مہنگائی، بے روزگاری اور مشرف کا احتساب

Submitted by muneeb ahmed sahil on Sat, 11/21/2009 - 13:37

سوچ جب عمل سے دور ہو جائے تو یہ بیماری بن جاتی ہے ،یہ بیماری اگر کسی قوم کو لگ جائے تو اس قوم میں تعمیراتی صلاحتیں ختم ہو جاتی ہیں اور پوری قوم مستقبل کی پیش بندی کرنے کے بجائے آپس میں دست و گریباں ہوتی ہے اور معاشرے میں افراتفری اور درہم برہم صورتحال موجود رہتی ہے ، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”سوچ”دراصل ہے کیا؟ انسان جب کوئی چیز دیکھتا ہے تو اسے دیکھ کر اس کے اندر کچھ خیالات اور احساسات جنم لیتے ہیں اور خیالات کی پختگی کو ہی سوچ کہا جاتا ہے ،آئیے اس سوال کو دوسرے انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”اگر کسی چٹان پر ہمیشہ ہوا کے جھکڑ وار کرتے رہیں اور اس پر ژالہ باری ہوتی رہے تو رفتہ رفتہ وہ ٹوٹ جاتی ہے اس کی شکل بدل جاتی ہے لیکن وہ اپنی جگہ قائم رہتی ہے ،جبکہ کوئی جاندار کیڑا بھی آرام دہ جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں خراب موسم میں وقت گزارا جاسکے ،نباتات بھی اپنے طور پر اپنی حفاظت کرتے ہیں ،مگر پھر بھی انسان کے سوا ہر جاندار ہستی میں ارد گرد میں ہونیوالی تبدیلی پر صیح ردعمل کرنے کی صلاحیت محدود ہے ،خشکی پر رہنے والا کوئی بھی جاندار جب زیر آب آتا ہے وہ مر جاتا ہے ،لیکن انسان غوطہ خوری کے ایسے لباس استعمال کر سکتا ہے جس کے اندر آکسیجن کی ٹنکیاں لگی ہوئی ہوں اور وہ پانی میں بھی رہ سکتا ہے، گرم علاقوں میں رہنے والے جانور قطب شمالی میں تھوڑی مدت بھی نہیں رہ سکتے ،لیکن انسان جو کبھی قطب شمالی نہ گیا ہو ایسے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے بڑی اچھی طرح تیار ہو سکتا ہے ،جبکہ انسان کو جسمانی ساخت کے اعتبار سے اچھی طرح محفوظ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ نہ وہ گرم بالوں والی کھال رکھتا ہے ،نہ تیز ناخن،نہ نوکیلے دانت ،انسان کو یہ برتری اس لئے حاصل ہے کہ وہ صورتحال کا تجزیہ کر سکتا ہے اپنے اردگرد ہونیوالے واقعات پر اپنے خیالات اور احساسات کی بدولت غور کرتا ہے اور جب اس کا خیال پختہ ہوجائے تو اسے سوچ کہا جاتا ہے ،قدیم اور جدید دور کے انسان کے قیالات اور احساسات میں زمین آسمان کا فرق ہے ،قدیم انسان نے ٹھوس تمثیلوں کو فطرت کی علامت سمجھ کر فطرت کا ایک نظام بنانا شروع کر دیا تھا ،قدیم یونانی نے دیوتائوں کا ایک نظام مرتب کیا ان کا ہر ایک دیوتا کسی نہ کسی انسانی سرگرمی کی تجسیم ہے ،پان مویشیوں کے گلوں پر نگاہ رکھتا تھا ،ہرمیس تجارت کی سرپرستی کرتا تھا دیمیتر زرخیزی اور زراعت کی دیوی تھی ،ہیرا شادی بیاہ کی سرپرست تھی ،وغیرہ وغیرہ۔ یونان میں جمہوریت کے قیام کے بعد ہر چھوٹی ریاست کے اپنے قوانین تھے جو بری حد تک دیوتائوں کے اقتدار و دستور پر تکیہ کرتے تھے ،قدیم یونانی فلسفیوں نے ان قوانین کو دیافت کرنے کی کوشش کی تھی ،چیزوں کے درمیان عام رشتے کا اظہار قیاسات کی شکل میں کرتے ہوئے ہیرا قلیطس نے یہ خیال ظاہرہ کیا کہ دنیا واحد ہے کیونکہ اس کی بنیاد میں ایک شے ”آگ” واحد ہے جو بڑے پیمانے پر جلتی ہے اور بڑے پیمانے کے مطابق بجھتی ہے ،تھیلیز نے دنیا کی بنیاد پانی کو سمجھا ۔اناکسی مینڈر نے ہوا کو اور اسی طرح کائنات کے بارے میں سوچتے ہوئے دیموقریطس نے دنیا کی واحد ابتداء کے طور پر چھوٹے چھوٹے متحرک ذرات کو اہمیت دی جنہیں جدید سائنس ایٹم کہتی ہے ، سقران نے یونانی قوانین کو دیوتائوں کی مرضی کا حوالہ دینے کے بجائے عقلی دلیلوں پر پرکھنے کی کوشش کی ،سقراط نے اس بات پر زور دیا کہ ”ہم صرف اپنی شہری ریاستوں کے اراکین نہیں بلکہ سارے انسانی معاشرے کے اراکین ہیں ،اور صرف اینتھز یا اسپارٹا کے نہیں بلکہ کائنات کے شہری ہیں”۔ سقراط نے عقل کو رسم و رواج سے بلند تر، ”اپنے دیوتائوں” کے سامنے خوف سے بلند تر قرار دیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سقراط پر تنقید ہوئی اور اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ میں بھی تبدیلی آئی ،پرانے کی جگہ نیا آجانا فطرت،سماج اور تفکر کے ارتقاء کی اہم خصوصیت ہے ،دنیا میں تبدیلی ایک معین سمت ہوتی ہے ،ہم ننگ دھڑنگ وحشی نہیں کہ جب کا کوئی ماضی نہیں جو ایسے جنگل میں آن پہنچے ہیں جہاں پہلے سے کوئی انسان نہیں آیا تاکہ ”انتخاب” کر سکیں ۔تاریخ وجود رکھتی ہے اور ہم اس کے بتائے ہوئے راستے کے ایک مقام پر کھڑے ہیں ،یہ وہ اسپرنگ بورڈ ہے جو ہمیں آگے جانے میں مدد دیتا ہے مگر آج ہاری سوچ عمل سے دور ہے اس لئے ہم ایک جگہ کھڑے ہیں ، ملک بھر کی فضائوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے پرویز مشرف کے 3نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دینے کی،اور پی سی او ججز کو غیر آئینی قرار دینے کی سدا اب تک گونج رہی ہے ،اہل دانش کا کہنا ہہے کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا گیا ہے ،لیکن مجھے یہ لگ رہا ہے کہ نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کے بجائے اسے دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے کیونکہ پرویز مشرف کے جاری کردہ تمام آرڈیننس بمشمول این آر او جو کہ اپنی مدت پوری کر چکے تھے انہیں دوبارہ سے نیا کر دیا گیا اور اس کے لئے پارلیمنٹ کو 3ماہ کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ قانون سازی کر کے مشرفی آرڈیننسز کو آئین کا حصہ بنا سکتی ہے ۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر جس نے ملک کا آئین پامال کیا ،ملکی معشیت اور اداروں کو نقصان پہنچایا ،اپنے ہی ملک پر فوج کشی کی ،اسے باقاعدہ گارڈ آف آرنر دے کر ملک سے رخصت کرنے کی بات عوام کو بیوقوف بنانا اور بنیادی مسائل کی طرف سے ان کا دھیان بٹانا ہے ،آج بھی مشرف کے رخصت ہونے کے ڈیڑھ سال بعد بھی پالیسیاں وہی عوام کش ہیں ،سپریم کورٹ میں آج بھی پی سی او ججز بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے 2000ء کے مشرفی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا لیکن چونکہ اس وقت خود حلف اٹھایا تھا اس لئے 2000ء کے مشرفی اقدامات ملک و قوم کی فلاح کیلئے تھے اور 3نومبر 2007کے کو چونکہ جسٹس افتخار اینڈ کمپنی نے خود حلف نہیں اٹھایا تھا اس لئے اس پی سی او پر انہیں اعتراز ہے ۔اور وہ اسے غیر قانونی قرار دے چکے ہیں لیکن اس کے باوجود قابل ذکر امر یہ ہے کہ پی سی او کے بعد جاری ہونیوالے تمام آرڈیننسز کو جسٹس افتخار نے دوبارہ زندہ کر کے مشرف کے 3نومبر 2007ء کے اقدامات کی توثیق کر دی ہے۔
آج ملک میں مہنگائی میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کو نان شبینہ کا محتاج کر دیا ہے ،لوڈ شیڈنگ کے سبب صنعتیں بند ہیں ،نظام تعلیم عملا تباہ ہو چکا ہے ،قوم میں لسانیت اور فرقہ واریت کا زہر پھیل چکا ہے مگر آج بھی کسی کو عوام کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینے کیلئے فرصت نہیں ہے حکمران اور سیاستدان مشرف کا احتساب اور جج تماشے سے عوام کو بیوقوف بنا کر داد وصول کر رہے ہیں اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بھاڑے کے ٹٹو کا کردار ادا کر کے ڈالر سمیٹ رہے ہیں ،اج ہم پاکستان کو خوشحال بنانے کا سوچ رہے ہیں اور نعرے بھی لگا رہے ہیں ،مگر چونکہ ہماری سوچ عمل سے دور ہو چکی ہے اس لئے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے صرف سوچ سکتے ہیں ،حالات کو دیکھنا، اس پر غور کرنا لیکن اسے بدلنے کی کوشش نہ کرنا بیمار قوموں کی نشانی ہے۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......