائیکل پر سواری
کرتا ہے موٹر سائیکل  تک چلانا نہیں جانتا
۔اس کے نام کوئی زمین جائیداد نہیں ۔کسی تھانے میں اس کا کوئی سابقہ ریکارڈ
نہیں۔اس نے کبھی کوئی اسلحہ نہیں چلایا نہ ہی کبھی اسلحہ چلانے کی ٹریننگ حاصل
کی۔تاحال ملک سے باہر قدم رکھنے کی سعادت سے محروم ہے۔نمازیں پڑھاتا ہے جمعہ کا
خطبہ دیتا ہے۔صبح شام بچوں کو قرآن مجید پڑھاتا ہے۔نامعلوم ان میں  سےکون سی بات دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے ؟

 میں نے بھی سوچا
"ہاتھ کنگن کو آرسی کیا"مرتا کیا نہ کرتا۔ اپنے ہاتھوں اس پھندہ
نماقانون پردستخط کردئیے۔ پھر کیا کچھ ہوا چھوڑئیے یہ ایک طویل قصہ ہے۔گھریلو
حالات مشکلات و مصائب ۔خوف وہراس ۔بوڑھے والدین کی پریشانی ۔ اسکے بعد سے اب تک
سرکار کی  لطف وعنایات کا سلسلہ پیہم جاری
وساری ہے۔اصولی فیصلہ اوپر آپ پڑھ ہی چکے ہیں ۔۔۔

؎اتنا
جرم نہ تھا جتنی سزا  ملی

متعد د مرتبہ آفیسران کے سامنے بیان حلفی دیا کہ بندہ کا
کسی کالعدم یا دہشت گرد تنظیم یا ملک دشمن سر گرمیوں سے کوئی تعلق کبھی تھا۔  نہ ہے۔  نہ ہو گا۔۔

مقامی تھانہ کی اب تک کی ماہانہ  رپورٹیں اس بات کی گواہ ہیں  اس بندے سے امن کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ شخص
فور شیڈول کی مکمل پابندی کر رہا ہے…

ایک بار اوپر کے آرڈر پر فور شیڈول کی خلاف ورزی کا
پرچہ  درج کیا گیا  ۔بندہ نے انسداد دہشت گردی کی ڈویژنل عدالت میں
پیش ہو کر کیس کا سامنا کیا ۔بالآخر فیصلہ میں فاضل عدالت نے نہ صرف بندہ کو جھوٹے
الزام سے با عزت بری کر دیا گیا بلکہ یہ بھی تسلیم کیا عدالت کے روبرو ملزم کا کسی
کالعدم تنظیم سے تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا ۔

میرے اوپر کسی قسم کا کوئی کیس کسی عدالت میں زیر سماعت
نہیں ۔کسی تھانہ میں میرے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں۔تھانہ میں میرا کوئی
خطرناک ریکارڈ نہیں۔

لیکن اس سب کے با وجود بندہ کا نام فور شیڈول لسٹ کی زینت
ہے۔ ہے کوئی بندہ ٔ خدا جو میری جعلی ڈگری پہ نظر ثانی کرے شاید ری چیکنگ کے مرحلے
میں بندہ کو"فور شیڈول کی اس ڈگری" کا حقدار نہ ہونے کی وجہ سے "اس
ڈگری " سے محرومی کا تمغہ  عنایت ہو
سکے۔جو دیکھے کہ کہیں میرےنام بھی بلا استحقاق یہ ڈگری جاری تو نہیں ہو گئی۔اگر
ایسا ہے تو میں ہزار شکریہ کے ساتھ یہ ڈگری واپس کرنا چاہتا ہوں۔ہے کوئی راستہ
واپسی کا؟؟؟

کاش کوئی رات ایسی بھی  آئےکہ جب میں
اپنے بستر پر لیٹ کر یہ محسوس کروں کہ الحمد للہ میں نہ صرف اپنی ،اپنے معاشرے کی۔اپنی
قوم کی بلکہ اپنے ملک کی نظر میں بھی ایک پرامن اور محب وطن شہری ہوں۔

asalam o alaikum.
hazrat bohat khushi hoi ap ka article read kar k.
Allah ap k elm o amal main or barkat dalay.
or ap ko har shar se mehfoz rakhay.
MUHAMMAD UMAR QASMI.
FAISALABAD

A.A
I Have read complete article i appreciate you dear your article very interested
i hope next article more interested than article

Regards,
Muhammad Ayyaz,
LAHORE

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......